ایک نئی امریکی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں انٹرنیٹ کی آزادی پر پابندیاں لگی ہیں، ایک عالمی ادارے فریڈم ہاﺅس کے مطابق ساٹھ ممالک میں کی گئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکومتی پابندیوں کے باوجود عوام کی جانب سے مزاحمت بھی بڑھی ہے، اسی بارے میں سنتے ہیں اسی ادارے کی تجزیہ کار میڈے لائن ایرپ کا انٹرویوآج کی رپورٹ میں
ایرپ”فریڈم ہاﺅس نے ساٹھ ممالک میں تحقیق کرکے یہ رپورٹ مرتب کی، جس میں یہ بات سامنے آئی کہ انٹرنیٹ پر سب سے زیادہ پابندیاں چین، کیوبا اور ایران میں عائد ہیں، جہاں انٹرنیٹ کے متعدد معاملات سمیت رسائی تک پر حکومتی کنٹرول بڑھا ہے، مگر ہمیں توقع ہے کہ دیگر ممالک میں ایسی پابندیوں کی بجائے زیادہ آزادی فراہم کی جائے اور اس حوالے سے رواں برس آئی لینڈ اور ایسٹونیا بہترین ممالک ثابت ہوئے ہیں”۔
سوال”اپنے نظرئیے کے بارے میں ذرا تفصیل سے بتائے، آپ نے کن بنیادوں پر انٹرنیٹ کی آزادی کا تعین کیا؟
ایرپ”یہ بہت پیچیدہ طریقہ کار ہے، اسے تین مرکزی حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، تاکہ ہم انٹرنیٹ کا تاریخی تناظر میں جائزہ لے سکے، پہلی بات تو یہ ہے کہ کس طرح کسی ملک میں لوگوں تک انٹرنیٹ کی رسائی آسان بنائی جائے، اس کی قیمت کیا ہو یا کاروباری ماحول کیسا ہو۔دوسری چیز یہ اہم ہے کہ کس طرح کا مواد شیئر کیا جاتا ہے اور کس حد تک دستیاب ہے، اس طرح حکومتی سنسر شپ پر قابو پانے کیساتھ ساتھ شہریوں کی شیئرنگ تک رسائی کے ذریعے سیاسی شعور بڑھائی جاسکتی ہے، تیسرا حصہ صارف کے حقوق پر مشتمل ہے، ایسے ممالک جہاں لوگ انٹرنیٹ کے استعمال پر جیل جاسکتے ہیں یا انہیں بھاری جرمانوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، ان مسائل کو اس حصے میں شامل کیا گیا ہے”۔
سوال” آپ کے خیال میں جدید ٹیکنالوجی جاسوسی یا نگرانی جیسی سرگرمیوں کیلئے استعمال ہوسکتی ہے؟
ایرپ”میرے خیال میں یہ مسئلے کا حصہ ہے کہ کس قدر آسان اور تیزرفتاری سے آن لائن لوگوں کی جاسوسی کی جاسکتی ہے، میرے خیال میں ٹیکنالوجی کے حوالے سے نئے قوانین پر کام ہوا ہے، یہی وجہ ہے کہ متعدد حکومتیں اس نئی ٹیکنالوجی کا فائدہ اٹھارہی ہیں”۔
سوال”اور رپورٹ میں انٹرنیٹ کنٹرول پر بھی بات کی گئی ہے، جمہوری حکومتوں کی جانب سے کس حد تک پابندیاں یا نرمی اختیار کی جاتی ہے؟
ایرپ”یہ ایک اچھا سوال ہے، ہم نے دس مختلف قسم کے کنٹرولز کا جائزہ لیا ہے، جن کا اطلاق دنیا کے بیشتر حصوں میں کیا جارہا ہے، ایشیا میں چین اور ویت نام اس حوالے سے بدنام ہیں، چین ٹیکنالوجی میں کافی آگے ہے اور وہ اہم الفاظ کو بھی سنسر کرسکتا ہے، جنھیں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر لکھا جاتا ہے، اور اس طرح صارفین پر بہت زیادہ پابندیاں لگا دی گئی ہٰں اور ان کی سرگرمیوں کو مجرمانہ قرار دیا گیا ہے، ویت نام میں دیکھا جائے تو تیس افراد کو اب تک انٹرنیٹ سرگرمیوں پر مقدمات کا سامان ہے، تو یہ ایسی دورخی حکمت عملہ ہے جس کے ذریعے آپ ایک ہاتھ سے غیرقانونی مواد کو کنٹرول کرتے ہیں اور رسائی ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کو ہدف بنانے کی کوشش کی جاتی ہے جو ان اصولوں کی خلاف ورزی کی کوشش کرتے ہیں”۔
سوال”ملائیشیاءکے سول سوسائٹی گروپس انٹرنیٹ خصوصاً سوشل میڈیا سائٹس استعمال کرتے ہیں، تاکہ عوامی مذاکراے کا اہتمام کیا جاسکے، جس سے پہلے لوگ محروم تھے، کیا یہ عالمی رجحان نہیں بن چکا؟
ایرپ”جی ہاں یہ عالمی رجحان بن چکا ہے، اور آپ کی بات ٹھیک ہے کہ یہ ایک مثبت پہلو ہے جو ہماری تحقیق کے دوراجن سامنے آیا، صرف ملائیشیاءنہیں بلکہ متعدد ممالک خصوصاً جنوبی مشرقی ایشیاءمیں انٹرنیٹ پر لوگوں کو بات کرنے کا آزادانہ موقع ملا ہے، کیونکہ ان ممالک میں روایتی میڈیا پر سخت کنٹرول ہوتا ہے،رابطے کے اس نئے ذریعے سے لوگوں کو ایک نیا موقع ملا ہے کہ وہ شہریوں کی آواز بلند کرسکیں۔ میرے خیال میں اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ حکومتیں ایسے نئے قوانین منظور نہ کرسکیں جس کے ذریعے وہ ان سرگرمیوں کو روکنے کی کوشش کرسکیں، ہمیں کئی ممالک جیسے فلپائن وغیرہ میں حوصلہ افزاءاشارے ملے ہیں، جہاں سائبر کرائم قانون کے خلاف عوام نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی اور عدالت نے اس قانون کو معطل کردیا۔ اب زیادہ بہتر کام یہ ہوگا کہ ایسے قوانین کو منظور ہی نہ ہونا دیا جائے، اگر تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جائے تو حتمی مسودے میں غاضبانہ اقدامات شامل ہی نہیں ہوسکیں گے”۔
سوال”مگر یہاں ایشیاءمیں ایسی حکومتیں موجود ہیں جو سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کی آزادی کے خلاف اقدامات کررہی ہیں؟
ایرپ”یہ بات ٹھیک ہے، جیسے میں چین اور ویت نام کا تذکرہ کرہی چکی ہوں، مگر ہم نے ایسے ممالک بھی دیکھیں ہیں جو سوشل میڈیا کو ہدف بنانے کی کوشش کررہے ہیں،رواں برس بھارت کا اضافہ حیرت انگز ثابت ہوا، اس عالمی سروے میں بھارت کا نام ابھر کر سامنے آیا ہے، کیونکہ وہاں ایسے قوانین بنائے جارہے ہیں جن کے ذریعے سوشل میڈیا صارفین کو ہدف بنایا جا رہا ہے، لوگوں کو اپنے فیس بک کمنٹس یا ٹیویئٹر پیغام پر بھی پولیس کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ایسے قوانین کے ذریعے سیاسی سرگرمیوں کو روکا نہیں جاسکتا، بلکہ اس سے صرف انٹرنیٹ استعمال کرنے والے عام افراد کو ہی پریشان کیا جاسکتا ہے”۔