(Indonesia’s Informal Dentists Bite Back)انڈونیشیاءکے غیر رسمی دندان سازوں کا احتجاج

 

انڈونیشیاءمیں کم آمدنی والے لاکھوں شہری اپنے دانتوں کے امراض پر ایسے دندان سازوں کا رخ کرتے ہیں جو باقاعدہ تعلیم یا تربیت یافتہ نہیں، جکارتہ بھر میں ان دندان سازوں کے اسٹال موجود ہیں، تاہم اب حکومت نے ان غیرتربیت یافتہ افراد کیخلاف کریک ڈاﺅن کا فیصلہ کیا ہے۔

Ping Cen گزشتہ ساٹھ برسوں سے لوگوں کے دانت ٹھیک کرنے کا کام کررہی ہیں۔

 (female) Ping Cen “میرے والدین چین کے علاقے Hupei سے آئے، میری پیدائش انڈونیشیاءمیں ہی ہوئی، مجھے اپنے دیگر دندان ساز ساتھیوں کے ساتھ جکارتہ کی Senen Market میں رہنا پسند ہے”۔

Ping Cen کی گزر بسر مصنوعی دانت بنا کر ہوتی ہے اور وہ روزانہ چار سے پانچ مریضوں کا علاج کرتی ہیں، تاہم مصنوعی دانت بنانے کیلئے انکے پاس محض ایک ہی اوزار موجود ہے۔

 (female) Ping Cen “میرا اوزار بہت پرانا ہے، تاہم میرے خیال میں اہم چیز صارفین کو مصنوعی دانتوں سے مطمئن کرنا ہے،مگر یہ حقیقت ہے کہ اس وقت میرے پاس دانتوں کی تیاری کیلئے بس ہی ایک ہی اوزار موجود ہے”۔

Indonesian Dental Technicians’ Association کے مطابق اس وقت ملک بھر میں Ping Cen جیسے 75 ہزار سے زائد غیر تعلیم یافتہ دندان ساز کام کررہے ہیں، ان افراد کی وجہ سے ہی انڈونیشیاءمیں دندان سازوں کی کمی کا خلاءپر کیا جاسکا ہے۔کئی بار یہ دندان ساز لوگوں کی زندگیاں بچانے میں بھی کامیاب رہتے ہیں، انڈونیشین وزارت صحت کے قوانین کے مطابق ان غیر لائسنس یافتہ دندان سازوں کو محض مصنوعی دانت بنانے کی اجازت حاصل ہے، مگر ان میں سے بیشتر افراد دانتوں کے متعدد امراض کا علاج کرتے ہیں۔رواں برس حکومت نے اس پر پابندی کا فیصلہ کرتے ہوئے ان دندان سازوں کے ہر کام پر پابندی عائد کردی۔

نئے قوانین کا اطلاق اپریل سے ہوا، جس کے خلاف جکارتہ کی گلیوں میں یہ دندان ساز احتجاج کرتے نظر آرہے ہیں،اور آج وہ ہیومین رائٹس کمیشن کے سامنے احتجاج کررہے ہیں۔Faisol Abrori اس احتجاجی تحریک کے کوآرڈنینٹر ہیں۔

 (male) Faisol Abrori ” ہم اپنے خدشات کا اظہار کررہے ہیں، ہمارے حقوق ہم سے چھینے جارہے ہیں۔ آئین کے مطابق ہمیں اظہار رائے کی مکمل آزادی حاصل ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم یہاں احتجاج کررہے ہیں”۔

ہیو من را ئٹس کمیشن بھی ان افراد کے حق میں ہے۔ کمیشن کے نائب چیئرمین Nurcholis نے یہ معاملہ وزیر صحت کے سامنے اٹھانے کا وعدہ کیا۔

 (male) Nurcholis “کام کرنا ان افراد کا حق ہے اور یہ دندان سازی کا کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگر ان کے کام میں کوئی کمزوری ہے تو حکومت کواس کمزوری کے خاتمے کیلئے کام کرنا چاہئے۔ ان افراد کے اندر صلاحیت ہے تو قوم کو اسکا اعتراف کرنا چاہئے”۔

حکومت کا کہنا ہے کہ مناسب تربیت کے بغیر یہ دندان ساز کسی بہتری کی بجائے لوگوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ Agus Purwadainto محکمہ صحت کے عہدیدار ہیں۔

 (male) Agus Purwadainto “ہم ڈینٹل قوانین کے تحت غیرتربیت یافتہ افراد کو کام کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ان افراد کی مہارت یا قابلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔ عوام کا حق ہے کہ انہیں تربیت یافتہ طبی عملے کی خدمات ملیں۔ غیر تربیت یافتہ دندان ساز تعلیمی طور پر اہل نہیں کیونکہ انھوں نے کسی تعلیمی ادارے کی بجائے یہ کام اپنے والدین یا بزرگوں سے سیکھا ہے”۔

مگر Ping Cen کا کہنا ہے کہ وہ تمام حکومتی اصولوں پر عمل کرتی ہیں اور صرف مصنوعی دانت بنانے تک ہی محدود رہتی ہیں۔

 (female) Ping Cen “ہم قوانین پر عملدرآمد کرتے ہیں، اگر حکومت ہم سے کہے کہ دانتوں کے خلاءکو پر نہ کریں تو ہم ایسا نہیں کریں گے۔ ہم اپنے مریضوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ اس کام کیلئے لائسنس یافتہ دندان ساز سے رجوع کریں۔ ہم تو صرف مصنوعی دانت بنانے تک ہی محدود رہتے ہیں”۔

Ping Cen کی بیٹی Lan Lan بھی یہی کام سیکھ رہی ہیں، انکا کہنا ہے کہ ہم جیسے دندان سازوں پر پابندی غیرمنصفانہ عمل ہے۔

 (female) Lan Lan “میں اس سے اتفاق نہیں کرتی، اگر حکومت ہم پر پابندی لگانا چاہتی ہے تو اسے پہلے یہ جاننا چاہئے کہ ہم میں کون ٹھیک کام کررہا ہے اور کون غلط، مجھے کام کرنے کا اجازت نامہ مل چکا ہے اور مجھے کسی بات کا خوف نہیں”۔

ان دندان سازوں نے اپنی Dental Practitioners Association بنارکھی ہے، جس کی جانب سے آئینی عدالت میں حکومتی اقدامات کیخلاف درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم جج نے اس پر اعتراضات لگاتے ہوئے اسے مسترد کردیا۔اس عدالتی فیصلے کے باوجود ان دندان سازوں نے ایک بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔وزارت صحت نے ان دندان سازوں پر پابندی کا فیصلہ موخر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب نئے قوانین کا اطلاق ستمبر میں ہوگا۔ انتظامیہ نے یہ یقین دہانی بھی کرائی ہے کہ وہ ان دندان سازوں کو دیئے گئے اجازت ناموں کی دوبارہ تجدید کرے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ ان افراد کو اضافی تربیت فراہم کی جائے گی اور انہیں قانونی دائرے میں لانے کیلئے رجسٹریشن کی جائے گی۔یہ حکومت کی جانب سے پابندیوں کے مجوزہ منصوبے کے بعد واضح یوٹرن ہے، Supriyantoro وزارت صحت کے ڈائریکٹر ہیں۔

 (male) Supriyantoro “ہم نے اپنے منصوبے کو ختم نہیں کیا، بلکہ اس پر آئندہ چھ ماہ کے دوران نظرثانی کا فیصلہ کیا ہے۔ ہم گلی کوچوں میں کام کرنے والے دندان سازوں کو تربیت فراہم کریں گے، ان کا ڈیٹا اکھٹا کریں گے اور ان کے کام کا جائزہ لیں گے۔ اگر یہ مطلوبہ معیار تک پہنچے تو انہیں کام کرنے کیلئے اجازت نامے دیدیئے جائیں گے”۔

متعدد انڈونیشین شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے دانتوں کی تکالیف پر ان غیر تربیت یافتہ دندان سازوں کے پا س جانے کو ہی ترجیح دیں گے، Sumadi نامی شخص کا بھی یہی کہنا ہے۔

 (male) Sumadi “میں گزشتہ سات برسوں سے مصنوعی دانت استعمال کررہا ہوں، میں نے پہلے یہ دانت ایک لائسنس یافتہ ڈاکٹر سے لئے مگر وہ تجربہ اچھا ثابت نہیں ہوا، جس کے بعد میں نے گلیوں میں موجود اسٹالز سے رجوع کیا اور اب میں خود کو زیادہ بہتر سمجھتا ہوں”۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *