کلاسیکل موسیقی کے دیو مالائی شخصیت استاد بڑے غلام علی خان انیس سو دوءکو لاہور میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد علی بخش کا تعلق ہندوستانی کلاسیکل موسیقی کے پٹیالہ گھرانے سے تھا،تاہم استاد بڑے غلام علی خان اس خاندان میں موسیقی کے سب سے بڑے گلوکار بن کر ابھرے۔
بڑے غلام علی خان صاحب کو چھ برس کی عمر سے ہی گلوکاری سے عشق ہو گیا تھا جو 66 برس کی عمر تک جاری رہا۔انہوں نے ہندوستانی کلاسیکل گلوکاری میں جدت پیدا کی اورایک نئی طرز متعارف کروائی جسے پٹیالہ قصور اسٹائل سے تعبیر کیا جاتا ہے۔دھروید اور بہرام خانی گائکی میں انہیں کمال حاصل تھا۔ اس کے علاوہ راگ بہنگ، خیال، ایک تال، درت، راگ درباری اور راگ ملہار پر بھی انہیں دسترس حاصل تھی۔ تقسیم ہند کے بعد وہ لاہور میں ہی رہ گئے تھے۔لیکن ایک پولیس انسپکٹر نے جب ان کی توہین کی تو وہ اس قدر دل برداشتہ ہوکر بھارت چلے گئے، جہاں انہیں انیس سو باسٹھ میں انکی خدمات پر بھارتی حکومت نے سنگیت ناٹک اکیڈمی ایوارڈ اور پدما بھوشن ایوارڈ سے نوازا۔اسی دور میں انھوں نے فلم مغل اعظم کیلئے دوگانے گائے۔
پچیس اپریل 1968ءکو کلاسیکل میوزک کا بے تاج بادشاہ حیدر آباد میں حرکت قلب بند ہونے کے باعث انتقال کر گیا۔
انہیں کلاسیکل موسیقی کے تما سر ،تالوں اور راگوں پر جو دسترس حاصل تھی وہ انکے ہم عصر استاتذہ بھی کبھی حاصل نہ کر سکے۔یہی وجہ ہے کہ انہوں نے جو راگ گا دیا اس کی حیثیت مسلم اور مستند ہو گئی اور انہیں استاد اعظم کے اسم سے نوازا گیا۔