Indian Child Labors – بھارتی چائلڈ لیبر

رواں ماہ کا آغاز مزدوروں کے عالمی دن سے ہوا، اس وقت بھارت میں چودہ سال سے کم عمر ایک کروڑ بیس لاکھ بچے محنت مشقت پر مجبور ہیں، حالانکہ اس ملک میں چودہ سال سے کم عمر بچوں سے کام کرانا غیرقانونی ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ۔

اس جیولری فیکٹری میں کام کرنے والے سات میں سے چھ چودہ سال سے کم عمر بچے ہیں۔ ان میں سے تین کی عمریں تو صرف آٹھ سال ہے۔انکے کام میں زہریلے کیمیکلز کو سنبھالنا اور مضر صحت دھویں کو سانس کے ذریعے اپنے جسم میں داخل کرنا بھی شامل ہے۔ ان بچوں کو روزانہ دس گھنٹے کام کرکے ایک ہفتے میں لگ بھگ ڈیڑھ سو روپوں کے قریب مل جاتے ہیں۔

بھارت میں بچوں کی بڑی تعداد کشیدہ کاری کی صنعت میں بھی کام کرتی ہے۔ عابد حسین اور ان کی اہلیہ شبانہ اپنے پڑوسیوں کے بچوں سے یہ کام کراتے ہیں۔ عابد کا کہنا ہے کہ بچوں کی چھوٹی انگلیاں سلائی کڑھائی کا کام بڑوں کے مقابلے میں زیادہ اچھا کرلیتی ہیں۔

عابد”ہمارے اپنے بچے نہیں جو ہماری مدد کرسکیں۔ میں خود دس سال کی عمر سے یہ کام کررہا ہوں۔ ہمارے کشیدہ کاری کے کام کی طلب بہت زیادہ ہے، مغربی ممالک میں بھی یہ طلب بڑھ رہی ہے جس کی وجہ سے ہمیں اپنا کام مسلسل جاری رکھنا پڑتا ہے”۔

عابد ان بچوں کو ڈیڑھ سو روپے ہفتہ دیتے ہیں، متعدد خاندانوں کیلئے یہ معمولی رقم اپنی بقاءکی جدوجہد کیلئے بہت اہم ہے، یہی وجہ ہے کہ والدین اپنے ننھے فرشتوں کو کام کرنے کیلئے بھیجتے رہتے ہیں۔

رواں برس فروری میں حکومت نے جے پور میں کئی گارمنٹس اور چوڑیاں بنانے والے کارخانوں پر چھاپے مارے، جس کے دوران تین سو کے قریب مزدور بچے کام کرتے پائے گئے۔ان بچوں کا کہنا تھا کہ وہ کسی وقفے کے بغیر روزانہ بارہ گھنٹے کام کرتے ہیں۔ایلوک شرما واس آپریشن میں شریک ایک این جی او کے عہدیدار ہیں۔

شرما”اتنی بڑی تعداد میں مزدور بچوں کی بازیابی سے ثابت ہوتا ہے کہ بچوں کو کام کرنے سے روکنے پر معمور حکومتی اہلکار اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام ہیں۔ سخت قوانین کے باوجود یہ مسئلہ بدترین ہوتا جارہا ہے۔ یہاں تک کہ پولیس نے کافی طویل عرصے تک ہماری شکایت بھی درج نہیں کی”۔

تاہم انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے کام کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور ان بچوں کو متبادل فراہم کررہے ہیں۔ سی بی ایس راٹھور، جے پور میں جوائنٹ لیبر کمشنر ہیں۔

راٹھور”اب یہ بچے اپنے والدین کے پاس واپس چلے جائیں گے، ریاستی حکومتوں نے ان بازیاب بچوں کیلئے خصوصی پروگرامز شروع کررکھے ہیں”

نیشنل چائلڈ لیبر پراجیکٹ ایسا ہی ایک پروگرام ہے جس کے تحت ان مزدور بچوں کی بحالی نو کا کام کیا جاتا ہے۔ حکومت نے خصوصی اسکول قائم کئے جہاں ان بچوں کو مفت تعلیم فراہم کی جاتی ہے۔ جے پور کے علاقے گیلٹا گیٹ میں بھی ایسا ہی ایک اسکول کام کررہا ہے۔

راٹھور”ان بچوں کو مفت تعلیم، مفت نصاب اور یونیفارم فراہم کیا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ انہیں کام چھڑوانے کے بدلے میں خصوصی اسکالر شپ دی جاتی ہے ۔ان اسکولوں میں مفت کھانا دیا جاتا ہے اور ان کا طبی معائنہ بھی ہوتا رہتا ہے”

صاہیمہ جے پور کے اس اسکول کی تیسری کلاس میں پڑھ رہی ہے، وہ کوے کے بارے میں ایک نظم سنارہی ہے۔ وہ جے پور کی ایک جیولری فیکٹری میں کام کرتی رہی ہے۔

صاہیمہ”میں صبح آٹھ بجے سے شام تک کام کرتی تھی، میرا کام قیمتی مگر خام پتھروں کو پولش کرنا اور ان کو ٹھیک کرنا تھا۔ یہ بہت مشکل کام ہے اور بچوں کو یہ نہیں کرنا چاہئے”۔

درحقیقت یہ بہت خطرناک کام ہے۔

صاہیمہ”پتھروں کو چمکاتے ہوئے میری انگلیوں سے خون نکلنے لگتا تھا، اس کے علاوہ میری ریڑھ کی ہڈی میں بھی مسئلہ پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ مجھے اپنے کام کیلئے بہت دیر تک بیٹھنا پڑتا تھا، میری آنکھوں بھی ہر وقت درد کرتی رہتی تھیں”۔

ساجد خان بھی ڈاہیمہ کے ساتھ پڑھ رہا ہے۔

ساجد”میں بھی اسی فیکٹری میں کام کرتا تھا، میرا کام نا تراشیدہ پتھروں کو ٹھیک کرنا تھا۔ پھر اس اسکول کے اساتذہ میرے گھر آئے اور میرے والدین کو قائل کیا کہ وہ مجھے کام سے اٹھا کر اسکول میں داخل کرائیں۔ اب میں مفت تعلیم، کتابیں، خوراک اور اسکالر شپ اس اسکول سے حاصل کررہا ہوں”

تسلیم خان بھی ایک مزدور رہ چکی ہیں، دس سال قبل جب وہ تیرہ سال کی تھیں، تو مشکل حالات کی وجہ سے وہ اپنے والدین کی مدد کیلئے ایک جیولری فیکٹری میں کام کرنے لگی تھی۔

تسلیم”میرے خاندان کی مالی حالت بہت خراب ہے، مجھے تعلیم کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا، تاہم چائلڈ لیبر اسکول میں کام کرنے والے ایک استاد نے میری مدد کی۔ یہاں آکر مجھے مفت تعلیم ملی اور اسکالر شپ دی گئی، آج میں نے فلسفے میں ماسٹرز کرلیا ہے اور اب میں اردو و فارسی میں پی ایچ ڈی کی تیاری کررہی ہوں”۔

آج تسلیم خوش ہیں کہ انہیں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا۔

تسلیم”میرے خیال میں، میں نے کام چھوڑ کر ٹھیک فیصلہ کیا۔ آج میں جب بھی ایسے رشتے داروں کے پاس جاتی ہوں، جن کے بچے تاحال کام کررہے ہیں، تو مجھے اپنے فیصلے پر فخر محسوس ہوتا ہے۔ تعلیم نے میرا مستقبل روشن کردیا ہے اور میں ایک لیکچرار بننا چاہتی ہوں”۔