پاکستان کے قبائلی علاقہ جات میں جہاں شرح خواندگی نہ ہونے کے برابر ہے جدید سہولیات کا فقدان ہے ایسے میں سب سے زیادہ افسوس ناک یہاں کا جرگہ سسٹم اور اسکے تحت سنائی جانے والی غیر قانونی سزائیں ہیںاس حوالے سے کئی واقعات اب سے پہلے بھی سامنے آچکے ہیں حال ہی کوہستان میں ایسا ہی واقعہ سامنے آیا ہے بتایا جاتا ہے کہ شادی کی تقریب میں رقص کرنے کے جرم میںواجب القتل قرار دے کر 5لڑکیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیاجبکہ اس تقریب کی وڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں چند خواتےن کو تالیاں بجاتے اور دو لڑکوں کو رقص کرتے دکھایا گیا ہے۔جرگہ پختون ثقافت کا حصہ سمجھا جاتا ہے اور قبائلی علاقوں میں زیادہ تر مقدمات کا فیصلہ علاقائی سطح پر جرگے کے تحت کیا جاتا ہے اس سے قبل بھی ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جب جرگہ سسٹم کے تحت سنائے گئے فیصلون کو انسانی حقوق خصوصاً خواتین اور اسکے ساتھ ساتھ اقلیتی برادریوں کے استحصال کے مترادف قرار دیا گیا تھا۔
جرگہ سسٹم کے تحت سنائی جانے والی غیر قانونی سزاﺅں خصوصاً حالیہ کوہستان کیس کا سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے تمام واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے اس سلسلے میں خصوصی ٹیمیں بھی مذکورہ علاقے میں بھیجی گئیں جن میں انسانی و سماجی حقوق کی کارکن فرزانہ باری اور رفعت بٹ بھی شامل تھیںجن کا کہنا ہے کہ مذکورہ خواتین کو قتل کی سزا سنائی گئی لیکن یہ تمام خواتین زندہ ہیں:
دوسری جانب وڈیو میں رقص کرتے دکھائی دینے والے لڑکوں بن یاسر، گل نذرکے بھائی افضل کوہستانی کا کہنا ہے کہ جرگے کے تحت سنائے گئے ظالمانہ فیصلے کے تحت اِن تمام خواتین کو ذبح کر دیا گیا ہے،اس تمام واقعے کو میڈیا میں لانے والے افضل کا کہنا ہے کہ ُانکی جان کو بھی خطرہ ہے:
مذکورہ واقعے میں کتنا سچ ہے اور کتنا جھوٹ، فوٹیج جعلی ہے یا اصلی،سزا پانے والی خواتین زندہ ہیں یا پھر انھیں قتل کر دیا گیا ہے تاحال اس بارے میں کوئی رپورٹ سامنے نہیں آئی ہے،لیکن کوہستان جانے والی ٹیم میں شامل فرزانہ باری کا کہنا ہے کہ کوہستان سمیت دیگر قبائلی علاقوں میں خواتین کے خلاف فتویٰ دینے اور غیر قانونی سزائیں سنانے کا رجحان عام ہے جسکی حوصلہ شنکی ہونی چاہئیے:
اس نوعیت کے واقعات سے پاکستان کا امیج بین الاقوامی سطح پر بری طرح متاثر ہوا ہے اس بارے میںاقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کا کہنا ہے کہ کوہستان واقعہ خواتین کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے جبکہ انھوں نے جرگہ سسٹم اوراسکے تحت سنائے جانے والے فیصلوں کو غیر آئینی قرار دیا،دوسری جانب ہزارہ ڈویژن اور کوہستان ضلع کے سرکاری افسران ابتدا سے ہی اس واقعے کی تردید کر رہے ہیں، اس بارے میں صوبہ خیبر پختون خوا ہ کے وزیر اطلاعات میاں افتخار کا کہنا ہے :
یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ تحقیقات کیلئے کوہستان جانے والی ٹیم سے اصل حقائق چھپائے گئے ہیں اس بارے میں سماجی کارکن رفعت بٹ ایڈووکیٹ کے مطابق معاملات واضح کرنے کیلئے اس علاقے کا دورہ کرنا ضروری ہے، جبکہ اس کیس کی سماعت20 جون تک ملتوی کر دی گئی ہے اوراعلیٰ عدلیہ کی جانب سے نامزد کردہ کمیشن کی سربراہ ایڈیشنل سیشن جج صوابی منیرہ عباسی اس علاقے کا دورہ کرنے کے بعد سپریم کورٹ کو رپورٹ پیش کریں گی۔اس تما م واقعے کے خلاف نہ صرف ملک بھر میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے بلکہ لوگ حقائق بھی جاننا چاہتے ہیں ،ایک ہی ملک میں واقع ریاست کے قوانین کے تحت آنے والے ایک علاقے میں خواتین کو محض ایک تقریب میں تالیاں بجانے کے جرم میں سرعام قتل کر دیا گیا۔۔۔یہ نہ صرف افسوس ناک اور دلخراش واقعہ ہے بلکہ انسانی و سماجی حقو ق پر ایک سوالیہ نشان بھی ہے جبکہ اس تمام واقعے کے حوالے سے آنے والے متضاد بیانات اور مسائل کی نشاندہی کے بجائے حقائق کو چھپانے کی کوششیں عام آدمی کو یہ سوچنے پر مجبور کر رہی ہیںکہ آخر سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا۔۔۔اگر یہ واقعہ جھوٹ پر مبنی ہے تو اِسکی وجہ سے ملک بھر میں پھیلنے والی سنسنی خیزی کا ذمے دار کون ہے اور اگر یہ واقعہ سچا ہے توایک سوال سب ہی کے ذہنوں میں چکرارہا ہے کہ ۔۔۔کیاہمارے ہاں جنگل کا قانون رائج ہے؟؟؟؟؟