(Kashmir’s Divided River)کشمیر کا منقسم دریا

پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کا مسئلہ تقسیم ہند کے بعد سے چلا آرہا ہے، جس کے بعد چھ دہائیوں بعد بھی سرحد کے دونوں جانب موجود افراد کا اپنے خاندانوں سے ملنا بہت مشکل کام سمجھا جاتا ہے۔تاہم یہ خاندان دریائے نیلم کے دونوں کناروں پر جمع ہوتے ہیں

وادی کشمیر میں اس وقت صبح کا آغاز ہوا ہے، چالیس سالہ وحید بٹ آزاد کشمیر کی وادی Keran میں دریائے نیلم کے کنارے کھڑا ہے۔ یہ دریا آزاد اور مقبوضہ کشمیر کے درمیان سرحد ہے اور وادی Keranکا علاقہ دونوں اطراف پھیلا ہوا ہے۔ وحید کی پیدائش مقبوضہ کشمیر کے گاﺅں میں ہوئی تھی اور وہ 1990ءکی دہائی میں ہجرت کرکے پاکستان آیا تھا۔

وحید بٹ(male) “میرا پورا خاندان تاحال مقبوضہ کشمیر میں مقیم ہے، آپ دریا کے اس کنارے سے مقبوضہ وادی میں موجود ہمارے گھر اور زمینیں دیکھ سکتے ہیں، میرا گھر گرا دیا گیا ہے اور اب وہاں بھارتی فوج کی چیک پوسٹ ہے۔ انھوں نے ہماری آبائی سرزمین پر ناجائز قبضہ کررکھا ہے اور ہمیں اپنی بربریت کا نشانہ بنارہا ہے، پاکستان سے الحاق ہمارا خواب ہے، جب میں یہاں پہنچا تھا میں نے فوری طور پر اس سرزمین کو چوم لیا تھا”۔

مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان 64 سال میں تین جنگیں ہوچکی ہیں،جبکہ آزاد اور مقبوضہ کشمیر کو جدا کرنے والی لکیر کو قانونی طور پر سرحد بھی نہیں مانا جاتا ہے، بلکہ 1972ءمیں دونوں ممالک نے اسے لائن آف کنٹرول کا نام دیا۔اس وقت بھارت کے قبضے میں وادی کشمیر کا 43 فیصد حصہ ہے جہاں ایک کروڑ بیس لاکھ افراد رہائش پذیر ہیں، جبکہ باقی علاقہ پاکستانی سرزمین کے اندر ہے۔

وحید اپنے خاندان کے کچھ افراد کے ساتھ آ زاد کشمیر آگئے تھے، تاہم دیگر ارکان تاحال مقبوضہ وادی یا دریا کی دوسری جانب موجود ہیں۔

دس جون کو پاکستانی علاقے میں دریا کے کنارے چھ سو سے زائد افراد نے احتجاجی مظاہرہ کیا، جمہوں کشمیر نیشنل لبریشن کانفرنس کے زیرتحت ہونیوالے اس مظاہرے میں پاکستان اور بھارت سے لائن آف کنٹرول سے فوجی انخلاءکرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔اس مظاہرے میں شریک افراد سرحد کی دوسری طرف موجود اپنے رشتے داروں سے ملنے کے خواہشمند تھے۔ وحید اپنےبائیس سالہ بیٹے اور ایک سالہ پوتے کے ہمراہ اس مظاہرے میں شریک ہوا۔

وحید(male) “میرے ننھیالی ، باپ کے رشتے دار اور کزن وغیرہ مقبوضہ کشمیر میں رہائش پذیر ہیں۔ میں بزرگوں کو تو شناخت کرسکتا ہوں مگر نوجوان نسل کے بارے میں مجھے کچھ معلوم نہیں۔ میں یہاں اپنے بچوں کو رشتے داروں سے ملانے کیلئے لایا ہوں، یہ بہت تکلیف دہ عمل ہے۔ لوگ اپنے رشتے داروں کو دیکھ کر رو پڑتے ہیں، کیا آپ ایسی ماں کا تصور کرسکتے ہیں جو اپنے بیٹے کو دریا کے دوسری جانب کھڑے دیکھے مگر اس سے مل نہ سکے؟”

اس احتجاج کو ملاپ مارچ کا نام دیا گیا تھا تاکہ اس تنازعے سے لوگوں کو ہونیوالی تکلیف کا اظہار کیا جاسکے۔ لائن آف کنٹرول پر مسلح جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں جس کا ہدف سرحدی علاقوں کے رہائشی بنتے ہیں، ایک اندازے کے مطابق 90ءکی دہائی کے بعد چالیس ہزار افراد مقبوضہ کشمیر سے آزاد کشمیر آچکے ہیں، تاہم 2003ءکے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے بعد سے سرحد پر نگرانی بہت سخت کردی گئی ہے اور اب اسے عبور کرنا آسان نہیں رہا۔آزاد اور مقبوضہ کشمیر کے درمیان 2005ءمیں ایک خصوصی بس سروس کا آغاز کیا گیا تھا، مگر اس پر سفر کیلئے کلیرنس درکار ہوتی ہے جسکی وجہ سے بیشتر افراد اس سہولت سے فائدہ نہیں اٹھاپاتے، خصوصاً ان افراد کیلئے جو 90ءکی دہائی کے بعد مقبوضہ وادی سے آزاد کشمیر آئے تھے۔

بائیس سالہ فرحت بٹ کے والدین اسکی پیدائش سے قبل آزاد کشمیر آگئے تھے اور اس نے اپنے دادا یا دادی کو پہلی بار گزشتہ برس دریا کے کنارے سے دیکھا، مگر وہ بس ایک دوسرے کو دیکھتے ہی رہ گئے۔

فرحت(male) “جب بھی میں انہیں یاد کرتا ہوں تو میں یہاں آجاتا ہوں اور انہیں دور سے دیکھ لیتا ہوں۔ اس کے بعد میں بوجھل دل کے ساتھ واپس چلاجاتا ہوں، میں ان سے بس اسی طرح مل سکتا ہوں مگر میری خواہش ہے کہ ہم پھر اکھٹے ہوجائیں۔ میرا آدھا خاندان دریا کی دوسری جانب آباد ہے، جبکہ باقی افراد ہمارے ساتھ موجود ہیں۔ ہم اپنے دکھ اور خوشیاں ایک دوسرے سے نہیں بانٹ سکتے”۔

فرحت رواں برس بھی دریا کے کنارے آیا مگر اس کے دادا دادی نظر نہیں آئے، پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات میں بہتری کے اشارے نظر آئے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان محدود سطح پر تجارتی سلسلہ پھر بحال ہوگیا ہے، مگر مقامی افراد تجارتی تعلقات کیساتھ ساتھ دیگر معاملات پر بھی پیشرفت چاہتے ہیں۔عارف شاہد جموں و کشمیر نیشنل لبریشن کانفرنس کے

صدر ہیں، وہ ان بچھڑے ہوئے خاندان کے ملاپ کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

عارف شاہد(male) “ہم نے آج لوگوں کا اجتماع کرکے عالمی برادری اور پاک بھارت حکومتوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ تمام کشمیری اکھٹے رہنے کے خواہشمند ہیں۔ ہم دونوں ممالک کے منصوبہ سازوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ کشمیر سے فوج سے نکال لیں اور اپنے بجٹ کا بڑا حصہ بے مقصد دفاعی مقاصد پر خرچ کرنے کی بجائے کشمیری عوام کی فلاح و بہبود کیلئے استعمال کریں، کیونکہ پاکستان یا بھارت اسلحے کے بل پر کشمیریوں کے دل نہیں جیت سکتے۔ انہیں کشمریوں کو ایک دوسرے سے ملنے کی آزادی دینی چاہئے”۔

دریا کے کنارے آزاد کشمیر کی جانب موجود خاندان چھ گھنٹے سے انتظار کررہے ہیں، مگر مقبوضہ وادی کی جانب سے دریا کے کنارے پر کوئی بھی نہیں آیا، کیونکہ بھارتی فورسز نے انہیں دریا کے قریب آنے کی اجازت ہی نہیں دی۔

اچانک بارش شروع ہوگئی اور پاک رینجرز کے اہلکاروں نے دریا کے کنارے موجود لوگوں کو گھر واپس جانے کا کہا۔ پچپن سالہ رقیہ احمد ایک بیوہ خاتون ہیں، یہ دو برسوں میں دوسری بار ہے کہ وہ اپنے والدین اور بہن بھائیوں کو دریا کی دوسری جانب دیکھنے میں ناکام رہی ہیں۔

رقیہ(female) “پہلی دفعہ میں بہت دیر تک روتی رہی کیونکہ میں اپنی ماں کو دیکھنا چاہتی تھی۔ میرے والد کا انتقال ہوچکا ہے، میں اپنی ماں اور بہن بھائیوں سے بات کرنا چاہتی ہوں، میں مرنے سے قبل دریا عبور کرکے ان سے ملنا چاہتی ہوں، مگر جب مجھے اپنے بچوں کا خیال آتا ہے جو میرے ساتھ ہیں، تو میرا دل اپنے بچوں اور میرے دیگر رشتے داروں کے درمیان تقسیم ہوجاتا ہے”۔

45 سالہ مریم بی بی شادی کا ایک لوک گیت گارہی ہیں۔ انکا خواب ہے کہ وہ مقبوضہ وادی میں اپنے بیٹے کی شادی میں شرکت کریں۔

مریم بی بی(female) “گزشتہ دس برسوں سے میرا بیٹا میرا انتظار کررہا ہے، اسکا کہنا ہے کہ وہ میرے بغیر شادی نہیں کرے گا، مگر میرے وہاں جانے میں متعدد رکاوٹیں ہیں۔ میں نے ویزا حاصل کرنے کی ہرممکن کوشش کی مگراسکا اجراءنہیں ہوسکا۔ وہ آلو اور پیاز کو تو سرحد کے آر پار جانے کی اجازت دیتے ہیں مگر انسانوں کو ویزہ نہیں دیتے۔ میری ان سے درخواست ہے کہ خدا کے واسطے مجھے صرف ایک ماہ کیلئے ویزہ دیدیا جائے، تاکہ میں اپنے بیٹے کی شادی کی تقریب میں شرکت کرسکوں”۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *