اردو ادب میں ایک نئے اسلوب کو رائج کرنے والے معروف ناول نگار نسیم حجازی کو دنیا سے گزرے آج 17 برس بیت گئے۔
19 مئی 1914ءکو پنجاب کے ضلع گورداس پور میں پیدا ہونے والے نسیم حجازی کا اصل نام شریف حسین تھا، تاہم دوران تعلیم اپنے عربی کے استاد کے مشورے پر انھوں نے اپنا نام نسیم حجازی رکھ لیا۔
انھوں نے لکھنے کا سلسلہ 1936ءمیں اپنے پہلے ناولٹ شودر سے شروع کیا۔جس کے بعد وہ کچھ عرصے افسانے اور ناولٹ کے میدان میں طبع آزمائی کرتے رہے تاہم انہیں شہرت ملنے کا سلسلہ 1943ءمیں شائع ہونے والے ان کے پہلے ناول داستان مجاہد سے ہوا، جس کو محمد بن قاسم کی اشاعت نے مزید مستحکم کردیا۔
مگر ان کی اصل شہرت 1947ءمیں شائع ہونے والے ناول آخری چٹان سے ملی جس کا مقصد مسلمانوں کو برطانوی راج کے خلاف اٹھ کھڑا ہونے کے لئے حوصلہ افزائی کرنا تھا۔برطانوی راج سے آزادی کے وقت ان کا خاندان ہجرت کر کے پاکستان آگیا اور باقی کی زندگی انہوں نے پاکستان میں گزاری۔
لاہور آمد کے بعد اسپین میں مسلمانوں کے زوال کے واقعات پر مبنی ناول شاہین اور برصغیر کی خونی تقسیم کے حوالے سے خاک اور خون جیسے شہرہ آفاق ناول نے انہیں بام عروج پر پہنچا دیا۔نسیم حجازی کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ پہلے مصنف ہے جنھوں نے شیر میسور کے لقب سے معروف فتح علی المعروف ٹیپو سلطان کی شخصیت پر ایک مکمل ناول لکھا۔
انہوں نے تاریخ کو بڑے دلچسپ پیرائے میں ڈھال کر ناولز کی شکل دی۔ دو درجن سے زائد ناول تخلیق کئے اور ناول نگاری کی تاریخ میں ایک نئے موضوع ، نئے رجحان اور نئے انداز فکر کی بنیاد رکھی۔ نسیم حجازی نے تاریخ کو تحقیق کے ساتھ جوڑتے ہوئے اپنی تحریر کی چاشنی اور قاری کی پسند کو بھی مدنظر رکھا۔ان کی تحریروں میں جنگ کے شور سے لے کر رومانس کی موسیقی تک سب کچھ موجود ہے۔
ان کے ناول خاک و خون پر ایک فلم اور ان کے دو ناولوں شاہین اورآخری چٹان پر پی ٹی وی نے ڈرامے بھی بنائے۔ جنہوں نے مطالعے کا ذوق نہ رکھنے والے اور بغیر پڑ ھے لکھے لوگوں تک بھی ان کا پیغام موثر انداز میں پہنچادیا۔
تاریخی واقعات کو اجاگر کرنے والے نسیم حجازی یکم مارچ 1996ءکو خود تاریخ کا حصہ بن گئے، مگر ان کے لکھے ناول ہمیشہ تاریخی ورثہ اور سرمایہ کی حیثیت میں محفوظ رہیں گے۔