Malala’s Hometown Not Disappointed about Missing Nobel – ملالہ یوسفزئی اور نوبل انعام

رواں برس نوبل امن انعام کیلئے سب سے پسندیدہ امیدوار ہونے کے باوجود ملالہ یوسفزئی اس قابل قدر ایوارڈ سے محروم رہیں، ملالہ کو اس اعزاز کیلئے لڑکیوں کی تعلیم کیلئے خدمات پر اس ایوارڈ کیلئے نامزد کیا گیا تھا۔ملالہ کے آبائی علاقے یعنی وادی سوات میں اس حوالے سے لوگوں کا ردعمل جانتے ہیں آج کی رپورٹ میں

یہ مینگورہ کا خوشحال پبلک اسکول ہے جہاں ملالہ یوسفزئی پڑھا کرتی تھی، مگر آج یہ خاموش ہے، اسکول کا عملہ اور پولیس سیکیورٹی وجوہات کی بناءپر یہاں کسی کو باہر کھڑے نہیں ہونے دیتے۔

محمود الحسن ملالہ کا کزن ہے، وہ اس اسکول کے لڑکوں کے حصے میں بطور منتظم کام کرتا ہے، اس کو ابھی معلوم ہوا کہ ملالہ نوبل انعام جیتنے میں ناکام رہی ہے۔

محمود”ہمارے لئے نوبل امن انعام سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ملالہ بات کرسکتی ہے، دیکھ سکتی ہے، پڑھ سکتی ہے اور زندہ رہ کر اپنا مشن آگے بڑھاسکتی ہے”۔

وہ نوبل انعام نہ ملنے پر زیادہ اپ سیٹ نہیں۔

محمود”ملالہ کو اس پوزیشن کے حصول کیلئے یہاں مشکلات، مسائل اور دیگر معاملات کا سامنا کرنا پڑا، اچھے لوگ اس کی کوششوں اور مشن کو سراہتے ہیں، جبکہ منفی سوچ رکھنے والے افراد اس پر الزامات عائد کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے کام کے منفی پہلو ڈھونڈنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، ہر شخص کو اپنی رائے رکھنے کا حق حاصل ہے، ہم انہیں اس سے نہیں روک سکتے”۔

اسکول ڈائریکٹر امجد علی ملالہ کو نوبل انعام نہ ملنے پر مایوس ہیں۔

امجد”ملالہ نے دیگر افراد کے مقابلے میں زیادہ قربانیاں دیں، اسے متعدد دھمکیاں ملیں مگر وہ اپنے فیصلے اور لڑکیوں کے بارے میں بات کرنے کے مشن پر قائم رہی، اس مقصد کیلئے اس کے سر میں گولی ماری گئی، تو میں بہت اپ سیٹ ہوں کہ ملالہ کو یہ اعزاز حاصل نہیں ہوسکا،مگر ایک استاد کی حیثیت سے سے میں کہہ سکتا ہوں کہ اسکا مشن اور بہادری اس انعام سے زیادہ اہم ہے”۔

ملالہ کو گل مکئی کے نام سے طالبان دور کے تجربات لکھنے پر عالمی شہرت ملی تھی، اسے گزشتہ برس طالبان نے فائرنگ کرکے زخمی کردیا تھا۔ملالہ نے متعدد قومی اور بین الاقوامی ایوارڈز اپنی مہم کے دوران جیتے مگر اسکے اپنے علاقے میں تمام لڑکیاں اس سے متاثر نہیں۔

سپنا گل میٹرک کی طالبہ ہے اسکا اسکول ملالہ کے اسکول سے زیادہ دورہ نہیں۔

سپنا”میرے خیال میں ملالہ نے لڑکیوں کی تعلیم کیلئے کوئی قابل قدر کام نہیں کیا، میرا تعلق سوات سے ہے اور میں نے تو اس کے کسی اہم کام کو نہیں دیکھا۔ میں جانتی ہوں کہ وہ ایک ڈائری لکھتی تھی اور میڈیا کو انٹرویو وغیرہ دیتی رہی ہے میں اس کو سراہتی بھی ہوں، مگر نوبل امن انعام بہت بڑا ایوارڈ ہے اور میرا نہیں خیال کہ یہ انعام کسی کو چند صفحات لکھنے یا چند انٹرویوز پر دیا جاسکتا ہے”۔

ملالہ اس وقت برطانیہ میں مقیم ہے، اس نے حال ہی میں اپنی کتاب آئی ایم ملالہ متعارف کرائی ہے، جس میں لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے اس کی جدوجہد اور طالبان کے حملے میں بچنے کے حوالے سے بتایا گیا ہے۔دنیا بھر میں یہ تیزی سے فروخت ہورہی ہے، مگر گھر میں یہ معاملہ بالکل الٹ ہے۔

سجاد خان مینگورہ میں ایک کتابوں کی بڑی دکان کے مالک ہیں۔

سجاد”طالبان نے دھمکی دی ہے کہ وہ ملالہ کی کتاب فروخت کرنے والی دکانوں کو نشانہ بنائیں گے، یہی وجہ ہے کہ میں یہ کتاب فروخت نہیں کرسکتا، طالبان بہت طاقتور ہیں اور وہ سب کچھ کرسکتے ہیں، تو میں خطرہ مول نہیں لے سکتا، یہ واحد کتاب ہے جس پر طالبان نے پابندی لگارکھی ہے”۔

تاہم میڈیکل کے طالبعلم یاسر شریف پوری وادی میں اس کتاب کو تلاش کررہے ہیں۔

یاسر”اس نے نہ صرف سوات بلکہ پاکستان کا نام بھی روشن کیا ہے، وہ ایک مثالی شخصیت بن چکی ہے جو تعلیم سے محبت کرتی ہے”۔

سوات کے متعد شہری اب بھی کھلے عام ملالہ اور اس کی کوششوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے گھبراتے ہیں، مگر کالج کے طالبعلم حسن خان ہرجگہ اسے سراہتا ہے۔

حسن”ملالہ نے خود کو ایک بہادر لڑکی ثابت کیا ہے، وہ بدترین حالات میں بھی عسکریت پسندوں کیخلاف بولتی رہی، وہ اس انعام کی مستحق تھی مگر میں اسے یہ انعام نہ ملنے پر مایوس نہیں، نوبل انعام ملنے سے اس کی پاکستان میں لڑکیوں کیلئے تعلیم کی جدوجہد ختم ہوسکتی تھی، اب وہ نہ صرف لڑکیوں بلکہ ہماری تعلیم کیلئے بھی سخت محنت کرے گی، مجھے یقین ہے کہ وہ مستقبل میں اپنے کام پر یہ انعام جیتنے میں ضرور کامیاب ہوگی”۔