Jakarta Says No to Dancing Monkey Shows – جکارتہ میں بندروں کے تماشے پر پابندی

آئندہ برس سے آپ جکارتہ کی گلیوں میں یہ منظر نہیں دیکھ سکیں گے۔

جکارتہ حکومت نے سڑکوں پر بندر کے تماشوں پر پابندی عائد کردی ہے، ان تماشوں میں بندر مضحکہ خیز ماسک پہن کر ایروبک کرتب دکھاتے تھے۔اسی بارے میں سنتے ہیںآج کی رپورٹ

بندر کا تماشہ دکھانے والے درجنوں افراد جکارتہ انتظامیہ کے دفتر کے بارے رجسٹریشن کیلئے قطار بنائے کھڑے ہیں، تیس سالہ بدری ایک سال قبل اس کام کا حصہ بنا، وہ اپنا بندر انتظامیہ کے حوالے کررہا ہے۔

بدری”میں اور کیا کرسکتا ہوں؟ میں حکومت سے کچھ رقم چاہتا ہوں تاکہ میں نیا کام شروع کرسکوں”۔

حکومت ہر بندر کے بدلے ان افراد کو نوے ڈالرز دے رہی ہے، جبکہ ان افراد کو نئی ملازمت کی تلاش کیلئے تیکنیکی تربیت بھی فراہم کی جائے گی۔سی کیپ نامی ایک تماشہ باز کا کہنا ہے کہ وہ حکومتی وعدے پر اعتبار کررہا ہے۔

کیپ”مجھے اس وعدے کا میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا کہ میں نئی ملازمت کے بدلے میں اپنے بندر حکومت کو بیچ دوں، مگر مجھے نہیں معلوم کہ کس قسم کی ملازمت مجھے ملے گی”۔

جکارتہ کے گورنر جوکو وڈوڈو کا کہنا ہے کہ ان افراد کو جانوروں کے استعمال پر سزا نہیں دی جائے گی۔

جو کو وڈوڈو”بندروں کے تماشے سے عوامی کاموں میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے کیونکہ یہ شوز گلیوں میں ہوتے ہیں، بندروں میں ربیز کے جراثیموں کی موجودگی کا بھی خطرہ ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم نے دارالحکومت میں ان تماشوں پر پابندی عائد کی ہے، ان تماشہ دکھانے والے افراد کا رجسٹریشن کے بعد خیال رکھا جائے گا، ان میں سے بیشتر کا تعلق جکارتہ سے نہیں”۔

جکارتہ انتظامیہ نے مختلف علاقوں میں چھاپے مارکر درجنوں بندروں کو اپنے قبضے میں لیا ہے، جانوروں کے حقوق کیلئے کام کرنے والے گروپس طویل عرصے سے دعویٰ کررہے ہیں کہ بندروں پر ان کے مالکان کی جانب سے تشدد کیا جاتا ہے، تاہم سی کیپ ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

کیپ”میڈیا کا یہ الزام کہ ہم بندروں کو مارتے ہیں، بالکل غلط ہے، ہم انکی گھروں میں دودھ سے تواضع کرتے ہیں، میڈیا مبالغہ آرائی کررہا ہے، یہ کام کرنے والے کسی بھی شخص پوچھ لیں کہ ہم ان بندروں کی دیکھ بھال کس طرح کرتے ہیں، جب وہ بیمار ہوتے ہیں تو ہم ان پر اتنا خرچہ کرتے ہیں، جتنا اپنے بیمار ہونے پر بھی نہیں کرتے”۔
مگر ایک این جی او جکارتہ انیمل ایڈ نیٹورک یا مختصر جان کی ایک ریکارڈڈ ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح ان بندروں کو انسانوں کی طرح سیدھا کھڑا ہونے سیکھایا جاتا ہے۔ ہمدان بھی جکارتہ میں بندروں کا تماشہ دکھانے والا ایک بازیگر ہے۔

ہمدان”میں ہر اس شخص کو سو ڈالرز دوں گا جو کسی بھی جنگلی بندر کو دو فٹ تک سیدھا کھڑا ہونے سیکھانے میں کامیاب ہوسکے، تربیت کے دوران ہم بندروں کے دونوں ہاتھ پشت پر باندھ دیتے ہیں اور پھر ہم اسکا چہرہ آسمان کی طرف کردیتے ہیں، وہ اس طرح مرتا نہیں، یہ تربیت صرف ایک گھنٹے کی ہوتی ہے جس کے بعد ہم اسے پھر کھول دیتے ہیں اور کھانے پینے کی اشیاءدیتے ہیں”۔

اب یہ بندر جنوبی جکارتہ کے رنگونن زُو کے قریب ایک پناہ گاہ میں پہنچائے جارہے ہیں، سری ہر تاتی سرکاری عہدیدار ہیں۔

سری”ہم سمجھتے ہیں کہ آپ سب اندر جاکر بندر دیکھنا چاہتے ہیں، مگر ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ بندر ابھی صاف نہیں، ابھی تک ہم نے سب کا معائنہ نہیں کیا، ان میں کچھ بیمار بھی ہیں”۔

یہ پناہ گاہ اندر سے بالکل صاف ہے اور یہاں کام کرنے والا عملہ نقاب اور خصوصی یونیفارم میں ملبوس ہوتا ہے۔ یہ عملہ ان بندروں کے خون کے نمونے بھی لے رہا ہے، ایک اہلکار فہمی کا کہنا ہے کہ خون کے نمونوں سے معلوم ہوگا کہ یہ بندر کسی خطرناک مرض کا شکار ہیں یا نہیں۔

فہمی”ہم ان میں ٹی بی اور ہیپاٹائیٹس کی بیماریاں چیک کررہے ہیں، ان کو جلد ہی رنگونان زُو منتقل کردیا جائے گا، اسی لئے ہم ان کی جسمانی حالت کا جائزہ لے رہے ہیں”۔

ان بندروں کا چھ ماہ تک طبی معائنہ کیا جائے گا۔

سری”یہ بندر گلیوں سے آئے ہیں، کئی بارے معائنے کے بعد ہم ان کے گروپس بنادیں گے، بندر عام طور پر مل کر رہتے ہیں، تو ان کی بحالی نو کے لئے ابھی کچھ وقت درکار ہے، ابھی یہ سب ٹھیک اور خوش ہیں، ان کی جسمانی حالت کم و بیش یکساں ہی ہے اور وہ اندر کھیل کود میں مصروف ہیں”۔

بندروں کی بحالی نو کا کام این جی او جان کے تعاون سے ہورہا ہے، اس کے ترجمان بین ویکا کے بقول کچھ بندروں کو قابل رحم حالت میں پایا گیا ہے۔

بین”بائیس فیصد بندر ہیپاٹائٹس کا شکار ہیں، جبکہ کچھ کو ٹی بی یا مسوڑوں کا انفکیشن ہے، سو فیصد بندروں میں زخم پائے گئے ہیں اور کچھ تو بہت ہی زیادہ کمزور ہیں”۔

اگریہ یہ این جی او تو ان بندروں کو جکارتہ کے ساحل کے قریب ایک ویران جزیرے میں چھوڑنا چاہتی ہے مگر جکارتہ کی حکومت کا منصوبہ مختلف ہے۔

سری”ان بندروں کو رنگونن ذُو لے جایا جائے گا، وہاں متعدد لوگ آتے ہیں اور وہاں جانور بھی صحت مند ہیں، ہمیں مکمل یقین ہے کہ یہ بندر وہاں جانے سے پہلے صحت مند ہوجائیں گے، ہم انہیں ہر طرح کی ویکسین دے رہے ہیں”۔

بینوکانے حکومت سے ان بندروں کیلئے نیا گھر تعمیر کرنے کا مطالبہ کیا ہے جہاں ان کیلئے ہر ممکن حد تک قدرتی ماحول فراہم کیا جاسکے۔

بینویکا”زیادہ بہتر تو یہ ہے کہ ان بندروں کو قدرتی ماحول والے جنگل میں چھوڑ دیا جائے، یا کم از کم ان کیلئے مصنو عی جنگل تیار کیا جائے جہاں وہ گھومنے پھرنے کیلئے آزاد ہوں”۔