China’s Real Estate Prices Squeeze Renters – چین میں گھروں کے کرائے

رواں برس چین کی معیشت میں معمولی کمی دیکھی گئی ہے، تاہم چین میں جائیدادوں کی مارکیٹ تیزی سے ترقی پارہی ہے، جس کی وجہ سے مکانوں کے کرایوں میں گزشتہ پانچ برسوں میں بارہ فیصد اضافہ ہوگیا ہے، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

پچیس سالہ ا یلیکیا یینگایک ریسرچ کمپنی میں ٹیکنالوجی تجزیہ کار کی حیثیت سے کام کرتی ہیں، وہ اپنے دفتر کے قریب رہائش کیلئے ایک اپارٹمنٹ تلاش کررہی ہیں، وہ اس وقت اپنے دفتر سے ایک گھنٹے دوری پر واقع اپارٹمنٹ میں مقیم ہیں، جس کا کرایہ ادا کرنے میں ان کی آدھی تنخواہ ختم ہوجاتی ہے۔ اب وہ اسی کرائے پر اپنے دفتر کے قریب شہر کے مرکزی کاروباری علاقے میں رہائش کیلئے نئی جگہ ڈھونڈ رہی ہیں۔

الیکیا”کرایوں میں سالانہ دس فیصد اضافہ ہورہا ہے، خصوصاً کسی سب وے کے قریب یا شہر کے نئے شاپنگ پلازہ کے قریب رہنا کافی مہنگا ہے، جبکہ تنخواہیں اس تناسب سے نہیں بڑح رہیں، اب مسئلہ یہ ہے کہ متعدد جگہیں جو مجھے پسند آئیں وہاں کا کرایہ میرے بجٹ سے باہر ہے، جبکہ مالک مالکان نے اپنے گھروں کے ایک ایک کمرے کو بھی کرائے پر دے رکھا ہے”۔

ایلیکیا یینگ تنہا نہیں، ہوئی ہن لی حال ہی میں بیجنگ میں واقع اپنا اپارٹمنٹ اس وقت چھوڑا جب مالک مکان نے اسکا کرایہ بیس فیصد بڑھا دیا۔

ہو ئی” 2004 ءسے اب تک میرے اپارٹمنٹ کے کرائے میں سو فیصد اضافہ ہوچکا ہے، اس کی وجہ اقتصادی ترقی میں تیزی ہے، میں یہ تو نہیں کہتا کہ اسے مکمل طور پر کنٹرول کیا جائے مگر حکومت کو چاہئے کہ وہ اس ترقی کو مناسب رفتار میں لانے کی کوشش کرے”۔

حکومت نے تین سال قبل پراپرٹی قیمتوں میں کمی کیلئے اقدامات کا آغاز کیا تھا، ایک حالیہ حکومتی سروے کے مطابق چینی شہروں میں جائیدادوں کی قیمت بڑھنے کی رفتار کم ہوئی ہے، مگر وہ اب بھی بڑھ ضرور رہی ہیں۔ رواں برس مارچ میں حکومت نے رئیل اسٹیٹ سیکٹر پر گرفت مضبوط کرنے کیلئے گائیڈلائنز جاری کیں، جس میں ٹیکسز بڑھائے گئے۔شنگھائی کی انتظامیہ نے بینکوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایسے افراد کو قرضے جاری کرنا بند کردیں جو تیسرا گھر خرید رہے ہوں، جبکہ بیجنگ میں ایک شخص پر
صرف ایک گھر خریدنے کی پابندی عائد کردی گئی ہے۔تاہم ہوئی ہن لی کا ماننا ہے کہ قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری رہے گا۔

ہوئیہن”گھر کی خریداری چینی عوام کیلئے بہت اہمیت رکھتا ہے، سب سے پہلے تو وہ ایک گاڑی خریدتے ہیں اور پھر ایک گھر خریدنے کے خواہشمند ہوتے ہیں۔تو گھروں کی قیمتوں میں اضافہ تو لازمی امر ہے اور گھروں کی قیمتوں کے مقابلے میں دیکھا جائے تو تنخواہوں میں اضافہ نہ ہونے کے برابر ہے”۔

اولیا وانگایک معروف صحافی ہیں، جو بیجنگ کے ایک کاروباری جریدے سے وابستہ ہیں، انھوں نے پانچ لاکھ ڈالرز سے ایک اچھا اپارٹمنٹ خریدا اور اب وہ اسے کرائے پر دے رہی ہیں۔

اولیا وانگ”میں نے ڈیڑھ سو اسکوائر میٹر کے اپارٹمنٹ کے ہر اسکوائر میٹر پر آٹھ ہزار ڈالرز خرچ کئے اور پھر اسے کرائے پر دیدیا۔ مگر مجھے کرائے پر صرف 3200 ڈالرز ملے جس سے میرا قرضہ بھی پورا نہیں ہورہا تھا جسکی ماہانہ قسط چار ہزار ڈالرز ہے”۔

تاہم انہیں توقع ہے کہ انکی سرمایہ کاری محفوظ رہے گی۔

اولیا وانگ”اسٹاک مارکیٹ زیادہ اچھی نہیں جارہی اور بینکوں سے ملنے والا منافع بھی بہت کم ہے، اس وقت لوگ دیکھ رہے ہیں کہ بجنگ میں جائیدادوں کی قیمت میں دس فیصد سالانہ کی رفتار سے اضافہ ہورہا ہے اور وہ گھروں پر اپنا سرمایہ خرچ کرنا چاہتے ہیں، لوگوں کو توقع ہے کہ گھروں کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری رہے گا”۔

الیکیا یینگ کی نئے اپارٹمنٹ کی تلاش جاری ہے۔

یینگ”چین میں رئیل اسٹیٹ مارکیٹ عروج پر ہے، اگرچہ حکومت قیمتوں میں اضافے کو رجحان کو روکنے کیلئے کوششیں کررہی ہیں مگر اپارٹمنٹس کی قیمتوں میں اضافہ جاری ہے اور اس کی وجہ سے کرائے بھی بڑھ رہے ہیں”۔

اب تک چینی حکومت کی کوششیں زیادہ کامیاب نظر نہیں آتیں، جبکہ تنخواہوں میں اضافہ بھی اس تناسب سے نہیں ہورہا۔

یینگ”میری کمپنی میں سالانہ بنیادوں پر تنخواہوں میں اضافہ یقینی نہیں اور اکثر اس میں صرف دس فیصد ہی اضافہ ہوتا ہے جو کہ کرایوں کے مقابلے میں کم ہے۔ اب کمپنیوں کا کہنا ہے کہ جب تک معیشت ماضی کی طرح تیزی سے ترقی نہیں کرتی اس وقت تک تنخواہوں میں زیادہ اضافہ ممکن نہیں”۔

 a