(Indian army facing breakdown in ranks)بھارتی فوج میں مسائل

بھارتی فوج کی اعلیٰ قیادت جنگجو دستوں میں نظم و ضبط کی کمی کے باعث شدید پریشان ہے۔

گزشتہ تین ماہ کے دوران بھارتی فوج کے سربراہ جنرل Bikram Singh نے خاموشی سے ملک بھر میں فوجی یونٹس کا دورہ کیا اور فوجیوں سے ملاقاتیں کیں۔ انھوں نے فوجیوں کو پر زور دیا کہ وہ فوجی نظم و ضبط کے اقدار کا خیال رکھیں، جبکہ افسران اور ماتحتوں کے درمیان تعلقات ماضی کی طرح بحال کئے جائیں۔یہ پیغام اس وقت سامنے آیا جب فوجیوں کی جانب سے نظم و ضبط کی خلاف ورزی کے تین بڑے واقعات سامنے آئے۔ گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران حساس علاقوں میں تعینات فوجی یونٹس کی جانب سے نظم و ضبط کی سنگین خلاف ورزیاں کی گئیں، رواں ماہ کے شروع میں مقبوضہ کشمیر کے علاقے Samba میں متعین دستے کے افسران اور عام اہلکاروں کے درمیان شدید اختلافات کی خبریں سامنے آئیں۔اس سے قبل مئی کے مہینے میں لداخ میں فوجیوں اور افسران کے درمیان زبردست تصادم ہوا، جس کی وجہ سے یونٹ کا کمانڈنگ افسر، دو میجر اور چند فوجی شدید زخمی ہوکر ہسپتال پہنچ گئے۔بھارتی فوجی نے اس تصادم کو نظم و ضبط کی شدید خلاف ورزی قرار دیا۔میجر جنرل اشوک مہتا کا کہنا ہے کہ یہ مسائل افسران اور ماتحتوں کے درمیان تعلقات کی خرابی کے باعث ہیں۔

مہتا(male)“مقبوضہ کشمیر میں سامنے آنے والے تینوں واقعات فوجی یونٹس میں موجود مسائل کی واضح علامت ہیں۔ان جھگڑوں میں افسران اور عام اہلکاروں کے درمیان تعلقات کی خرابی کے باعث نظم و ضبط بگڑ گیا”۔

یہ تمام جھگڑے جنگجو دستوں میں سامنے آئے۔

دفاعی تجزیہ کار Saurabh Joshi کا کہنا ہے کہ موثر قیادت کی فراہمی کیلئے اقدامات کئے جانے کی ضرورت ہے۔

جوشی(male)“یہ قیادت کی ناکامی کا ثبوت ہے، یہ واقعات فوج میں بھرتی کئے جانے والے افسران کے معیار میں کمی کے باعث سامنے آئے، اس معاملے کا جائزہ لیا جانا چاہئے اور اس نظام میں تبدیلیاں لائی جانی چاہئے”۔

سابق ڈپٹی آرمی چیف R.K. Sawhney اس بات کو تسلیم کرتے ہیں، تاہم انکا کہنا ہے کہ صورتحال اتنی بھی خراب نہیں۔

Male)R.K. Sawhney)“یہ بات تو ٹھیک ہے کہ نظم و ضبط کو بحال رکھنے کی ذمہ داری افسران اور کمانڈنگ افسر پر ہوتی ہے۔یہ تینوں واقعات بھی اس وجہ سے پیش آئے کہ کمانڈ ناکام ہوگئی تھی۔ اس کا جائزہ لیا جانا چاہئے تاہم صورتحال بہت زیادہ خراب نہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ فوج کو اس حوالے سے ہوشیار ہونا چاہئے، تاہم مجھے نہیں لگتا کہ پوری فوج میں نظم و ضبط کے مسائل پیدا ہورہے ہیں”۔

فوج کی زندگی سخت ہوتی ہے جس کے باعث عام اہلکاروں اور افسران میں جھگڑے ہوتے ہیں، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں حالات حساس یا نازک ہوتے ہیں۔نظم و ضبط کی خلاف ورزیوں کے ساتھ بھارتی فوجیوں میں خودکشیوں کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے، رواں برس سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ہی ستر فوجی اپنی زندگیوں کا اپنے ہاتھوں خاتمہ کرچکے ہیں۔Saurabh Joshi کا ماننا ہے کہ فوجی قیادت کو مزید واقعات کی روک تھام کیلئے اس ضمن میں حکمت عملی مرتب کرنی چاہئے۔

جوشی(male)“فوجی جتنے تعلیم یافتہ ہوں ان کے آپسی تعلقات بھی اتنے ہی اچھے ہوں گے۔ وہ زیادہ باشعور ہوں گے، یہ بیس برس پہلے کی بھارتی فوج نہیں، فوجی قیادت کو اس بات کو سمجھنا چاہئے اور اس حوالے سے طریقہ کار متعین کرنا چاہئے، ورنہ مجھے ڈر ہے کہ اس طرح کے واقعات سامنے آتے رہیں گے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ تینوں واقعات کسی پرامن مقام پر متعین یونٹ میں پیش نہیں آئے تھے، بلکہ انتہائی حساس مقامات پر پیش آئے”۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *