India’s Child Police – انڈیا چائلڈ پولیس

ایشین سینٹر فار ہیومین رائٹس کی ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارتی ریاست چھتیس گڑھ میں بچوں کو پولیس افسران کی حیثیت سے استعمال کیا جارہا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مقامی انتظامیہ نے اعتراف کیا ہے کہ تین سو سے قریب بچوں کو پولیس اہلکاروں کی حیثیت سے استعمال کیا جارہا ہے، یہ ان پولیس اہلکاروں کے بچے ہوتے ہیں جو اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران ہلاک ہوجاتے ہیں،اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

آنیمیش صرف آٹھ سال کا ہے مگر وہ پولیس کی وردی جسم پر چڑھا کر کام پر جانے کیلئے تیار ہے۔

اسکی 32 سالہ ماں سروجنی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بیٹے سے شرمندہ ہے۔

سروجنی”اسے اپنے کام کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں، اس کی عمر کے دیگر بچے ابھی بھی کھیل کود میں مصروف ہیں، مگر اسے کام پر بھیج دیا گیا ہے۔ یہ ہمارے لئے بہت مشکل صورتحال ہے مگر ہمارے پاس کوئی اور راستہ بھی نہیں”۔

آنیمیش کے والد ایک پولیس کانسٹیبل تھے جو اس وقت ہلاک ہوگئے جب وہ دو سال کا تھا، اس کے چچا چندراکانت داہیریا کا کہنا ہے کہا آ نیمیش کو اس واقعے کے بارے میں کچھ معلوم نہیں۔

چندر کانت”اس کی دوسری سالگرہ کے اگلے روز اس کے والد کام کیلئے ایک قریبی شہر گئے، وہ ٹرین سے واپس آرہے تھے،انھوں نے ہمیں ریلوے اسٹیشن سے فون بھی کیا، وہ ٹرین کے دوازے پر کھڑے اسٹیشن کو دیکھ رہے تھے کہ اچانک ان کا سر ٹریک پر موجود پول سے ٹکرا گیا اور وہ اسی جگہ مرگئے۔ ہمیں اس حادثے کے بارے میں اگلے روز معلوم ہوا”۔

آنیمیش پانچ سال کی عمر سے پولیس اہلکار کی حیثیت سے کام کررہا ہے۔

آنیمیش”میں ہر دوسرے روز دفتر جاتا ہوں، ایک میں اسکول جاتا ہوں اور اگلے روز ملازمت کیلئے دفتر، میں وہاں نہیں جانا چاہتا، کیونکہ وہاں لوگ ہروقت میرا مذاق اڑاتے ہیں”۔

آنیمیش پر اسکی والدہ نے کام پر جانے کیلئے اکسایا تھا۔

سروجنی”میں اسے چاکلیٹ، آئس کریم یا کوئی اور چیز دفتر جانے کے لئے دیتی ہوں۔ ماضی میں، میں بھی اس کے ساتھ دفتر میں چلی جاتی تھی یا میرا بھائی ایسا کرتا تھا، مگر اب وہ اپنی سائیکل پر خود چلا جاتا ہے”۔

آنیمیش چھتیس گڑھ پولیس میں کام کرنے والا اکیلا بچہ نہیں، بلکہ اس جیسے سینکڑوں بچے بھی یہ کام کررہے ہیں، یہ بچے فائلیں ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتے ہیں، کمرے صاف کرتے ہیں یا سنیئر عہدیداران کیلئے چائے بناتے ہیں، جس کے عوض انہیں ماہانہ اسی ڈالرز ملتے ہیں۔یہ بچے چھتیس گڑھ ریاست کی پالیسی کے تحت بھرتی کئے جاتے ہیں، جس کے تحت دوران ڈیوٹی ہلاک ہونے والے اہلکاروں کے بچوں کو ان کی جگہ رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔ یہ بچے ہفتے میں تین روز کام کرتے ہیں، مگر اس کے لئے انہیں اپنے اسکول سے چھٹی کرنا پڑتی ہے۔آنربن پھاٹک ایک سماجی کارکن ہیں۔

آنربن “یہ غیرانسانی فعل ہے کہ ایک پانچ سالہ بچہ اسکول کی بجائے دفتر جانے لگے۔ محکمہ پولیس کو ہلاک ہونے والے افسران کے خاندانوں کو مکمل تنخواہ دینی چاہئے، مگر اتنے چھوٹے بچوں کو دفتر میں بلانے سے گریز کیا جانا چاہئے۔ہم نے محکمہ پولیس کو ایک خط لکھ کر اس رجحان کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے، مگر اب تک کچھ ہوتا نظر نہیںآیا”۔

آنیمیش پولیس کی وردی پہنے سائیکل پر دفتر جارہا ہے، اسے اکثر اس کے دوست مذاق کا نشانہ بناتے ہیں۔

آنیمیش”وہ مجھے بچہ پولیس اہلکار کہتے ہیں، مجھے دفتر جانا بالکل پسند نہیں”۔