Growing Blogsphere in Pakistan-پاکستان میں بلاگنگ کے رجحان میں اضافہ

حال ہی میں لاہور میں پہلی عالمی اردو بلاگرز کا انعقاد ہوا جس میں 70 افراد نے شرکت کی۔ پاکستان میں بلاگنگ میں تیزی سے اجافہ ہورہا ہے اور یہ لوگ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستان ادبی لحاظ سے زرخیر سرزمین ہے،

محمد حسن معراج پاکستان کے مقبول ترین بلاگرز میں سے ایک ہیں۔ انھوں نے 2011ءمیں بلاگنگ کا آغاز مختلف مضامین سے کیا، جس میں روایتی اقدار کو چیلنج کیا گیا۔محمد حسن معراج پاکستانی میڈیا گروپ ڈان میں بھی اپنے بلاگ کی وجہ سے بہت مشہور ہیں۔
محمد حسن “پاکستان میں میڈیا گروپس بہت بااثر ہیں، ان کی اپنی پالیسیاں ہوتی ہیں جن پر عمل کرنا پڑتا ہے۔ تو اگر آپ کسی کے حلقہ اثر سے آزاد ہوکر لکھنا چاہئے تو آپ کوغیرجانبدار ہونا پڑتا ہے۔ میرے خیال میں بلاگنگ بہترین میڈیا ہے، جس کے ذریعے آپ لوگوں تک اپنی آواز پہنچا سکتے ہیں۔ آپ کو اپنے بلاگ میں کمرشل بنیادوں پر نہیں سوچنا پڑتا، بلکہ صرف اپنی دیانتدارانہ رائے اور تجزئیے سے بلاگ کو سجاسکتے ہیں”۔
محمد حسن معراج وفاقی حکومت کیلئے کام کرتے ہیں اور انکا ماننا ہے کہ بلاگرز ادیبوں اور صحافیوں کے ارتقاءکا کام کرسکتے ہیں۔
محمد حسن “میں دنیا کے اس خطے کی پوشیدہ تاریخ کو سامنے لانا چاہتا ہوں، اور میں چاہتا ہوں کہ دنیا میں یہ پیغام بھیجو کہ یہ ملک دہشتگردوں کی سرزمین نہیں بلکہ ثقافتی طور پر ایک مالامال خطہ ہے۔ یہی وقت ہے کہ ہم اس سچ کو سب کے سامنے لائیں”۔

اردو بلاگرز کو مقبولیت 2007ءمیں اس وقت ملی جب سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے پاکستان میں ایمرجنسی کا نفاذ کرتے ہوئے مرکزی میڈیا پر سخت پابندیاں نافذ کردیں۔ دو برس بعد ملالہ یوسفزئی نے بھی لڑکیوں کی تعلیم پر بلاگز لکھ کر لوگوں کی توجہ حاصل کی۔ ملالہ کو گزشتہ برس طالبان نے قاتلانہ حملے میں زخمی کردیا تھا اور وہ اس برس امن کے نوبل انعام کیلئے نامزد ہوچکی ہیں۔اس وقت پاکستان میں ڈیڑھ سو سے زائد اردو بلاگرز موجود ہیں، جنھیں کچھ لوگ سراہتے ہیں تو اس کے ساتھ ساتھ کچھ حلقوں کی جانب سے انہیں دھمکیاں بھی ملتی ہیں۔ سوات سے تعلق رکھنے والے ایک بلاگر نام چھپانے کی شرط پر بتارہے ہیں۔

سوات بلاگر “میں نے اپنے بلاگ میں ایسی چیزیں لکھی ہیں جن کا اظہار میں اپنی زبان سے نہیں کرسکتا۔ میرے لئے اردو کے علاوہ کسی اور زبان میں اپنے خیالات کا اظہار مشکل ہے۔ ہر شخص عسکریت پسندوں کے بارے میں بولنے سے ڈرتا ہے، ان حالات میں بلاگنگ ہی صورتحال کی عکاسی کا بہترین ذریعہ ہے۔ جب میں اپنا بلاگ لکھتا ہوں تو مجھے سکون کا احساس ہوتا ہے۔ مجھے دھمکیاں بھری ای میلز بھی ملتی ہیں جنھوں نے مجھے فکرمند کردیا ہے، تاہم میں ملالہ کی طرح زیادہ مقبول نہیں اور میں نے اپنی شناخت بھی چھپائی ہوئی ہے، ملالہ ایک بہادر لڑکی ہے جس نے اپنی شناخت سب کے سامنے ظاہر کردی”۔
عالمی اردو بلاگنگ کانفرنس میں پاکستان کے علاوہ یورپ اور کینیڈا سے بھی افراد نے شرکت کرکے اپنے تجربات بتائے۔ محسن عباس ایشین کینیڈین جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے صدر اور اس کانفرنس کے آرگنائزر ہیں۔
محسن عباس “میرے خیال میں اس کانفرنس سے بلاگرز کیلئے نئے مواقعے دستیاب ہوں گے، متعدد افراد بلاگنگ کے طریقے کار اور ٹولز کے بارے میں سیکھنا یا جاننا چاہتے ہیں۔ عوام اس وقت سوشل میڈیا میں تو کافی متحرک ہیں مگر بلاگنگ میں ان کی دلچسپی زیادہ نہیں، یہی وجہ ہے کہ میں ان کی توجہ اس طرف مرکوز کرنا چاہتا ہوں، اس وقت لوگ سوشل میڈیا میں تصاویر یا دیگر چیزیں شیئر کرکے اپنا وقت ضائع کررہے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ یہ لوگ تخلیقی کام کریں اور یہ کانفرنس اس کے لئے ایک اچھا آغاز ثابت ہوگی”۔
ایم بلال نے کئی کتابیں تحریر کی ہیں اور اب وہ اردو میں بلاگ لکھ رہے ہیں۔ وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس طرف متوجہ کرنا چاہتے ہیں۔
ایم بلال “اردو بلاگرز کو بلاگز پر کچھ نہیں ملتا، کیونکہ مختلف نجی کمپنیاں انگریزی بلاگرز کو اسپانسر شپ فراہم کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اردو بلاگرز انگریزی بلاگرز سے نفرت محسوس کرتے ہیں۔ یورپ اور کینیڈا میں بلاگنگ ایک پیشہ بن چکا ہے، تاہم اردو بلاگرز رضاکارانہ طور پر اپنی تحریریں لکھ رہے ہیں۔ مگر وہ کتنے عرصے تک یہ کام رضاکار کے طور پر کرسکتے ہیں؟ اگر ہمارے دیہات سے اچھے اردو بلاگرز سامنے آئے تو ہم انگریزی بلاگز کا مقابلہ کرنے کے اہل ہوجائیں گے”۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *