واجاں ماریاں بلایا کئی وار میں (Wajan mariayan bullayah) جیسے متعدد معروف گیتوں کے خالق معروف لوک گلوکار عالم لوہار کو دنیا سے گزرے آج 33 برس بیت گئے۔
یکم مارچ 1928ءکو گجرات کے ایک نواحی گاﺅں میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے کم عمری سے گلوکاری کا آغاز کیا۔عالم لوہار کو چمٹا بجانے اور آواز کا جادو جگانے میں کمال فن حاصل تھا۔ ان کے گائے ہوئے پنجابی گیتوں کی خوشبو آج بھی جابجا بکھری ہوئی ہے۔ان کی خاص پہچان ان کا چمٹا تھا۔ انہوں نے چمٹے کوبطور میوزک انسٹرومنٹ استعمال کیااور دنیا کو ایک نئے ساز سے متعارف کرایا۔ وہ اپنے مخصوص انداز اور آواز کی بدولت بہت جلد عوام میں مقبول ہوگئے۔ ان کی گائی ہوئی جگنی آج بھی لوک موسیقی کا حصہ ہے۔
جگنی اس قدر مشہور ہوئی کہ ان کے بعد آنے والے متعدد فنکاروں نے اسے اپنے اپنے انداز سے پیش کیا لیکن جو کمال عالم لوہار نے اپنی آواز کی بدولت پیدا کیا وہ کسی دوسرے سے ممکن نہ ہوسکا۔ جگنی کی شہرت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اس دور کی اردو اور پنجابی فلموں میں بھی “جگنی “کو خصوصی طور پر شامل کیا گیا جبکہ جگنی کی پکچرائزیشن بھی انہی پر ہوئی۔ جگنی کے علاوہ عالم لوہار نے کئی اورمنفرد نغمے تخلیق کئے جن میںاے دھرتی پنج دریاں دی، دل والا دکھڑا نہیں (Dil wala dukhra nahin) ، Bol mitti diya bawiya، جس دن میرا ویاہ ہووے گا(Jis din merah viah hohay gaa)، قصہ سوہنی مہیوال کا گیت Jinnan Dilan De Andar وغیرہ بہت مقبول ہوئے۔
عالم لوہارکی گائیکی کا انداز منفرد اور اچھوتا تھا جو اندرون ملک ہی نہیں بیرون ملک جہاں پنجابی اور اردو زبان نہیں سمجھی جاتیں وہاں بھی لوگ ان کی خوبصورت دھنوں پر جھوم اٹھتے تھے، خصوصاً قصہ ہیر رانجھا اور قصہ سیف الملوک آج بھی زبان زد عام ہیں۔
انکا انتقال تین جولائی 1979ءکو پنجاب کے ایک غیرمعروف قصبے کے پاس ٹریفک حادثے کی وجہ سے ہوا، جس کے بعد انہیں لالہ موسیٰ میں سپرد خاک کیا گیا۔
چمٹا بجانے کے ساتھ ساتھ گلوکاری کا فن اگرچہ محدود ہوگیا ہے اور چمٹا بجانے والوں کی تعداد تقریباً ختم ہوتی جارہی ہے لیکن عالم لوہار کے بیٹے عارف لوہار نے چمٹے سے چھڑنے والی نئی سے نئی دھنوں کے ذریعے نہ صرف اپنے والد کے فن کو زندہ رکھا ہوا ہے بلکہ وہ خود بھی اس فن میں دوسروں سے ممتاز ہیں۔