Laughing Your Way to Good Health – ہنسی بہتر صحت کی ضمانت

ہنسی کو دنیا کا سب سے بہترین علاج مانا جاتا ہے اور بھارت میں کچھ ڈاکٹرز کا ماننا ہے کہ ہنسی کئی بیماریوں کے علاج میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ 1998ءمیں ڈاکٹر ڈاکٹر مادان کترینانے عالمی لافٹر یوگا موومنٹ کی بنیاد رکھی تھی، جبکہ اب 65 ممالک میں ایسے چھ ہزار لافٹر کلب موجود ہیں۔ہر سال مئی میں ہنسی کا عالمی دن بھی منایا جاتا ہے، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

اس وقت جے پور کے سینٹرل پارک میں صبح کے چھ بجے ہیں۔

صبح کی خاموشی کا تار ہنسی کی آوازوں سے ٹوٹ گیا ہے، یہ لوگ ہنسی کا عالمی دن منانے کیلئے یہاں جمع ہوئے ہیں۔ انہیں ایس وی دیو نامی شخص شخص ہنسنے کا فن سیکھا رہا ہے۔

دیو”اس قسم کی یوگا ورزشیں جنھیں ہنسی کا پٹاخہ بھی کہا جاتا ہے، سے لوگوں کو گہری سانس لینے، انہیں روکنے اور ریلیز کرنے کا موقع ملتا ہے۔ اپنے منہ میں غبارے کی طرح ہوا کو محسوس کریں گے، اس ہوا کو جس حد تک ہوسکے اپنے اندر جذب کریں اور پھر اچانک خارج کردیں”۔

پہلے بھارتیھسیام لافٹر کلبکے بان آر ڈی بہتی اپنے ساتھیوں کا ہنس کر استقبال کررہے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ لوگوں شروع میں اسے مضحکہ خیز سمجھتے ہیں۔

بہتی”کچھ لوگوں کا تو یہ خیال بھی ہوتا ہے کہ مجھے نفسیاتی مسائل کا سامنا ہے اور مجھے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے، مگر میں امید ختم نہیں کرتا اور اپنی بیوی کے ساتھ کام جاری رکھتا ہوں، اب ہمارے کام کو 43 سال ہوچکے ہیں اور اس شہر کے 29 لافٹر کلبوں میں ہمارے پاس ہزاروں اراکین ہیں”۔

ہنسی کا یہاں بہت سنجیدہ لیا جاتا ہے اور یہاں تک کہ بہترین ہنسی کے مقابلے بھی ہوتے ہیں۔ ایسے ہی ایک مقابلے میں پہلا گروپ بچوں کا میدان میں اترا ہے۔

جینیفر راجو ریا پانچ سالہ بچی ہے، جبکہ چار سالہ پوجا ہنسنے کی کوشش تو کررہی ہے مگر بس مسکرا کر ہی رہ جاتی ہے، تاہم سات سالہ مایانک تلوار کھلے دل سے ہنس رہا ہے۔

ایشور لعل مردوں کے مقابلے کا آغاز کررہا ہے۔

درگا پرساد کسی چڑیل کی طرح ہنس رہا ہے۔

سریش کمار بھیا نے مردوں کے مقابلے میں سب سے بہترین ہنسی کا مطاہرہ کیا۔

سریش”میں ایک سال سے ممبئی ہسپتال مین زیرعلاج تھا اور وہاں بھی نرسیں میرے پاس آکر ہنس کر دکھاتی تھیں، جس کے جواب میں، میں بھی مسکراتا تھا۔ بھگوان کی مدد سے اب میں بالکل ٹھیک ہوچکا ہوں اور یہ میری دوسری زندگی ہے، اور اس کا مقصد ہی یہ ہے کہ ہنسی بہت ضروری ہے”۔

لکشمی صاب کو ٹا کی ہنسی نے دوسرا انعام اپنے نام کیا۔

کوٹا”ہنسی میرے اندر سے ابھرتی ہے، میں یہ ایوارڈ حاصل کرکے بہت خوش ہوں”۔

کچھ ڈاکٹرز جیسے ڈاکٹر ہری سنگھ سولنکی بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ ہنسی سے حقیقی طبی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔

ہری”ہنسی دماغ کو ایک ہارمونانڈورفن کی تحریک دیتی ہے، یہ ہارمون ہمیں خوش رکھتا ہے، اس ہارمون سے جسمانی درد میں کمی کا احساس ہوتا ہے، جبکہ متعدد امراض کا بھی علاج ہوتا ہے۔ آج تناﺅ اور فکر متعدد امراض کی جڑ ہے، جس کا علاج ہنسی سے ممکن ہے”۔
راجھستان کی سابق لافٹر کوئین سندھیا پوروہت بھی اس بات کو مانتی ہیں۔

سندھیا”میں نے دس سال بیڈ پر رہ کر گزارے ہیں، میں مفلوج ہوچکی تھی اور میرے لافٹر کلب کے تمام اراکین نے میرے لئے بہت اچھا ماحول تخلیق کیا، وہ میرے سامنے بیٹھ کر ہنستے تھے، انھوں نے ہنسی کے ذریعے میرے خیالات کو مثبت انداز میں تبدیل کیا، وہ میرے لئے بہت اچھا وقت تھا، آج میں بالکل ٹھیک ہوچکی ہوں اور میرے کلب کے تمام اراکین میرے ساتھ ہیں”۔