پاکستان سمیت آج پوری دنیا میں ملیریا کا عالمی دن منایا جارہا ہے جس کا مقصد اس مرض سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے اہم اقدامات اٹھانے کے ساتھ ساتھ اس مرض سے بچاو¿ کیلئے شعور بھی اجاگر کرنا ہے۔
پاکستان میں 2010ءکی نسبت 2011ءکے دوران ملیریا کے مرض میں 21 فیصد کمی ہوئی تاہم اسی دوران ڈینگی کے مرض میں مبتلا افراد کی تعداد میں 215 فیصد اضافہ ہوا اور ایسے مریضوں کی تعداد 7 ہزار سے تجاوز کرکے 22 ہزار تک پہنچ گئی۔
جبکہ اسی عرصے کے دوران مرض سے ہونے والی ہلاکتوں میں 930 فیصد اضافہ ہوا اور تعداد 35 سے بڑھ کر 360 ہوگئی۔
عالمی ادارہ صحت کی جانب سے ملیریا کے مرض کو کنٹرول کرنے میں خاطر خواہ کامیابی حاصل ہوئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ گزشتہ عشرے کے دوران ملیریا کے شکار ہونے والے مریضوں کی تعداد میں 50فیصد جبکہ اس مرض سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں 25فیصد کمی ہوئی اور خصوصاً افریقی ممالک میں اموات33فیصد کم ہوگئیں۔
گزشتہ عشرے کے ابتدائی سالوں میں عالمی سطح پر ملیریا سے ہونے والی اموات 8لاکھ سے تجاوز کرچکی تھیں جبکہ عشرے کے اختتام پر یہ تعداد کم ہوکر 6لاکھ تک ہوگئی یہی وجہ ہے کہ 2010ء کے دوران دنیا میں ملیریا سے 6لاکھ 55/ہزار افراد ہلاک ہوئے جبکہ 21کروڑ 60لاکھ افراد مرض کا شکار ہوئے۔ دوسری جانب گزشتہ عشرے کے دوران دنیا میں ڈینگی کے مرض میں 100فیصد اضافہ ہوا اور تعداد ساڑھے 8لاکھ سے بڑھ کر 17لاکھ 37ہزار ہوگئی۔