(Making divorce a lot easier in India) بھارت میں طلاق کا عمل آسان بنانے کی کوشش

(India divorce bill) بھارت طلاق بل

 

بھارت میں شادی کے بعد طلاق کا حصول کافی مشکل کام ہوتا ہے، تاہم اب حکومت نے ہندو میرج لاءکو تبدیل کرکے آسان بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

 

38 سالہ بملا دیوی نئی دہلی کے ایک اسکول میں پڑھاتی ہیں۔ انھوں نے شادی کے ساڑھے تین سال بعد اپنے شوہر سے اس وقت طلاق لینے کا فیصلہ کیا، جب ان کو اپنے شوہر کے معاشقے کا پتا چلا۔ انھوں نے طلاق اور اپنی بیٹی کی پرورش اپنے ذمے لینے کی درخواست دائر کی، تاہم چھ سال بعد بھی وہ عدالتی فیصلے کی منتظر ہیں۔

بملا دیوی(female) “میں نے ہر ممکن کوشش کی ہے مگر میرے شوہر اور سسرالی رشتے داروں نے مجھے اس جبری رشتے سے آزاد نہیں کیا۔ اس چیز نے میری زندگی کو منجمد کرکے رکھ دیا ہے، میں کچھ نہیں کرسکتی، میں اپنی بیٹی کے بہتر مستقبل کو یقینی بنانا چاہتی ہوں مگر ان حالات میں تو میں اس بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی”۔

اسی طرح نئی دہلی کی ایک عدالت میں طلاق کے ایک مقدمے کا فیصلہ تیس برس بعد ہوا۔ شانتی ورما اس مقدمے میں شوہر کی وکالت کرتی رہیں۔

شانتی ورما(female) “جو کام ایک دن میں ہوسکتا تھا اس پر زندگی کے تیس برس ضائع کردیئے گئے۔ تیس برس کی شادی کے بعد تو اکثر افراد کے ہاں تو پوتے پوتیاں بھی ہوجاتے ہیں، مگر میرے موکل اب دوبارہ غیر شادی شدہ شخص بنے ہیں”۔

ہندو مذہب کی تعلیمات میں شادی کو انتہائی مقدس درجہ قرار دیا گیا ہے اور اس میں طلاق کا کوئی تصور موجود نہیں۔ تاہم بھارتی قوانین میں مخصوص وجوہات پر طلاق کا حق دیدیا جاتا ہے، مگر موجودہ قوانین کے تحت یہ بہت محدود سطح پر ہوتا ہے اور اپنا موقف عدالتوں میں ثابت کرنا عام طور پر مشکل ثابت ہوتا ہے۔انوپما سنگھ کا کہنا ہے کہ یہ تباہ کن رجحان ہے۔ وہ ایک این جی او بھارتی خاندان بچاﺅ سے تعلق رکھتی ہیں، جو خاندانی یکجہتی اور جنسی مساوات کیلئے کام کررہی ہے۔

سنگھ(female) “آج کل شادیوں کے بعد بہت سے مسائل پیدا ہوتے ہیں، جس کی وجہ ایک دوسرے کے ساتھ مطابقت پیدا نہ ہونا ہے۔ اس وقت آبادی کا چھوٹا سا حصہ ہی شادیاں ختم کرنے میں کامیاب ہوپاتا ہے ، جس کی وجہ ایک دوسرے سے بے وفائی، جنسی امراض یا ذہنی امراض ہوتے ہیں، موجودہ قوانین کے تحت ان ہی وجوہات کو ٹھوس مانا جاتا ہے۔ مگر ہم ابھی بھی عدم مطابقت کو بطور عنصر نہیں لیتے، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہم اس وقت طلاق لینے میں کامیاب نہیں ہوپاتے، جب تک میں اپنے شوہر یا اس کے خاندان کیخلاف جعلی الزامات ثابت نہیں کردیتی۔ بھارت میں طلاق لینے کا واحد راستہ یہی ہے”۔

مگر اب حکومت اس قانون کو تبدیل کرنے کی خواہشمند ہے۔بھارتی کابینہ نے گزشتہ ماہ ایک ہندو میرج ایکٹ میں انتہائی اہم ترامیم کی منظوری دی ہے، جس میں طلاق لینے کیلئے نئی وجوہات کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ انوپما سنگھ اس حوالے سے اظہار خیال کررہی ہیں۔

سنگھ(female) “شادی کے مکمل خاتمے کی شق کا مطلب ہے کہ ایسی صورتحال جس سے میاں بیوی کے اکھٹے رہنے کی صورت میں مرد یا عورت کو جسمانی، ذہنی یا جذباتی طور پر نقصان پہنچنے کا خدشہ ہو “۔

مجوزہ ترامیم کے مطابق شوہر یا بیوی ان وجوہات کی بناءپر طلاق لے سکیں گے، تاہم عدالتیں بیوی کو زیادہ ترجیح دینے کی پابند ہوں گی۔ خواتین گروپس نے مجوزہ ترامیم کا خیرمقدم کیا ہے، تاہم انکا کہنا ہے کہ حکومت کو مزید بہتر اقدامات کرنے چاہئے۔ رنجنا کماری Centre for Social Research کی ڈائریکٹر ہیں۔

رنجنا کماری(female) “خواتین تنطیمیں اسی اور نوے کی دہائی سے marital property کی مساوی تقسیم کا مطالبہ کررہے ہیں، اورحکومت نے اپنے حالیہ فیصلے میں یہ چیز عدالتوں پر چھوڑ دیا ہے کہ خواتین کو کیا کچھ ملے گا۔ یہ انصاف نہیں، کیونکہ شادی کے بعد مرد و خواتین ایک دوسرے کے برابر آجاتے ہیں”۔

مجوزہ ترامیم میں ایک اہم چیز طلاق سے قبل چھ ماہ تک کا وقت دیا جانا ہے، تاکہ ناراض جوڑوں کو صلح کرنے کا موقع مل سکے، Malvika Raj معروف عائلی وکیل ہیں۔

 (female) Malvika Raj “طلاق انتہائی جذباتی معاملہ ہوتا ہے اور کئی بار تو جوڑے ایک دوسرے کو برداشت کرنے کیلئے تیار بھی نہیں ہوتے۔ تو یہ چھ ماہ کا وقفہ بچوں کیلئے تو اہم ہوسکتا ہے، تاکہ مالی طور پر دیکھا جاسکے کہ ان کی پرورش کا کیا انتظام کیا جائے ۔ میں نے دیکھا ہے کہ طلاق کے مقدمات کے دوران ان انتظامات کے حوالے سے کافی کشیدگی پیدا ہوجاتی ہے۔ تو اس چھ ماہ کے عرصے کے دوران ان معاملات کو حل کیا جاسکتا ہے جو کہ میرے خیال میں تو انتہائی اہم ہے”۔

کچھ گروپس نے انتہائی سختی سے ان ترامیم کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے خاندانوں کی ٹوٹ پھوٹ بہت زیادہ بڑھ جائے گی۔ راکیش سنہا دہلی یونیورسٹی میں تاریخ پڑھاتے ہیں۔

سنہا(male) “یہ قانون شادی اور طلاق کے بارے میں معاشرے کے خیالات کی عکاسی نہیں کرتا۔ طلاق کو ہمارے معاشرے میں اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ ہم اسے سماجی طور پر عزت نہیں دے سکتے، اگر ہم اس قانون پر عمل کرنے لگے تو یہاںشادیاں کمزور بنیادوں پر ہر ہفتے ہی ٹوٹ جایا کریں گی، جس سے ہمارے معاشرے پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ ہمیں لوگوں کا شادی کے مقدس بندھن پر اعتماد پھر سے بحال کرنا ہوگا، اور اس بندھن کو اپنے ہاتھوں کے تباہ کرنے سے روکنا ہوگا”۔

تاہم انوپما سنگھ کا کہنا ہے کہ تبدیلیاں موجودہ دور کی ضرورت ہے۔

سنگھ(female) “کسی بھی قانون میں تبدیلی اس وقت آتی ہے جب اس کا مطالبہ کیا جانے لگتا ہے، اس سے معاشرے میں آنے والی تبدیلیوں کی عکاسی ہوتی ہے۔ صرف حکومت نے نہیں بلکہ سپریم کورٹ نے بھی ان تبدیلیوں کی تجویز دی تھی، کیونکہ عدالت جانتی ہے کہ کتنے مقدمات درج ہوتے ہیں اور کتنے عرصے تک ان کی سماعت چلتی رہتی ہے۔ اسے معلوم ہے کہ یہ عمل کسی شخص ، خاندان اور ان کے پیاروں کیلئے کتنی تکلیف کا سبب بنتا ہے”۔

ان ترامیم کی حتمی منظوری پارلیمنٹ دے گی، جس کے بعد اس پر عملدرآمد شروع ہوجائیگا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس قانون کو رواں پارلیمانی سیشن کے دوران پیش کیا جائیگا۔ آخر میں واپس بملا دیوی کی جانب چلتے ہیں، جو اپنی اور اپنی بیٹی کی زندگی کے نئے موڑ کے آغاز کا جشن منارہی ہیں۔

بملا دیوی(female) “اب تک یہ سفر لگتا تھا کہ کبھی ختم نہیں ہوگا مگر اب میں جانتی ہوں کہ مجھے طلاق مل کر رہے گی، اور اس خیال نے مجھے خوش کردیا ہے”۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *