“فلائنگ سولز” سے ملئے، جو کہ جنوبی ایشیاءکی سب سے بڑی تہاڑ جیل کے اندر قائم کیا گیا اپنی طرز کا پہلا راک بینڈ ہے۔ اس گروپ نے حال ہی میں اپنا پہلا میوزک البم جیل کی سلاخوں کے پیچھے سے ریلیز کیا ہے۔
نئی دہلی میں میوزک ریلیز کی پارٹی میں راک بینڈ Flying Soul کے اراکین ایک گروپ فوٹو کیلئے طویل فاصلہ طے کرکے جمع ہوئے۔ اپنے ہاتھوں میں اپنے پہلے البم کی کاپیاں سنبھالے یہ افراد بہت پراعتماد اور پرجوش نظر آرہے تھے۔
اس طرح کے میوزک البمز تو سامنے آتے رہتے ہیں مگر انوکھی بات یہ ہے کہ یہ البم جنوبی ایشیاءکی سب سے بڑی جیل میں تیار کیا گیا۔ اس البم کی تیاری میں شامل تمام افراد قیدی ہیں، جبکہ البم کے افتتاحی تقریب کا انعقاد جیل انتظامیہ نے کیا۔
انتیس سالہ Shivani Vasan اس گروپ کی ایک گلوکارہ ہیں، وہ گزشتہ چار برسوں سے تہاڑ جیل میں قتل کے الزام میں قید ہیں۔ شِوانی وسان” یہ سب قسمت کا کھیل ہے، قسمت ہی لوگوں کو نامعلوم مقامات تک پہنچاتی ہے، مجھے اس نے تہاڑ پہنچا دیا۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ بھگوان مجھے اپنے بچپن کا خواب پورا کرنےکا موقع دینا چاہتا تھا۔ میں ہمیشہ سے گلوکارہ بننا چاہتی تھی جبکہ میرے والدین کی بھی یہی خواہش تھی۔ ایسا باہری دنیا میں تو نہیں ہوسکا مگر میرا خواب اس جیل میں ضرور پورا ہوگیا”۔
اس البم کا نام جانے انجانے رکھا گیا ہے، اس میں شامل تمام چھ گانوں کی موسیقی اور شاعری اس بینڈ کے اراکین نے خود کی ہے، بیشتر گانے محبت اور جدائی کے گرد گھومتے ہیں، جبکہ کچھ گانوں میں جیل کے پیچھے کی زندگی کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ان گانوں کی ریکارڈنگ کیلئے جیل کے اندر ہی ایک اسٹوڈیو قائم کیا گیا تھا۔ امیت سیکسنہ اس گروپ کی مرکزی گلوکارہ ہیں، وہ بھی قتل کے الزامات پر گزشتہ نو برس سے جیل میں ہیں، تاہم ان کی رہائی جلد متوقع ہے۔
امیت” ہم نے اپنا تمام وقت موسیقی کیلئے وقف کردیا ہے کیونکہ یہ ہمیں آسان راستہ فراہم کرتا ہے۔ ہم یہاں
انتہائی دباﺅ والی زندگی گزار رہے ہیں، گھر سے دوری ، اپنے خاندانوں کو یاد کرنا اور سب سے بڑھ کر ہمارے مقدمات میں روزانہ آنے والی پیچیدگیاں، یہ بہت مشکل زندگی ہے، ان حالات میں موسیقی ہی ہماری طاقت بنتی ہے۔ اب اسی سے ہمیں شہرت اور پہچان ملی ہے اور ہماری زندگیاں تبدیل ہوکر رہ گئی ہیں۔ میں تو خود کو اب ایک اسٹار سمجھنے لگی ہوں”۔
اس بینڈ کے اراکین کا انتخاب تہاڑ آئیڈئیل نامی مقابلے کے بعد ہوا، جو کہ معروف بھارتی ٹی وی شو انڈین آئیڈئیل کی طرز پر منعقد ہوا۔اس مقابلے کیلئے آڈیشن تین ماہ تک جاری رہے، جس کے بعد ساڑھے تین سو سے زائد قیدیوں کو مقابلے کیلئے منتخب کیا گیا۔ ایک مقامی میوزک کمپنی ون ریکارڈز نے رضاکارانہ طور پر ان قیدیوں کو مقابلے کیلئے تربیت فراہم کی۔ Naresh Bainsala اس کمپنی کے ڈائریکٹر ہیں۔ ناریش بینسالہ” میں قیدیوں کی صلاحیت دیکھ کر بہت متاثر ہوا۔ ان کے گانے، شاعری ، اداکاری اور رقص کی صلاحیتوں نے مجھے اعتماد دیا اور میں نے فیصلہ کیا کہ میں ان کے لئے کچھ بڑا کروں، اس فیصلے کا نتیجہ اس میوزک البم کی صورت میں نکلا ہے”۔
انکا کہنا ہے کہ تہاڑ جیل کے قیدیوں سے ایک سال طویل تعلق سے انہیں جیل کی اندر کی زندگی کے بارے میں جاننے کا موقع ملا، جس سے ان کی کئی غلط فہمیاں دور ہوگئیں۔ ناریش بینسالہ” لوگوں کے خیال میں جب کوئی شخص جرم کرتا ہے تو وہ ہمیشہ کیلئے مجرم بن جاتا ہے، مگر یہ سوچ صحیح نہیں۔ کوئی شخص غلط کام کرسکتا ہے مگر اس میں تبدیلی آنے کا امکان باقی ہوتا ہے۔ میں نے لوگوں کو تبدیل ہوتے دیکھا ہے اور میرا ماننا ہے کہ یہ وقت اور مواقعے ملنے سے ہی ممکن ہوتا ہے۔ ہم نے ان افراد کو ایک موقع دیا اور انھوں نے اپنے آپ کو منوا کر دکھایا، اگر ایسی طرح معاشرہ انہیں دوبارہ قبول کرلیں تو وہ پھر جرائم کی جانب نہیں لوٹے گے۔ مجھے توقع ہے کہ یہ میوزک البم ہمارے اس پیغام کو پھیلانے میں مددگار ثابت ہوگا”۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران تہاڑ جیل کی انتظامیہ نے مختلف اصلاحات متعارف کرائی ہیں تاکہ قیدی جرائم سے تائب ہوجائیں۔ Lokesh Chandra جیل سپرنٹنڈنٹ ہیں۔ لوکیش چندرا” جیل کی زندگی قیدیوں کیلئے مایوسی کا باعث بنتی ہے، وہ ہر وقت اداس یا مایوس رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے اس مقابلے کا انعقاد کروایا۔ درحقیقت قیدیوں نے ہمیں تجویز دی تھی کہ انڈین آئیڈئیل جیسی کوئی
چیز کرائی جائے۔ ہمیں یہ اپنے اصلاحاتی پالیسی کیلئے بہت زبردست خیال لگا، اس میں خطرات بھی تھے مگر اب ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ خطرات قابل قدر تھے کیونکہ صورتحال مکمل طور پر تبدیل ہوکر رہ گئی ہے۔ہم نے ان قیدیوں کے اندر سے ایک نئی شخصیت کو ڈھونڈ لیا ہے، اس سے ہمیں ان کے تخلیقی صلاحیت کا معلوم ہوا اور اب ہماری توجہ اس کو مزید بہتر بنانے پر مرکوز ہے۔ اب یہ لوگ جیل سے باہر جانے کے بعد دوبارہ جرائم کے بارے میں نہیں سوچے گے”۔
اب یہاں کے قیدیوں میں زندگی کے ایک نئے آغاز کی خواہش بہت زیادہ توانا ہوچکی ہے اور موسیقی ان کی پہلی ترجیح بن چکی ہے۔ Dheeraj Sansi نے تہاڑ آئیڈئیل مقابلے میں بہترین مرد گلوکار کا اعزاز جیتا تھا، اس پر اغوا کے الزام کے تحت مقدمہ چل رہا ہے۔ دِھیرج سنسی “میں نے جرائم اور مجرموں سے دور رہنے کا فیصلہ کیا ہے، اب میں کبھی جرم کرنے کے بارے میں سوچوں گا بھی نہیں۔ اب میں تہاڑ آئیڈئیل کے نقش قدم پر چلوں گا، میں تہاڑ آئیڈئیل کی طرح باہر بھی ایک اسٹار بنوں گا اور مجھے یقین ہے کہ میں ایسا کرسکتا ہوں”۔