پاکستان میں گزشتہ دنوں عام انتخابات کا انعقاد ہوا، جس میں پہلی بار خواجہ سراﺅں کو بھی ووٹ ڈالنے کا موقع ملا، جبکہ کچھ نے تو الیکشن میں بھی حصہ لیا۔ بندیا رانا بھی ان میں سے ایک ہیں۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
بندیا رانا کی انتخابی مہم کا ایک اور دن گزر گیا، وہ سندھ اسمبلی کی نشست کیلئے انتخابات لڑ رہی ہیں، اور انہیں پاکستان کی پہلی خواجہ سرا سیاستدان ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہوچکا ہے۔
کچی بستیوں میں ہر ایک بندیا کو ایک تفریح کا ذریعہ سمجھتا ہے، وہ گزشتہ چار دہائیوں سے شادیوں کی تقاریب میں رقص کرکے روزی کماتی رہی ہیں، مگر آج ایسا نہیں۔متعدد خواجہ سرا بندیا رانا کے پوسٹرز اٹھائے پھر رہے ہیں، وہ چاہتے ہیں شہری جیسے اقبال مسیح بندیا کو ووٹ دیں۔
اقبال مسیح”اس بار ایک خواجہ سرا کو موقع ملنا چاہئے تاکہ دیکھا جاسکے کہ وہ عوام کی فلاح و بہبود کیلئے کیا کرتا ہے، خواجہ سراﺅں کے عوامی خدمت کے جذبے کی پڑتال کی جانی چاہئے، انہیں موقع دیا جانا چاہئے کیونکہ وہ بھی ہماری طرح انسان ہیں”۔
پاکستان میں سیاستدانوں کی جانب سے عام طور پر صرف انتخابی مہم کے دوران ہی سیاستدان غریب افراد کے گھروں کا رخ کرتے ہیں، مگر جب وہ ایک بار منتخب ہوجاتے ہیں تو وہ غائب ہوجاتے ہیں۔ ایک خاتون نے چند روز قبل بندیا رانا کو اس وقت چندہ دیا جب ان کے ہاں پہلے بچے کی پیدائش ہوئی، جبکہ آج انھوں نے ووٹ ڈالنے کا وعدہ کیا۔
ملیکہ بی بی”سابقہ حکومت نے ہمارے لئے کچھ نہیں کیا، یہاں تک کہ ہمیں پینے کا پانی بھی میسر نہیں، یہی وجہ ہے کہ پورا حلقہ بندیا رانا کی حمایت کررہا ہے اور اسے منتخب کرے گا تاکہ ہمارے مسائل حل ہوسکیں”۔
نومبر 2011ءمیں سپریم کورٹ نے خواجہ سراﺅں کے حقوق کے حوالے سے تاریخ ساز فیصلہ سنایا تھا، جس میں حکومت کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ خواجہ سراﺅں کو شناختی کارڈ فراہم کرے اور دیگر شہریوں کے برابر حقوق دیئے جائین۔ اسی وجہ سے اس برادری کو پہلی بار حکومتی ملازمتوں،
تعلیم اور طبی سہولیات تک رسائی حاصل ہوئی۔
پاکستان بھر کے پانچ لاکھ کے لگ بھگ خواجہ سراﺅں نے اس فیصلے پر جشن منایا تھا، تاہم بندیا رانا کا کہنا ہے کہ زمینی حقائق میں ابھی زیادہ تبدیلی نہیں آئی ہے۔
بندیارانا”سپریم کورٹ نے ہمیں مساویٰ حقوق، سرکاری ملازمتیں اور مالی معاونت دینے کا حکم دیا تھا، جس پر عمل نہیں ہوا۔
انتخابات کے پیش نظر مختلف سیاسی جماعتیں ہماری ووٹوں کے حصول کی کوششیں کررہے ہیں، مگر انھوں نے اپنے پارٹی منشور میں ہمارے حقوق کا ذکر تک نہیں کیا ہے۔ تو میں نے سوچا کیوں نہ انتخابات میں کھڑی ہوں اور منتخب ہونے پر خواجہ سراﺅں کیلئے قانون سازی کی کوشش کروں”۔
اختر بلوچ صحافی ہیں اور انھوں نے خواجہ سراﺅں کے حوالے سے ایک کتاب بھی تحریر کی ہے۔
اکبر بلوچ”یہ برادری برصغیر میں بادشاہوں کے دور میں کافی بااثر تھے، اس وقت وہ اتنے بااثر تھے کہ بادشاہ کمشنرز اور دیگر عہدوں کا انتخاب ان کے مشورے پر کرتا تھا، بادشاہوں کے درباری یا جاگیردار ترقی کیلئے انہیں رشوت دیتے تھے، تو آپ خود سوچ سکتے ہیں کہ وہ کس قدر بااثر تھے، مغہ عہد کے دوران خواجہ سراﺅں کو بادشاہوں کی بیویوں کی سیکیورٹی کا اختیار حاصل تھا، تاہم مغل عہد کے بعد خواجہ سرا سڑکوں پر آگئے”۔
بندیا رانا اپنی برادری کے پہلے عوامی اجتماع سے انتخابی مہم کے دوران خطاب کرنے والی تھی، تاہم یہ تقریب طالبان کی جانب سے ملک بھر میں سیکیولر جماعتوں پر حملوں کے بعد منسوخ کردی گئی۔ تاہم انکا کہنا ہے کہ وہ یہ جنگ پہلے ہی جیت چکی ہیں۔
بندیا رانا”میں اسی روز جیت گئی تھی جب میرے کاغذات نامزدگی کو قبول کرلیا گیا تھا، اب انتخابات کے روز کے نتائج اہمیت نہیں رکھتے”۔
پاکستان بھر میں پانچ لاکھ کے لگ بھگ خواجہ سراءموجود ہیں، مگر صرف چند سو ہی بطور ووٹرز کے رجسٹر ہوسکے ہیں۔