انڈونیشیاءمیں دوران زچگی خواتین اور بچوں کی اموات کی شرح جنوب مشرقی ایشیاءمیں سب سے زیادہ ہے، وزارت صحت نے اس مسئلے پر قابو پانے کیلئے مفت زچگی مراکز قائم کرنے کا منصوبہ شروع کیا ہے، جس کے لئے شناختی کارڈ دکھانا لازمی قرار دیا ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
انتیس سالہ ترییانی ایک گھریلو ملازمہ کی حیثیت سے کام کرتی ہیں، جب وہ حاملہ ہوئیں تو ان کے بوائے فرینڈ نے انہیں چھوڑ دیا،ریرییانی کی مالکہ تیتو ردو انہیں مشرقی جاوا کے علاقے جمبنگ کے ایک سرکاری ہسپتال میں لے گئیں۔
تیتی”جبترییانی لیبر روم میں چلی گئی تو میں انتظامیہ سے جاکر ملی۔اس وقت ایک عہدیدار نے کہا کہ مریضہ شادی شدہ نہیں ہے، جس پر میں نے کہا کہ تو کیا وہ جمپرسال اسکیم کی اہل نہیں رہی؟”
جمپر سال ایک حکومتی پروگرام ہے جو دو سال قبل شروع ہوا تھا، اس پروگرام کے تحت تمام حاملہ خواتین کو بچے کی پیدائش کی مفت سہولت تربیت یافتہ طبی اہلکاروں کے ذریعے فراہم کی جائے گی۔ تاہم اس کے لئے قومی شناختی کارڈ لازمی ہوگا۔
تیتی “ہم لوگوں کے درمیان میری ملازمہ کی ازدواجی حیثیت پر کچھ دیر تک بحث ہوتی رہی، پھر میں نے کہا کہ میں اس معاملے کو اعلیٰ عہدیدار کے پاس لے جاﺅں گی، اس کے بعد ان لوگوں نے ہمیں تریانی کیلئے جمبنگاسکیم استعمال کرنے کی اجازت دیدی”۔
ترییانی واحد خاتون نہیں، مشرقی جاوا کے ایک اور شہر میں زیادتی کا نشانہ بننے والی ایک طالبہ کو بھی اس حکومتی پروگرام تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، اس کے والدین نے مقامی حکومت کو ایک درخواست دی، جس کے بعد اس طالبہ کو ہسپتال میں داخل کیا گیا، تاہم حکومت کا اصرار ہے کہ غیرشادی شدہ خواتین کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا جارہا۔ایچمد اسکندر محکمہ صحت سے تعلق رکھتے ہیں۔
اسکندر”ہمیں عوام، پارلیمانی اراکین یا این جی اوز کی جانب سے ایسی شکایات موصول نہیں ہوئیں، جس میں کہا گیا ہو کہ حاملہ خواتین کو ہسپتالوں میں داخلہ دینے سے روک دیا گیا ہو، ہر حاملہ خاتون اس پروگرام تک رسائی کیلئے اہل ہے”۔
مگر تفصیلی گائیڈلائنز نہ ہونے کی وجہ سے متعدد خواتین کو ہسپتالوں میں مناسب نگہداشت فراہم نہیں کی جاتی یا انہیں رقم ادا کرنا پڑتی ہے۔ سناون نے اپنے بیوی کے ایسے ہی کیس میں ڈیڑھ سو ڈالرز ادا کئے تھے۔
سوناون”میں اپنے بیوی کیلئے جمپرسال استعمال کرنا چاہتا تھا، مگر میرے پاس پرانا شناختی کارڈ تھا، جس کے مطابق میری شادی نہیں ہوئی تھی۔ اس کارڈ کو دیکھ کر ہسپتال انتظامیہ نے کہا کہ میں اس اسکیم کیلئے نااہل ہوں، مجھے پہلے اپنا شناختی کارڈ دوبارہ بنوانا پڑے گا، مگر جب میں واپس ہسپتال آیا تو انکا کہنا تھا کہ مجھے بہت تاخیر ہوگئی ہے اور اب مجھے اپنی بیوی کی زچگی پر آنے والاے اخراجات ادا کرنا ہوں گے”۔
آن انشوری، ایک این جی اوجمبنگ سول سوسائٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔انکی تجویز ہے کہ حکومت کو ایک شکایتی ہاٹ لائن قائم کرنی چاہئے۔
آن”اس وقت اس اسکیم کیلئے کوئی ہاٹ لائن موجود نہیں، اگر لوگوں کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا ہو، تو وہ کس سے شکایت کریں گے؟ ہم ایسے افراد کو کچھ ہسپتالوں کے ڈائریکٹرز اور محکمہ صحت کے عہدیداران کے نمبرز دے کر مدد کرنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر یہ اسی وقت ہوتا ہے جب کوئی شخص براہ راست ہم سے رابطہ کرے”۔
اسکیم کا بنیادی مقصد خواتین و بچوں کی اموات کی شرح میں کمی لانا ہے، تاہم اس اسکیم کے دو سال بعد بھی ناقدین کا دعویٰ ہے کہ اس مقصد میں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوسکی ہے۔ انڈونیشیئن مڈواﺅز ایسو سی ایشن کی عہدیدار سبرینا دویپری ہارتتینی کے خیال میں اس اسکیم کا اطلاق پہلے اور دوسرے بچے کی پیدائش تک ہی ہونا چاہئے۔
سبرینا”ہمیں اس پروگرام پر نظرثانی کی ضرورت ہے، کیونکہ ہمیں زچگی کے دوران اموات کی شرح میں کوئی کمی نظر نہیں آرہی، یہاں متعدد حاملہ خواتین ہیں جو اس پروگرام سے مستفید ہورہی ہیں، مگر ان خواتین کے متعدد بچے ہیں ، اگر یہ خواتین مرنے سے بچنا چاہتی ہیں تو انہیں خاندانی منصوبہ بندی کا خیال کرکے حاملہ ہونے سے بچنا چاہئے”۔