(India’s Child Workers Unite) بھارتی مزدور بچوں کا اتحاد


(India’s Child Workers Unite) بھارتی مزدور بچوں کا اتحاد

بھارتی آئین کے تحت چودہ سال سے کم عمر بچے ملازمتیں نہیں کرسکتے، تاہم سرکاری اعدادوشمار کے مطابق دو کروڑ سے زائد کم عمر بچے ملک بھر میں چھوٹے چھوٹے کام کررہے ہیں۔ ان میں سے بیشتر بچے اپنے حقوق سے ناواقف ہیں، تاہم اب جنوبی بھارت میں اس حوالے سے ایک مہم شروع کی گئی ہے۔

اس وقت اگرچہ صبح کے پانچ بجے ہیں،تاہم مشرقی بنگلور کی سبزی منڈی میں مصروفیت عروج پر نظر آرہی ہے۔ سینکڑوں مزدور سبزیوں سے بھری بوریاں اپنی کمر پر لادے ادھر سے ادھر جارہے ہیں۔ گیارہ سالہ مہیش ٹرک پر یہ بوریاں لوڈ کررہا ہے۔مہیش روزانہ انتہائی جدوجہد کرتا ہے، سبزی منڈی میں کام کے بعد وہ اسکول جاتا ہے، جس کے بعد گھر جاکر وہاں کچھ کام کرتا ہے اور پھر پڑھائی کیلئے بمشکل وقت نکالتا ہے۔ اور پھر اگر کچھ وقت بچ جائے تو اپنے دوستوں کے ساتھ کھیل بھی لیتا ہے۔ مہیش کا کہنا ہے کہ وہ یہ کام اپنی ماں کی مدد کیلئے کررہا ہے۔

مہیش(male) “میرے والد شرابی ہیں اور میری ماں کی کمائی ہوئی ساری آمدنی نشے پر اڑا دیتے ہیں۔ میری ماں پرانے کپڑے جمع کرکے روزانہ سو ڈیڑھ سو روپے کمالیتی ہے، تاہم میرے والد وہ رقم چھین لیتے ہیں۔ میری ماں کیلئے زندگی بہت مشکل ہے، ہم نے قرضہ لیکر گھر تعمیر کرایا تھا، اور اب ہمیں وہ رقم ادا کرنی ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب میں آٹھ سال کا ہوا، تو میری ماں نے مجھے کام کرنے کیلئے کہا۔ کئی بار میں سوچتا ہوں کہ کاش میں ایک امیر بچہ ہوتا، تو پھر مجھے کسی قسم کی فکروں کا سامنا نہ ہوتا۔ میں اسکول جاتا اور ایک اچھی زندگی گزارتا”۔

مہیش کوئی واحد بچہ نہیں، غیر سرکاری ریکارڈز کے مطابق بھارت کے چھ کروڑ بچے اسی طرح کی زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ اعدادوشمار حکومتی تخمینے سے تین گنا زائد ہیں۔ بیشتر بچے خطرناک کام کررہے ہیں،پولیس ان بچوں کو جرائم پیشہ تصور کرتی ہے۔ مہیش اس حوالے سے بتارہا ہے۔

مہیش(male) “کئی بار جب ہم سبزی منڈی میں کام کررہے ہوتے ہیں، تو پولیس آکر ہم سے ہماری عمر پوچھتی ہے اور کہتی ہے کہ اگر تمہاری عمر چودہ سال سے کم ہے تو تم کام نہیں کرسکتے۔ کئی بار میرے چند دوستوں کو پولیس نے پکڑلیا، تاہم پولیس کے ہاتھوں میں مجھے کبھی مشکل کا سامنا نہیں ہوا۔ میں انہیں تفصیل سے بتاتا ہوں کہ اپنے گھر کی خراب صورتحال کےباعث مجھے کام کرنا پڑ رہا ہے۔ وہ پوچھتے ہیں کہ کیا تم اسکول جاتے ہو تو میں اس کا جواب اثبات میں دیتا ہوں”۔

مہیش مشرقی بنگلور میں Bhima Sangha children’s union نامی ادارے کے تیس نمائندگان میں سے ایک ہے، مہیش کا کہنا ہے کہ اس ادارے نے اسے چائلڈ ورکرز کے حقوق سے آگاہ کیا ہے۔

ہر ماہ اس ادارے کے نمائندگان ملکر متعدد موضوعات پر تبادلہ خیال کرتے ہیں، آج کے اجلاس میں یہ لوگ Children’s Labour Day کو منانے پر بات چیت کررہے ہیں۔

اس ادارے نے بیس برس قبل ملازمت پیشہ بچوں کی حالت و زار بہتر بنانے کیلئے کام شروع کیا تھا اور اب یہ ادارہ رواں برس امن کے نوبل انعام کے امیدواروں میں سے ایک ہے۔ Nandana Reddy اس ادارے کی بانی ہیں، انکا کہنا ہے کہ Bhima Sangha children’s union کا بنیادی مقصد بچوں کو متبادل راستے فراہم کرنا ہے۔

female) Nandana Reddy) “بچوں کے پاس آپشنز ہونے چاہئے، میرے خیال میں بچوں کو کام سے روکنا ٹھیک نہیں، انہیں اکھٹے ملکر کام کرنے اور تعلیم حاصل کرنے کے مواقع ملنے چاہئے۔ کم از کم اس سے ملک میں غربت میں کسی حد تک تو کمی آئے گی، ہمارے ملک میں متعدد بچے انتہائی غریب ہیں اور میرے خیال میں کام کرنے کا حق بنیادی حقوق میں سرفہرست ہے”۔

Bhima Sangha کے اراکین میں اس وقت تیرہ ہزار ملازمت پیشہ بچے شامل ہیں،اس چیز نے ریاست کرناٹک کو مزدور بچوں کے حوالے سے پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ ان بچوں کویہ بھی سیکھایا جاتا ہے کہ وہ اپنے مسائل کو کس طرح حل کرسکتے ہیں، مثال کے طور پر ایک گاﺅں میں مقامی انتظامیہ نے ایک ایسا پل تعمیر کرنے سے انکار کردیا جو اسکول جانے کیلئے بچوں کی ضرورت تھا۔Nandana Reddy اس حوالے سے بتارہی ہیں۔

female) Nandana Reddy) “انتظامیہ نے کہا کہ نہیں، ایسا نہیں ہوسکتا، ہم پل ضرور تعمیر کریں گے مگر یہاں نہیں ذرا آگے کسی اور جگہ پر، جو بہت خوبصورت اور مضبوط پل ہوگا، جہاں سے بچے سائیکل پر سوار ہوکر بھی گزر سکیں گے۔ اس وقت ایک چھوٹی سی بچی نے اٹھ کر کہا کہ میں جانتی ہوں کہ آپ لوگ یہ پل اتنی دور کس لئے تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔آپ لوگ وہاں اس لئے پل تعمیر کرنا چاہتے ہیں کیونکہ اس جگہ دریا کے دوسرے کنارے شراب کی دکان ہے۔ اور چونکہ آپ لوگ مے نوشی کے بعد دریا عبور کرنے میں مشکل محسوس کرتے ہیں، مگر ہم لوگ یہ پل اسی جگہ تعمیر کرانا چاہتے ہیں، اس طرح ہم صرف دس منٹ میں اسکول پہنچ جایا کریں گے”۔

بچی کے ان دلائل کے بعد مقامی حکومت کے پاس اس پل کی تعمیر کی منظوری دینے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔ حال ہی میں Bhima Sangha children’s union نے ایک کامیابی اس وقت حاصل کی، جب حکومت نے کم عمری کی شادیاں روکنے کیلئے ایک کمیشن تشکیل دیا۔ Nandana Reddy کا کہنا ہے کہ ان کا ادارہ بچوں کے خواب پورے کرنے کیلئے مدد کرتا رہے گا۔

female) Nandana Reddy) “ہمارا ادارہ بچوں کو ان کے خواب پورے کرنے میں مدد فراہم کرنا چاہتا ہے،مثال کے طور پر اگر وہ کام کرنا چاہتے ہیں تو انہیں تحفظ بھرا ماحول ملنا چاہئے، انکی نشوونما کا خیال رکھا جانا چاہئے، انہیں کسی ہنر کا ماہر بنانا چاہئے، ان کی دنیا کے بارے میں معلومات کو بڑھا ناچاہئے اور انہیں دونوں پیروں پر کھڑا ہونے میں مدد دی جانی چاہئے”۔

اب واپس سبزی منڈی کی جانب چلتے ہیں، جہاں مہیش اپنے گیارہ سالہ دوستVenkatesh کے ساتھ ملکر کام کررہا ہے۔ یہ دونوں ٹماٹروں سے بھری بوریاں اٹھائے ہوئے ہیں۔دن کے اختتام پر یہ دونوں سو روپے سے زائد کمانے میں کامیاب رہے، تاہم اپنے حقوق سے واقف اور مستقبل کے بارے میں پرامید Venkatesh کا خواب ہے کہ وہ اپنی برادری کی مدد کرے۔

male) Venkatesh) “آج میں اسکول جارہا ہوں، Bhima Sangha نے مجھے کتابیں دلانے میں مدد دی ہے، مجھے جب بھی کوئی مسئلہ پیش آتا ہے تو Bhima Sangha میری مدد کرتی ہے۔ میں Bhima Sangha کے اجلاسوں میں دیگر بچوں سے ملکر بہت خوشی محسوس کرتا ہوں، مجھے توقع ہے کہ جس طرح ابھی مجھے مدد مل رہی ہے، اسی طرح آگے بڑھ کر میں بھی ضرورت مند بچوں کی مدد کرسکوں گا”۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *