Asthma سا نس کی بیما ری

پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں بے شمار افراد دمے کی بیماری میں مبتلا ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ گاڑیوں اور فیکٹریوں کا دھواں دمے کا سب سے بڑا سبب ہے۔ اس بارے میں ہم نے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر سے منسلک ڈاکٹر ندیم رضوی سے بات کی تو انھوں نے بتایا کہ پھیپڑوں کی نالیوں کا سکڑنا یا پھول جانا دمے کا باعث بنتا ہے جس سے سانس لینے میں شدید دشواری ہوتی ہے:
دمے کی کیا علامات ہیں اس بارے میں ڈاکٹر ندیم رضوی کا کہنا ہے:
دمہ عمر کے کسی بھی حصے میں ہو سکتا ہے، خواتین اور مرودں میں اسکی شرح کم و بیش ایک جیسی ہے جبکہ بچوں میں دمے کی شرح دنیا بھر میںسب سے زیادہ ہے۔ایک سروے کے مطابق پاکستان میں10فیصد بچے دمے کی بیماری میں مبتلا ہیں، جبکہ بالغ افراد میں یہ شرح5فیصد ہے۔ماہرین کا ماننا ہے کہ گرد و غبار، ماحولیاتی تبدیلیاں، فضامیں موجودنقصان دہ کیمیکلز، جذباتی دباﺅاور تمباکو نوشی دمے کا باعث بن سکتی ہے۔ڈاکٹر ندیم رضوی کا کہنا ہے کہ پر تعیش طرز زندگی بھی دمے کی وجوہات میں سے ایک وجہ ہے:
مختلف اقسام کے مضر صحت کیمیکل بنانے والی فیکٹریوں ، کارخانوں اور اسکے علاو ہ بیکریوںمیں کام کرنے والے افراد میں دمے کے امکانات زیادہ ہیں :
جبکہ ایسی حاملہ خواتین جو تمباکو نوشی کی عادی ہوںیا اُن کے گرد و پیش میں تمباکو نوشی کرنے والے افراد کی تعداد زیادہ ہوتو اُن میں اوراُنکے بچوں میں بھی دمے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں:
ایک سروے کے مطابق دمے یا دیگر بیماریوں کا شکار خواتین مردوں کی نسبت علاج معالجے کی طرف مناسب توجہ نہیں دیتی ہیں۔یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ گلی محلوں میںکچراایک جگہ جمع کر کے آگ لگا دی جاتی ہے اس کے علاوہ پسماندہ علاقوں میں خواتین کھانا پکانے کیلئے کوئلے اور لکڑی کا استعمال کرتی ہیںجس سے سانس کی نالیاں سکڑنے سے دمے جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیںجسےCOPDکہا جاتا ہے جسکی شرح دیگر ممالک کی نسبت پاکستان میں بہت زیادہ ہے۔ڈاکٹر ندیم رضوی کا کہنا ہے کہ جن بچوں کو دمے کی بیماری ہو اُنکی مائیں ضرورت سے زیادہ محتاط ہو جاتی ہیں یا دوسری صورت میں مناسب علاج سے گریز کیا جاتا ہے:
ڈاکٹر رضوی کا کہنا ہے کہ دمے کی بیماری میں انہیلر کے استعمال کے حوالے سے بھی کافی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں :
ٓگھریلو خواتین کیلئے انتہائی ضروری ہے کہ دمے سے بچاﺅ کیلئے گھروں میںصوفے، پردے اور قالین وغیرہ کی صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھیں،اسکے علاوہ خود بھی تمباکو نوشی سے گریز کریں اور گھر کا ماحول بھی اس طرح کا رکھیں کہ افراد خانہ چھوٹے بچوں یا حاملہ خواتین کے سامنے تمباکو نوشی سے ہر صورت گریز کریں۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *