Four months after Typhoon Haiyan, the search for the missing continues – فلپائن میں سمندری طوفان کے بعد زندگی

فلپائن میں سمندر طوفان ہیان کو گزرے چار ماہ ہوگئے ہیں، اس قدرتی آفت سے سب سے زیادہ ٹیکلومبان نامی شہر متاثر ہوا تھا، جہاں اب بھی متعدد لاپتہ افراد کی تلاش کا کام جاری ہے، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

اے ،83 نامی یہ گاﺅں سمندر کے سامنے واقع ہے، گزشتہ سال آٹھ نومبر کو سمندری طوفان ہیان جسے مقامی طور پر یولینڈاکا نام دیا گیا، اس گاﺅں کے ہر گھر کو بہا لے گیا، مگر اب یہاں تعمیرنو کا کام جاری ہے۔اولیوکارڈینس ایک دایہ ہیں۔

اولیو”لوگ اب واپس آرہے ہیں، اور اپنے گھروں کی تعمیر دوبارہ کررہے ہیں، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ یولینڈاتاحال ان کے ذہن میں موجود ہے، یہ ایسی چیز نہیں جسے آسانی سے بھولا جاسکے، وہ تو ایک سانحہ تھا”۔

چھپن سالہ کورازون گوکا کہنا ہے کہ طوفانی لہریں تین فٹ تک بلند تھیں، وہ اس وقت ایک لکڑی اور مٹی کے ایک ملبے کے سامنے کھڑی ہیں، جسے وہ اپنے گھر کے طور پر استعمال کررہی ہیں۔

کورازون گو”میرا گھر مکمل طور پر تباہ ہوگیا تھا، میرے پاس گھر کی دوبارہ تعمیر کیلئے پیسے نہیں، اور اب میں اس انتظار میں ہوں کہ کوئی اس سلسلے میں میری مدد کرسکے”۔

تاہم اس علاقے میں صرف گھروں کا ہی نقصان نہیں ہوا، بلکہ سات افراد بھی سمندری طوفان کی نذر ہوگئے تھے، جن میں سے دوکورا زون گو کی بیٹیاں بھی تھیں۔

کورازون گو”وہ آخری وقت تھا جب میں نے اپنی بیٹیوں کو دیکھا، وہ پانی میں تیر نہیں سکی تھیں”۔

اب تک ان کی ایک بیٹی کی لاش مل چکی ہے، جبکہ دوسری بیٹی تاحالہ لاپتہ ہے۔ طوفان کے چار ماہ بعد بھی گمشدہ افراد کی تلاش بدستور جاری ہے۔

اس تلاش میں مدد دینے کیلئے امریکہ سے خصوصی تربیت یافتہ کتوں کو ٹیکلوبان لایا گیا ہے، یہ کتے خاص طور پر گاﺅں اے 83اور دیگر علاقوں میں واقع تیمر کے جنگلات میں افراد کی تلاش میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں، کتوں کو تربیت دینے والے جم ہوک ایک گروپ گلوبل ڈی آئی آر ٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔

ہوک”یہ کتے جانتے ہیں کہ کسی خاص بو پر کس طرح تلاش کا کام کیا جاتا ہے، یہاں یہ کتے انسانی لاشوں کی خاص بو پر سرچ کا کام کریں گے، انہیں اسی کام کی تربیت دی گئی ہے اور جب یہ کچھ تلاش کرتے ہیں تو یہ اشارہ دیتے ہیں جیسے بھونکنے لگتے ہیں یا اسی جگہ بیٹھ جاتے ہیں”۔

جب کسی لاش کو ڈھونڈا جاتا ہے تو سرچ ٹیم اس جگہ پر زرد ٹیپ لگادیتی ہے، جس کے بعد یہاں ریکوری ٹیم آتی ہے اور لاش کو اٹھالیتی ہے۔

ہوک”ہمیں امید تھی کہ تلاش کے اس کام کے دوران ہمیں کوئی لاش نہیں ملے گی، بدقسمتی سے مگر ہمیں ان باقیات کو تلاش کرنا ہی ہوگا

لاشوں کی تلاش ایک چیلنج ہے، جبکہ دوسرا چیلنج سمندری طوفان کے بعد اجتماعی قبروں میں موجود لاشوں کی شناخت کرنا ہے، ملک بھر کے ڈاکٹر ان لاشوں کا معائنہ کرکے ان کی شناخت کا کام کررہے ہیں، ڈاکٹر

روبیرٹو دیگو، فلپائنز نیشل بیورو آف انویسٹی گیشن کی ٹیم کے سربراہ ہیں۔

سین ڈیگو”ہم نے آج صبح نوے لاشوں کو قبر سے نکالا اور اب ہم انہیں اپنے خیمے میں لے کر جارہے ہیں، ہم ان کے کپڑوں کا جائزہ لیں گے اور کوئی شناختی دستاویز تلاش کرنے کی کوشش کریں گے، اگر کچھ نہیں ملا تو پھر لاشوں کا پوسٹمارٹم کرکے ان کے ڈی این اے نمونے جمع کئے جائیں گے”۔

کچھ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ افرادی قوت میں کمی کے باعث لاشوں کی دریافت اور شناختی عمل سست روی سے آگے بڑھ رہا ہے، انکا دعویٰ ہے کہ ٹیکلوبان سِٹی گورمنٹ مزدوروں کو اجرت ادا نہیں کررہی ہے، برنردٹا ویلینزولا شہر کے مئیر کی ترجمان ہیں، انکا کہنا ہے کہ مقامی حکومت اپنی ہر ممکن بہترین کوشش کررہی ہے۔

بر نر دتا”سمندری طوفان سے ہونیوالی تباہی بہت بڑی ہے، اس کیلئے ہماری کوششیں واقعی ناکافی ہیں، یہاں تک کہ بیرون ملک سے آنیوالی ٹیموں کی کوششیں بھی ناکافی ہیں، ہمارے وسائل اس تباہی کے مقابلے میں بہت محدود ہیں”۔

اب واپس اس گاﺅں میں چلتے ہیں جہاں مقامی افراد تعمیر نو کا کام کررہے ہیں، کورازونا گوکے اندر اب اپنی بیٹی کی تلاش کی امید دم توڑتی جارہی ہے۔

تین ماہ بعد ہماری امید ختم ہوچکی ہے کہ اب ہم اپنی بیٹی کی لاش کو دیکھ سکیں گے”۔