World Impunity Day – عالمی یوم استثنی

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج استثنیٰ کے خاتمے کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ یہ دن دنیا میں صحافیوں کے سب سے بڑے قتل عام کے واقعے کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ 23 نومبر دو ہزار نوکو فلپائن کے علاقے امپاتوانمیں ہونے والے قتل عام میں 58 افراد ہلاک ہوگئے تھے جن میں 34 صحافی تھے، جو کہ صحافیوں پر کیا جانے والا اب تک کا سب سے خوفناک واقعہ ہے۔ایک دہائی کے دوران دنیا بھر میں بنیادی انسانی حق اظہار رائے کیلئے کام کرنے پر پانچ سو سے زائد صحافی قتل ہوچکے ہیں، جن میں سے بیشتر مقدمات حل نہیں ہوسکے اور نہ ہی ملزمان کو سزائیں مل سکیں۔اس حوالے سے سب سے ذیادہ فعض پولیس کا ہے مگر انکے اقدامات قابل قدر نہیں ہیں ۔یہ کہنا ہے صدر کراچی یو نین آف جرنلسٹ،ساجد عزیزکا ان کا مزید کہنا تھا۔

پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جسے صحافیوں کیلئے انتہائی خطرناک قرار دیا جاتا ہے،صحافیوں کے تحفط کے عالمی ادارے کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کی رواں برس جاری کردہ فہرست میں پاکستان کو صحافیوں کیلئے خطرناک ممالک کی فہرست میں آٹھویں نمبر پر رکھا گیا تھا، جبکہ 2001ءسے 2011ءکے دوران پاکستان میں اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران 34 صحافی مارے گئے، جبکہ 2012ءمیں سات اور 2013ءمیں اب تک پانچ صحافی جاں بحق ہوچکے ہیں۔صحافیوں کی اموات میں بیشتر اموات اپنی صحافتی ذمے داریاں سر انجام دیتے ہو ئے ہو تی ہیں۔سینئر صحافی و سیکریٹری جنرل کراچی پریس کلب عامر لطیف کا کہنا ہے کہ صحافیوں کے لیے خطرناک ملکوں کی فہرست میں پاکستان بھی شامل ہے ۔اس لیے صحافی جب اپنی ذمے داریوں کی ادائیگی کے لیے جاتا ہے تو اسے اپنی صحیح سلامت واپسی پر بھی اعتبار نہیں ہو تا ۔

اس حوالے سے ورلڈ ایسوسی ایشن آف کمیونٹی ریڈیو براڈ کاسٹرز یا اے ایم اے آر سی نے ایک متفقہ قرارداد منظور کررکھی ہے جس میں اس قتل عام کی مذمت کرتے ہوئے انصاف کے حصول اور استثنیٰ کے خاتمے کیلئے عالمی مہم میں معاونت کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔سینئر صحافی اور کراچی پریس کلب کے جوائنٹ سیکرٹری شمس کیریو کے مطابق صحافیوں کو تحفظ دینا ریاست کا کام ہے ۔ صحافتی تنظیمیں بھی صحافیوں کے حقوق کے لیے کام کر رہی ہےں مگر کوئی خاطر خواہ کامیا بی نہیں ہوئی ۔

پاکستان پریس فاﺅنڈیشن جو صحافیوں کی صلاحیتوں میں اضافے اور مزید نکھا ر کے لیے پیش پیش رہتاہے ، اس ادارے کے تحت ہونے والی تربیتی ورک شاپس بھی ایک فعال کر دار ادا کر رہی ہیں ۔ پاکستان پریس فاﺅنڈیشن کے جنرل سیکر ٹری اویس اسلم علی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز پر تشدد کرنے والے ملزمان کو مکمل استثنیٰ حاصل ہے۔ان کے بقول اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ دس برس میں پاکستان میں 55 سے زائدصحافی قتل ہوچکے ہیں، جن میں سے 36 کو باقاعدہ ٹارگٹ بناکر قتل کیا، جبکہ متعدد صحافی زخمی ہوئے اور اکثر کو زبان خاموش رکھنے کیلئے سنگین دھمکیاں دی گئیں ،جس کی وجہ سے متعدد صحافیوں کو اپنے علاقوں سے نقل مکانی کرنا پڑی۔انھوں نے زور دیا کہ میڈیا کیخلاف تشدد کے واقعات کی تحقیقات، رجسٹریشن اور پراسیکیوشن کیلئے ایک آزاد کمیشن قائم کیا جائے چاہئے، جو مقدمات کی مانیٹرنگ کرے، جبکہ صحافیوں کیلئے تربیت کا اہتمام کیا جانا چاہئے، خصوصاً دیہی علاقوں میں کام کرنے والوں کیلئے، میڈیا اداروں کی جانب سے صحافیوں کو درپیش خطرات اور دھمکیوں کے حوالے آپریٹنگ طریقہ کار قائم کیا جانا چاہئے تاکہ استثنیٰ کے کلچر کو ختم کیا جاسکے۔

جدید دنیا کے جدید میڈیا نے اب خبر کا حصول تو مشکل بنا دیا ہے مگر صحافی بسا اوقات خود ایک ٹکر ، بریکنگ نیوز یا نیوز اسٹوری بن جاتے ہیں ۔آج کادن منانے کا مقصد بھی یہی ہے کہ ایسے صحافی جنھیں جرائم کا نشانہ بنایا جا تا ہے اور نقصان پہنچانے والے لوگ پھر گلیوں میں دندناتے پھر تے ہیں ۔ قانون کی پکڑ سے آذاد ان افراد کو قرار واقعی سزا دینے کے لیے حکومتی سطح پر لائحہ عمل مرتب کیا جا نا چاہیے ۔

کیونکہ یہ آج کے وقت کی اہم ضرورت ہے ۔