India’s Limbless Hip Hop Dancer – معذور بھارتی ڈانسر

ونود ٹھاکر بھارت کے ہپ ہوپ ڈانسر ہیں، حالانکہ وہ پیدائشی طور پر ٹانگوں سے معذور ہیں، تاہم انہیں ایک ٹی وی ٹیلنٹ شو میں اپنی پرفارمنس کے بعد شہرت ملی اور اب وہ ایک ڈانس اکیڈمی بھی چلارہے ہیں، جہاں معذور بچوں پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

آرٹسٹ مہا ودیا لایاڈانس اینڈ اکیڈمی نئی دہلی کے ایک میٹرو ریلوے اسٹیشن کے قریب واقع ہے، کرشنا باسومیٹری اس اکیڈمی کے شریک بانی ہیں۔

کرشنا”ہم معذور یا غریب طالبعلموں سے کوئی فیس نہیں لیتے، ہم صرف ان لوگوں سے پیسے لیتے ہیں جو یہ بوجھ برداشت کرسکتے ہیں”۔

اکیس سالہ پرمود بچپن میں پولیو کے مرض کا شکار ہوگیا تھا، وہ اس اکیڈمی اپنی معذوری کے باوجود رقص کی تربیت لے رہا ہے۔

پرمود”لوگ سمجھتے ہیں کہ میں ایک معذور شخص ہوں جو اپنی زندگی میں کچھ نہیں کرسکتا، ان کی سوچ بالکل منفی ہے، میں معذور ہونے کے باوجود خود پر فخر کرتا ہے، میں نے اپنی کمزوری کو ہی اپنی طاقت بنالیا ہے، اچھے رقص کے لئے مضبوط دل کی ضرورت ہوتی ہے ٹانگوں کا نمبر اس کے بعد آتا ہے، ونود ڈانس اسٹیپ کیلئے اپنے مضبوط ہاتھوں کا استعمال کرتا ہے”۔

چھبیس سالہ ونود ٹھاکر اس ڈانس اکیڈمی کا بانی ہے۔

ونود”میں جب پیدا ہوا تو ٹانگوں سے محروم تھا، میرا خاندان میرے مستقبل کے بارے میں بہت فکر مند رہتا تھا، مگر جب بھگوان آپ کو کوئی چیز نہیں دیتا تو وہ اس کے بدلے میں کوئی خصوصی تحفہ ضرور دیتا ہے بس ضرور اس کو تلاش کرنے کی ہے”۔

ونود بچپن سے ہی رقص کا شیدائی ہے، پہلے وہ موبائل فون رپئرنگ کا کام کرتا تھا پھر اس کے دوست نے اسے ایک ٹی وی ٹیلنٹ شو میں جانے کا مشورہ دیا، جس نے اس کی زندگی کو بدل کر رکھ دیا، وہ اس شو کے سیمی فائنل تک پہنچا اور اس کے بعد سے اسے معذور بریک ڈانسر کی حیثیت سے بھارت بھر میں جانا جاتا ہے۔

ونود”میں نے کبھی خود کو معذور شخص نہیں سمجھا، میں اپنے ہاتھوں کو اپنی ٹانگوں کی جگہ استعمال کرتا ہوں، شروع میں مجھے کھیلوں میں دلچسپی تھی مگر تبدریج میں رقص میں دلچسپی لینے لگا اور پھر میں نے ایک ٹی وی شو میں ہپ ہوپ ڈانسر کی حیثیت سے حصہ لیا، میں نے دیگر ممالک جیسے جنوبی کوریا اور تائیوان وغیرہ کے بھی رئیلٹی شوز میں حصہ لیا ہے”۔

وہ راتوں رات مشہور ہوگیا اور بھارت بھر میں میڈیا کی شہ سرخیوں کا حصہ بن گیا، گزشتہ برس ونود نے اپنی ڈانس اکیڈمی کی بنیاد رکھی تاکہ اپنے جیسے معذور افراد کو رقص کی تربیت دے سکے، وہیں اس کی ملاقات اپنی بیوی رکشاسے ہوئی۔

رکشا”مجھے یہ تو یاد نہیں کہ ہماری لو اسٹوری کیسے شروع ہوئی، مگر میری اس سے پہلی ملاقات اس کی ڈانس اکیڈمی میں ہی ہوئی تھی، وہ ٹی وی پر بہت مشہور تھا اور اس وقت میں اسکی بہت بڑی پرستار تھی، میں نے رقص سیکھنے کیلئے اکیڈمی میں داخلہ لیا، تربیت کے دوران میں نے دیکھا کہ ونود اپنے کاموں کیلئے کسی پر انحصار نہیں کرتا، بلکہ وہ اکیڈمی کے تمام افراد کا خیال رکھتا ہے، میں اس کی فطرت کے باعث اس کی محبت میں گرفتار ہوگئی”۔

ایک نجی بھارتی چینیل کو ونود اور رکشا کی کہانی کا پتا چلا تو اس نے شادی کی تقریب کی براہ راست نشریات کا اہتمام کیا، تاہم شروع میں ونود اوررکشاکے والدین اس رشتے کیلئے راضی نہیں تھے۔

رکشا”وہ جہاں بھی جاتا میں ہمیشہ اسکے ساتھ ہوتی، میں اسے اپنے بغیر کہیں جانے نہیں دیتی”۔

ونود”اسے ہی سچا پیار کہتے ہیں، وہ تو مجھے باتھ روم بھی اکیلے نہیں جانے دیتی”۔

اب یہ دونوں رقص پر مبنی رئیلٹی شوز میں اکھٹے شریک ہوتے ہیں۔

ڈانس اکیڈمی واپس چلتے ہیں، جہاں اس وقت اسی طالبعلم رقص سیکھ رہے ہیں، جن میں سے بیس معذور ہیں۔

ونود”میں نے ایک ٹرسٹ قائم کیا ہے جس کا نام دا انڈین ڈس ایبلڈ ٹیلینٹ ہنٹ ٹرسٹ ہے، تاکہ معذور بچوں کی ہر ممکن طریقے سے مدد کی جاسکے، میں انہیں معذور نہیں کہتا بلکہ خصوصی صلاحیتوں والے بچے کہتا ہوں”۔

روزانہ نئے طالبعلم مغربی اور ہپ ہوپ ڈانس سیکھنے کیلئے یہاں آتے ہیں، چودہ سالہ چیتنیابھی ایک ڈانسر بننے کا خواب دیکھتا ہے۔

چیتنیا”میں نے ونوڈ کو رقص کرتے دیکھا، میں اس کے ڈانس کو بہت پسند کرتا ہوں اور اس سے یہ سیکھنا چاہتا ہوں”۔