(India’s Chakma tribe fight for citizenship) بھارتی چکمہ قبائل شہریت کے حصول کیلئے سرگرداں

 

بھارتی ریاست Arunachal Pradesh میں رہائش پذیر Chakma قبیلہ چھ دہائیوں سے شہریت کے حصول کی جنگ لڑ رہا ہے۔ یہ لوگ 1960ءکی دہائی میں بنگلہ دیش سے بھاگ کر یہاں آئے تھے اور اب انکی تعداد ساٹھ ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔ طویل جدوجہد کے بعد توقع ہے کہ بھارتی حکومت رواں برس ان افراد کو شہری حقوق دے سکتی ہے۔

Biswamitra Chakma، Diyun نامی گاﺅں کے کھیتوں میں دن بھر کام کرکے گھر واپس لوٹ رہے ہیں۔ انکی عمر اٹھاون برس ہے اور وہ بنگلہ دیش میں پیدا ہوئے تھے، تاہم یہ بھارتی گاﺅں گزشتہ پچاس برس سے انکا گھر بنا ہوا ہے۔

 (male) Biswamitra “مجھے صحیح طرح یاد نہیں کہ میں اس وقت کتنے برس کا تھا جب میرا خاندان نقل مکانی کرکے یہاں آیا۔ شاید اس وقت میری عمر آٹھ سال تھی۔ میرے ساتھ ماں، باپ، میرے چار بھائی اور بہنیں بھی یہاں آئی تھیں، مجھے یاد ہے کہ میرے والدین نے بتایا تھا کہ بنگلہ دیش میں ہمارا گھر ایک ڈیم کی تعمیر کے دوران پانی میں غرق ہوگیا تھا۔یہی وجہ تھی کہ اب ہم وہاں نہیں رہ سکتے”۔

1964ءمیں Kaptai hydro-electric dam کی تعمیر کے دوران ایک لاکھ Chakma افراد بے گھر ہوگئے تھے، جن کی بڑی تعداد نے بھارت میں پناہ لی تھی۔Bimal Kanthi Chakma قبائلی رہنماءہیں، وہ اس نقل مکانی کی وجوہات بتارہے ہیں۔

 (male) Bimal Kanthi Chakma “ہم بدھ مت کے ماننے والے ہیں اس لئے ہمیں بنگلہ دیش میں رہنے میں مشکل پیش آرہی تھی۔برصغیر کی تقسیم سے قبل ہم بھارت کے شہر ی تھے، تاہم تقسیم کے بعد ہمارا علاقہ پاکستان کے حصے میں آیا، مذہبی منافرت بھی ایک اہم وجہ تھی جس کے باعث نے ہم بنگلہ دیش سے نقل مکانی کی۔ ہم Arunachal Pradesh بھارتی انتظامیہ کے ساتھ مشاورت کرکے آئے تھے”۔

ان افراد کو بھارتی سرحدی فورسز نے سرحد عبور کرنے کی قانونی اجازت دی، تاہم انہیں تارکین وطن کی حیثیت نہیں دی گئی، کیونکہ متعدد خاندانوں کے اہم شناختی دستاویزات گم ہوچکے تھے۔یہی وجہ ہے کہ ان کی نقل مکانی قانونی ہونے کے باوجود انہیں بھارتی شہری کا درجہ نہیں مل سکا۔

Sanjay Chakma چند ماہ قبل ایک بیٹے کا باپ بنا تھا، تاہم وہ اس کا پیدائشی سرٹیفکیٹ تاحال حاصل نہیں کرسکا۔

 (male) Sanjay Chakma “میرے پاس تمام دستاویزات موجود ہیں اور میں نے تمام فارمز بھی بھرے تھے اور پھر سرکاری دفتر گیا۔ مگراس دفتر کا انچارج موجود نہیں تھا، حالانکہ دفتر کے باہر لگے نوٹس بورڈ پر صاف صاف لکھا تھا کہ منگل اور بدھ کا دن پیدائشی سرٹیفکیٹس کی رجسٹریشن کیلئے رکھا گیا ہے۔مگر افسران اس دن کبھی دفتر میں موجود نہیں ہوتے۔ ہم نے سنا ہے کہ سیاست دانوں نے افسران کو ہمارے قبیلے کیلئے پیدائشی سرٹیفکیٹ جاری کرنے سے روک رکھا ہے”۔

1992ءمیں بھارتی حکومت نے Chakma افراد کو بھارتی شہریت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی، مگر ریاستی حکومت نے اس حوالے سے اقدامات ہی نہیں کئے۔ اس قبیلے سے تعلق رکھنے والے طالبعلموں کو ریاستی حکومت کے زیرتحت چلنے والے اسکولوں میں داخلے کی اجازت نہیں ملتی، جبکہ وہ اپنی زمین بھی نہیں خرید سکتے۔Chakma افراد کا کہنا ہے کہ اس ریاست میں سیاسی طور پر Singpho کو غلبہ حاصل ہے اور وہ ہمارے قبیلے کو اجنبی سمجھتے ہیں جو ان کے وسائل اور مواقعوں پر قبضہ کرنے آئے ہیں۔ سنجے اس حوالے سے بتارہے ہیں۔

سنجے(male) “کئی بار میں یہ سوچ کر اداس ہوجاتا ہوں کہ میں Chakma قبیلے میں پیدا ہوا۔ کئی بار مجھے حیرت ہوتی ہے کہ آخر میں Chakma کیوں ہوں، اس ریاست کے دیگر قبائل ہمیں حقیر سمجھتے ہیں۔ ہم بھی انسان ہیں مگر ہمارے انسانی حقوق تسلیم نہیں کئے جاتے۔ اگر آپ کوشش کریں تو آپ کو متعدد واقعات معلوم ہوں گے کہ کس طرح ہمارے قبیلے کے افراد کو دیگر قبائل کے لوگوں نے گلیوں میں تشدد کا نشانہ بنایا۔ دفاتر میں ہمارا احترام نہیں کیا جاتا، ہم لوگوں کے پاس اس سلوک کو برداشت کرنے کے علاوہ کوئی آپشن موجود نہیں”۔

تاہم اب صورتحال تبدیل ہورہی ہے۔دو سال قبل مرکزی حکومت نے Chakma افراد کو شہریت دینے کے معاملے پر ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ گزشتہ سال جنوری میں طے کیا گیا کہ 2012ءکے آخر میں اس قبیلے کو شہری حقوق دیئے جائیں گے، تاہم ایک این جی او Committee for Citizenship Rights of the Chakma کے عہدیدار Bimal Kanthi کا کہنا ہے کہ جدوجہد ابھی ختم نہیں ہوئی۔

 (male) Bimal Kanthi “حکومت کے ساتھ ہماری بات چیت جاری ہے اور ہمیں توقع ہے کہ ان مذاکرات کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ ابھی ہمارے قبیلے کے بہت کم لوگوں کے پاس ووٹ ڈالنے کا حق ہے، ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے قبیلے کے ہر شخص کو یہ حق ملے، اس کے علاوہ ہم انتخابات میں حصہ لینے کا حق بھی چاہتے ہیں”۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *