ایشیائی ترقیاتی بینک نے اندازہ لگایا ہے کہ برما میں فی کس آمدنی میں 2030ءتک چھ گنا اضافہ ہوجائے گا، جبکہ ایک اور رپورٹ کے مطابق برمیا اقتصادی شرح نمو خطے کے دیگر ممالک سے زیادہ تیز ہوگی، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
مقبول شاپنگ پلازہ جیسا ینگون کا یہ ہے، میں تھائی لینڈ یا ہانگ کانگ ساختہ مصنوعات کو باآسانی تلاش کیا جاسکتا ہے، مگر دو سال قبل ایسا ممکن نہیں، کیونکہ فوجی حکومت نے غیرملکی مصنوعات پر پابندی لگارکھی تھی۔
اکیس سالہ طالبہ ہنین سو ہلین شاپنگ مال میں ایک مغربی فلم دیکھ رہی ہے، وہ جنوبی برما سے آئی ہے کہ اور وہ غیرملکی مصنوعات سے متاثر نظر آتی ہے۔
“میں پہلے بھی یہاں آچکی ہوں مگر اب ہر چیز بدل چکی ہے، اب ینگون میں متعدد شاپنگ پلازہ بن چکے ہیں، لوگوں کا معیار زندگی بلند ہوا ہے اور ملازمتوں کے زیادہ مواقع سامنے آرہے ہیں، یہاں ایسے ایجنٹ کام کرنے لگے ہیں جو ہمارے لئے ملازمت تلاش کرتے ہیں، جبکہ ہماری تنخواہیں بھی بڑھ گئی ہیں”۔
دوہزار گیارہ میں جب سویلین حکومت کا قیام عمل میں آیا تھا، اس کے بعد سے حالات بدلنا شروع ہوئے، سب سے پہلے جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے متعدد برمی شہری واپس آگئے، جبکہ غٰرملکی سرمایہ کاروں نے مقامی صنعتوں میں سرمایہ کاری شروع کی، اسکولوں میں انگریزی اور چینی زبان سیکھائی جارہی ہے تاکہ طالبعلم بیرون ملک ملازمت حاصل کرسکیں، 34 سالہ زن زا تت تن نے اس نئی طلب کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ینگون میں ایک لینگوئج اسکول کھولا ہے، جہاں متعدد طالبعلم انگریزی، کورین، جاپانی اور چینی زبان سیکھ رہے ہیں۔ زن زا تسلیم کرتے ہیں وہ جدید ٹیکنالوجی کو پسند کرتے ہیں۔
زن زا”فیشن ٹرینڈ بدل رہا ہے، جب میں نوجوان تھا تو یہاں صرف ڈائل اپ ٹیلیفون ہی موجود تھے، اس کے بعد یہاں نوکیا موبائل آیا، اب ہم انتہائی مہنگے اسمارٹ فونز استعمال کررہے ہیں، کیونکہ رجحان بدل رہا ہے، ہم جب اس طرح کی ڈیوائسز استعمال کرتے ہیں تو ہمیں خود پر فخر محسوس ہوتا ہے”۔
اکیس سالہ ہیو ننداچینی زبان پڑھانے کا کام کررہی ہے، اپنی کلاس میں وہ اسمارٹ فونز کے بڑھتے رجحان پر لیکچر دے رہی ہے۔
نندا”اب ہر ایک کے پاس اسمارٹ فون ہے، اب وہ اپنے اسمارٹ فون کے ذریعے کہیں بھی انٹرنیٹ سے منسلک ہوسکتے ہیں، ہمیں انٹرنیٹ کیفوں پر پیسے ضائع کرنے کی ضرورت نہیں رہی، جبکہ فیشن میں بھی کافی تبدیلیاں آئی ہیں،جب بھی میں نوجوان لڑکیوں کو جدید ترین مغربی ملبوسات میں دیکھتی ہوں تو مجھے احساس کمتری ہوتا ہے”۔
اکتیس سالہ کھن سٹ یو آٹھ سال سے دبئی میں کام کررہی ہیں، انھوں نے یونیورسٹی سے ڈگری نہیں لی ، مگر پھر بھی کیشئیر کی حیثیت سے کام کرکے وہ ماہانہ نوسو ڈالرز کمالیتی ہیں، ابھی وہ کچھ دن کیلئے ینگون آئی ہوئی ہیں۔
فرائی فش اور کیکڑے وغیرہ ایک عام برمی شہری کیلئے مہنگا کھانا ہے۔
ست یو”بیرون ملک بنیادی تنخواہ یہاں کے مقابلے میں دس گنا زائد ہے، یہی وجہ ہے کہ میں بیرون ملک کام کرنے کیلئے گئی، شروع میں تو میرے گھروالوں نے مجھے اجازت نہیں دی، مگر میرے والدین اور بہن بھائی تیار ہوگئے اور میرے فیصلے کی حمایت کرنے لگے، اب میں باقاعدگی سے گھروالوں کو رقم بھیج رہی ہوں اور ہر چیز بالکل ٹھیک جارہی ہے”۔
عالمی بینک نے برمی اقتصادی شرح نمو کو سراہا ہے جو گزشتہ برس 6.5فیصد رہی، اور آپ ینگون کی گلیوں میں دیکھ سکتے ہیں کہ گاڑیوں کی بھرمار سے ٹریفک جام کا مسئلہ کتنا بڑھ چکا ہے۔
مگر 39 سالہ ٹیکسی ڈرائیور یہ لِین لیٹ کا کام تو عروج پر ہے۔
لِیت”میرے ایک دوست نے مجھے ٹیکسی چلانے کا مشورہ دیا تھا، میرا وہ دوست اچھی زندگی گزار رہا تھا اس لئے میں نے بھی ٹیکسی چلانے کا کام شروع کردیا”۔
ڈاکٹر مونگا اونگ ھکومت کے اقتصادی مشیر ہیں، انکا ماننا ہے کہ برمی معشیت مزید مضبوط ہوگی۔
اونگ”اب ہماری معیشت کا انحصار صرف ایشیائی مارکیٹوں پر نہیں، بلکہ یورپی مارکیٹ تک بھی ہمیں رسائی مل چکی ہے، اور توقع ہے کہ جلد امریکی مارکیٹ بھی ہمارے لئے کھل جائے گی۔ تو اب ہم عالمی طور پر تجارت کررہے ہیں، جس سے ہماری معیشت کی ترقی کیلئے بہت زیادہ مواقعے سامنے آرہے ہیں”۔