کمبوڈیا میں انٹرنیٹ کا استعمال بڑھ رہا ہے اور لوگ ویب سائٹس کو ہر قسم کے مسائل کے اظہار کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ تاہم اب حکومت نے سائبر قوانین کے ذریعے یہ آن لائن آزادی ختم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔
یوٹیوب کی اس وڈیو میں Boeung Kak Lake نامی علاقے میں مقیم افراد کے بچے اپنی ماﺅں کی گرفتاری پر روتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ ان خواتین کو گزشتہ ماہ گھروں سے جبری انخلاءکیخلاف پرامن احتجاج کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ سینکڑوں افراد نے اس وڈیو کو دیکھا اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس جیسے فیس بک پر گرما گرم بحث شروع ہوگئی۔
انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والے ادارے LICAHDO نے اس واقعے کی متعدد تصاویر، وڈیوز اور رپورٹس فیس بک پر شائع کیں اور مظاہرین کے خلاف پولیس کے مظالم پر روشنی ڈالی، مگر کمبوڈین حکومت کا مجوزہ سائبر قانون نافذ ہونے کے بعد ایسا ممکن نہیں ہوسکے گا۔Pong Cheavkech، LICAHDO کی صدر ہیں۔
(female) Pong Cheavkech “مجھے حکومت کی نیت کا تو اندازہ نہیں، مگر میں نے دیگر ممالک میں دیکھا ہے کہ اس طرح کے قوانین کے ذریعے لوگوں کی اظہار رائے کی آزادی کو محدود کردیا جاتا ہے”۔
انٹرنیٹ کا استعمال کمبوڈیا میں بہت زیادہ عام نہیں، مگر اس رجحان میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ حقیقی اعدادوشمار تو دستیاب نہیں تاہم 2009ءکی عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق کمبوڈیا کی اعشاریہ پانچ فیصد آبادی انٹرنیٹ استعمال کرتی ہے، تاہم ایک اندازے کے مطابق گزشتہ سال اس تعداد میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔ شہروں جیسے Phnom Penh اور Siem Reap میں انٹرنیٹ کی رسائی آسان ہوئی ہے اور نیٹ کیفے اور اسمارٹ فونز کے صارفین بڑھے ہیں۔ حکومت سائبر قانون کو جلد از جلد منظور کرانا چاہتی ہے اور حکومتی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس قانون کا مقصد بیمار سوچ پھیلانے والے گروپس یا افراد کو غلط معلومات پھیلانے سے روکنا ہے، اور قومی مفادات کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ Cheam Yeap حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمنٹ ہیں۔
(male) Cheam Yeap “ہم لوگوں کی جانب سے غلط معلومات پھیلانے کا سلسلہ روکنا چاہتے ہیں، ہم انہیں روکنا چاہتے ہیں، ایسا نہ ہوا توہمارا معاشرہ اور ثقافت متاثر ہوسکتی ہے۔ متعدد ممالک میں اس طرح کے قوانین متعارف کرائے گئے ہیں”۔
تاہم کمبوڈیا میں اس نئے قانون کے اطلاق سے قبل ہی آن لائن صارفین کے خلاف حکومتی کریک ڈاﺅن جاری ہے، فروری 2011ءکو ایک معروف اخبار Phnom Penh Post نے ایسی سرکاری ای میلز شائع کیں جس میں حکام کی جانب سے انٹرنیٹ کمپنیوں کو حکومت مخالف مواد سنسر کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ حکومت کی جانب سے اس ہدایت کی تردید کی گئی مگر کمبوڈین ہیومین رائٹس سینٹر کے مطابق حکام نے یہ حکم جاری کیا تھا۔ کمبوڈیا میں اخبارات اور ریڈیو عموماً حکمران جماعت کی ہدایات پر کام کرتے ہیں، تاہم آن لائن فورمز میں حکومت پر تنقید کی جاتی ہے۔Ou Virak کمبوڈین ہیومین رائٹس سینٹر کے صدر ہیں۔
(male) Ou Virak “نوجوانوں میں انٹرنیٹ کا استعمال بڑھ رہا ہے، انٹرنیٹ اظہار رائے کی آزادی کا ذریعہ بن چکا ہے، اس کے ذریعے ہر قسم کی معلومات تک رسائی ممکن ہوگئی ہے جبکہ لوگ آزادانہ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں”۔
28 سالہ Narith فیس بک کے صارف ہیں۔
(male) Narith “اگر حکومت نے یہ قانون منظور کیا تو میرے خیال میں اس طرح وہ اپنے مظالم جیسے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں یا گھروں سے جبری انخلاءوغیرہ کو عوام سے چھپانے کی کوشش کرے گی”۔
Narith اس مجوزہ قانون پر تشویش کا اظہار کررہے ہیں۔
(male) Narith “مجھ جیسے نواجوانوں کواب انٹرنیٹ پر اپنے خیالات کا اظہار کرنے میں ڈر محسوس ہوتا ہے۔ یہاں متعدد افراد اور اداروں کو عدالتوں کے ذریعے اپنے خیالات کا اظہار کرنے پر ملزم ٹھہرایا جاچکا ہے۔ جب یہ قانون منظور ہو جائے گا تو لوگوں کا خوف مزید بڑھ جائے گا”۔