پاکستان سمیت آج دنیا بھر میں خون کا عطیہ دینے والے افراد کی خدمات کو سراہنے کا عالمی دن” ہر خون دینے والا ہیرو ہے” کے عنوان کے تحت منایا جارہا ہے،, جس کا مقصد عالمی سطح پر دوسروں کی زندگیوں کو بچانے کے لیے خون کے عطیات دینے والے افراد کی خدمات کو سراہنے کے ساتھ ساتھ خون کے زیادہ سے زیادہ عطیات دینے کے لیے شعور کو بھی اجاگرکرنا ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی جسم میں گردش کرنے والے خون میں سرخ ذرات کی عمر نوے دن تک ہوتی ہے جبکہ پلیٹ لیٹس کی عمر چند دن، اس کے بعد یہ ذرات نئے بنتے ہیں۔ ایک صحت مند شخص تین ماہ بعد خون عطیہ کرسکتا ہے اور اس کا کوئی نقصان بھی نہیں۔
دنیا میں ہر سال 9کروڑ 20 فیصد خون کے عطیات حاصل کیے جاتے ہیں جس کا نصف ترقی یافتہ ممالک سے حاصل کیا جاتا ہے جہاں دنیا کی صرف 15 فیصد آبادی مقیم ہے۔
پاکستان میں 10 سے 20 فیصد خون کے عطیات پروفیشنل ڈونر سے حاصل کیے جاتے ہیں۔ ملک میں صرف 5فیصد بلڈ بینکس رجسٹرڈ ہیں جبکہ 95 فیصد غیرقانونی حیثیت سے قائم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میںانتقال خون سے خطرناک بیماریاں پھیل رہی ہیں۔
ملک میں کل بلڈ بینکس کا 46 فیصد پنجاب، سندھ 10 اور 6فیصد خیبر پختون خوا میں ہیں۔ پاکستان میں ہر سال 6ہزار سے زائد بچے تھیلیسیمیا ، ہیموفیلیا اور دیگر خون کے حوالے سے ہونے والی بیماریوں کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں اور ایسے بچوں کو ماہانہ 21ہزار صاف خون کے بیگزکی ضرورت ہوتی ہے جس کو پورا کرنے کے لیے مختلف غیرسرکاری تنظیمیں نہ صرف رضاکاروں کا سہارا لیتی ہیں بلکہ انہیں مختلف کیمپس بھی لگانے پڑتے ہیں۔