عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ اب بھی دنیا میں ایک ارب سے زائد افراد کو بیت الخلاءکی سہولت دستیاب نہیں، ان افراد کی ساٹھ فیصد تعداد ایشیاءمیں مقیم ہے۔ انڈونیشیاءمیں اس حوالے سے ایک مہم کا آغاز کیا گیا ہے۔
ساٹھ سالہ در سیاہ بہت شرمندہ ہیں۔
درسیاہ “ میں دریا کے کنارے حوائج ضروریہ کیلئے گئی اور وہاں مجھے پکڑ لیا گیا، ایک افسر نے مجھے دھکا دیا اور پھر مجھے پچاس سینٹس جرمانہ بھرنا پڑا”۔
درسیا ہ انڈونیشین صوبے ویسٹ نوسہ تینگوراکے ایک گاﺅں کارنگ بیگو کی رہائشی ہیں، گاﺅں کے سربراہ اسمونی کا کہنا ہے کہ لوگوں کو اس بارے میں خبردار کردیا گیا تھا۔
اسمونی ” میں نے لوگوں کو بتادیا تھا کہ وہ دریا کے کنارے پر حوائج ضروریہ کیلئے نہ جائیں، کیونکہ اب ایسا کرنے والے ہر شخص کو جرمانہ ادا کرنا کرنا پڑے گا۔ اگر آپ کے گھر میں ٹوائلٹ نہیں، تو ہمیں بتائیں، ہم اس کی تعمیر کیلئے آپ کی پوری مدد کرنے کی کوشش کریں گے”۔
یہ قانون گزشتہ برس متعارف کرایا گیا تھا اور اس کے بعد سے اب تک دس افراد پر جرمانہ عائد کیا جاچکا ہے، انڈونیشیاءکا عزم ہے کہ وہ 2014ءتک کھلے عام حوائج ضروریہ کی بری عادت کا خاتمہ کرکے رہے گا، اسی مقصد کیلئے ویسٹ نوسہ کے تمام اضلاع میں اس پالیسی پر عملدرآمد کیلئے منفرد طریقہ کار اپنایا گیا ہے۔ اخسانل خالک ایک ضلعی سربراہ ہیں۔
اخسانل خالک” مقامی سطح پر کئی قوانین موجود ہیں، جیسے لوگوں کو پکڑا جائے تو انکا مذاق اڑایا جائے اور پھر تحریری وارننگ دی جائے۔ اگر پھر بھی وہ اپنی عادت سے باز نہ آئیں تو ہم ان کے نام مساجد کے لاﺅڈ اسپیکرز کے ذریعے نشر کرتے ہیں۔ ہم ان کے نام کے ساتھ یہ بھی بتاتے ہیں کہ ہم نے ان کو وارننگ بھی دی تھی، اس طرح لوگ ان افراد کے بارے میں جان لیتے ہیں، ہمیں یقین ہے کہ یہ شرمندہ کردینے والی حکمت عملی کارآمد ثابت ہوگی”۔
دریا کے کنارے رہائش پذیر خیر النساءاس کی حمایت کرتی ہیں۔
خیر النساء ” اگر آپ یہاں سے دریا کو دیکھے تو آپ کو وہاں جگہ جگہ پوسٹرز لگے نظر آئیں گے۔ یہ وہ پوسٹرز ہیںجن کے پیچھے لوگ حوائج ضروریہ سے فارغ ہوتے ہیں”۔
تاہم ہر شخص اس خیال سے خوش نہیں، ان میں ایک اور ضلعی سربراہ زین العارفین بھی شامل ہیں۔
زین العارفین” مجھے نہیں لگتا کہ یہ ایک موثر طریقہ ہے کیونکہ اس سے تو بس لوگوں کی تذلیل ہی ہوتی ہے”۔
مقامی حکومت اس حوالے سے مزید سخت اقدامات پر غور کررہی ہیں، تاہم مقامی این جی او کے ڈائریکٹر احمد جنیدی کا کہنا ہے کہ یہ لوگوں کے حقوق کی واضح خلاف ورزی ہے۔
احمد جنیدی” آپ لوگوں پر پابندیاں ضرور لگاسکتے ہیں، تاہم آپ کسی کے انتظامی خدمات کے حقوق کو ختم نہیں کرسکتے، مثال کے طور پر شناختی کارڈ کا اجرائ، اس کا تعلق کسی شخص کے ذاتی روئیے سے نہیں ہوتا، بلکہ یہ بنیادی خدمات تک رسائی کیلئے لوگوں کا حق ہوتا ہے، اگر حکومت کی جانب سے زمین کے تحفظ کیلئے کوئی قانون جاری ہوتا ہے تو اسے عوامی جذبات کا احساس بھی رکھنا ہوگا”۔
دو ہزار دس سے ماتا رام حکومت نے کھلے عام حوائج ضروریہ پر پابندی عائد کررکھی ہے، درجنوں اضلاع کا دعویٰ ہے کہ وہاں اس عادت بد کا خاتمہ ہوچکا ہے، مگر گاﺅں کے سربراہ اسمونی کا کہنا ہے کہ بہت زیادہ تعداد میں ٹوائلٹس کی تعمیر کیلئے زمین کا حصول آسان نہیں۔
اسمونی” ہم چاہتے ہیں کہ ہر خاندان کو بیت الخلاءکی سہولت دیستاب ہو، مگر لوگوں کے گھروں میں اس کیلئے جگہیں ہی موجود نہیں، یہ گھر تو بس ان کی رہائش کیلئے ہی کافی ہیں”۔
اس وقت تک سائرہ کو اپنی ضرورت پوری کرنے کیلئے دریا کا رخ کرنا ہی پڑے گا۔
سائرہ” مجھے اپنی ضرورت پوری کرنے کیلئے دریا کا رخ کرنا پڑتا ہے، ایسا میں اکثر رات کو کرتی ہوں، اس طرح لوگ مجھے پکڑ نہیں پاتے، ہر شخص ہی ایسا کرتا ہے”۔