پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج نرسوں کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد عوام الناس میں نرسنگ کے شعبے کی انسانیت کےلئے خدمات کا شعور بیدار کرنا اور جدید نرسنگ کی بانی برطانوی نرس فلورنس نائٹ انگیل کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنا ہے۔ جنھوں نے 1854کی جنگ میں صرف 38نرسوں کی مدد سے 1500زخمی اور بیمار فوجیوں کی دن رات تیمار داری کرکے صرف 4ماہ کی مدت میں شرح اموات کو 42فیصد سے کم کرکے 2 فیصد تک کردیا تھا۔
پاکستان میں نرسنگ کے شعبے کی بنیاد بیگم رعنا لیاقت علی خان نے رکھی۔ 1949میں سنٹرل نرسنگ ایسوسی ایشن اور 1951میں نرسز ایسوسی ایشن کا قیام عمل میں آیا مگر المیہ یہ ہے کہ پاکستان کی نرسیں آج بھی لاتعداد مسائل کاشکار ہیں۔
پاکستان نرسنگ ایسوسی ایشن کی ایک رکن کا کہنا ہے کہ کہ نرسیں شعبہ صحت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں، تاہم نرسیں جوش و جذبے سے عاری ہوں گی تو مریضوں کی صحت یابی مشکل ہوگی۔
پاکستان میں صحت کے مسائل سے نمٹنے کے لیے ابھی تک ہم تربیت یافتہ نرس اور مڈوائفز تیار نہیں کرسکے ہیں۔ ہمارے اسپتالوں میں کام کرنے والا نرسنگ اسٹاف وہ مہارت نہیں رکھتا جس کی ضرورت ہے اور ساتھ ہی مڈوائفز بھی اس طرح کی صلاحیت اور قابلیت نہیں رکھتیں کہ وہ گھروں میں محفوظ زچگی اپنے طور پر کراسکیں۔ ملک میں صحت کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک لاکھ سے زائد نرسیں اور دو لاکھ سے زائد مڈوائفز کی ضرورت ہے۔ اایک نرس رہنماءاس حوالے سے بتارہی ہیں۔
پاکستان میں تربیت یافتہ نرسوں کی تعداد انتہائی کم ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ جو خواتین اس مقدس پیشے سے منسلک ہیں ،وہ انتہائی مشکل حالات میں کم تنخواہ اور کم سہولتوں کے باوجود پیشہ ورانہ امور سرانجام دینے پر مجبور ہیں۔ اس وقت نامساعد حالات کی وجہ سے سالانہ 30ہزار سے زائد نرسیں ملک چھوڑنے پر مجبور ہورہی ہیں، تعداد کم ہونے کی وجہ سے موجودہ نرسوں پر کام کا بے پناہ دباﺅ ہے جس کی وجہ سے اکثریت میںڈپریشن، کمردرد، اور ہیپاٹائٹس کی بیماریاں عام ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک بھر میں نرسوں اور مڈوائفز کی تعلیم کے ساتھ ان کے اساتذہ کی تربیت کا بندوبست کیا جائے،اس شعبے میں آنے والوں کی عزت نفس کو مجروح نہ کیا جائے اور ان کے موجودہ معاوضوں میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے۔