مشرقی تمور خطے میں خام تیل اور قدرتی گیس کی پروسیسنگ کے حوالے سے اہم کردار ادا کرنے کا خواہشمند ہے، اس سلسلے میں حکومت کی جانب سے کافی کوششیں کی جارہی ہیں۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
مشرقی تمور کی قومی آئل کمپنی کوتیمور گیپ کا نام دیا گیا ہے، اس کمپنی نے مشرقی تمور اور آسٹریلیا کے درمیان زمین لی ہے تاکہ خام تیل اور قدرتی گیس کے ذخائر کی دریافت اور پروسیسنگ کا کام کیا جاسکے، تاکہ یہ چھوٹا سا ملک اقتصادی طور پر زندہ رہ سکے۔ تاہم آسٹریلیا کے ساتھ شراکت داری کا معاہدہ کرنا بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ گزشتہ ماہ کمپنی نے 24% فیصد اسٹیک کے ساتھ جاپانی اور اطالوی کمپنیوں سے ایک علاقے میں ذخائر کی تلاش کے معاہدے پر دستخط کئے۔یہ مشرقی تمور کی اپنے قدرتی وسائل کو ترقی دینے کی پہلی براہ راست کوشش ہے، تیمور گیپ ،فرانس دی کو سٹا مونٹیرو کے سی ای او ہیں۔
کوسٹا”ہمارے لئے یہ ایک بہت بڑا سنگ میل ہے، نہ صرف ہمارے ملک کیلئے بلکہ ہماری کمپنی کیلئے بھی، جس سے ہمیں اس صنعت میں آگے بڑھنے کا موقع ملے گا”۔
اس مخصوص علاقے میں کافی مواقع موجود ہیں، ساحلی علاقوں میں جاری سرگرمیوں میں کافی پیشرفت نظر آرہی ہے، تیمور گیپ کا ایک کام یہ بھی ہے کہ وہ حکومت کے اہم ترقیاتی منصوبوں میں بھی مدد فراہم کرے۔ جنوب مغرب ساحلی علاقے میں سوئی سپلائی پہلا مرحلہ ہے، زمینوں کے مالکان کو یہاں سے معدنیات ملنے پر دس فیصد منافع کا لالچ دیکر گیارہ سو ایکڑ زمین حاصل کی گئی ہے۔ انسٹیٹیوٹ فار ڈیولیپمینٹ ،سیچینئر چارلس کے محقق ہیں، انھوں نے اس منصوبے کے حوالے سے مقامی آبادی سے بات کی ہے۔
چارلس”ہمیں یہاں سے منافع ملنے کی زیادہ امید نہیں، ہمارے تجزئیے ظاہر کرتے ہیں کہ اقتصادی نقطہ نظر سے یہ ایک سوالیہ منصوبہ ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم حیران ہے کہ آخر مقامی آبادی نے کس طرح اپنی زمینیں حکومت کے حوالے کردیں، ہمارے خیال میں یہ کاشتکار یا ماہی گیر منصفانہ معاوضہ کی توقع رکھتے ہوں گے، مگر یہ واضح نہیں کہ یہ منصوبہ کس حد تک کامیاب ہوسکے گا”۔
مونٹیرو بتارہے ہیں کہ اس معاہدے کے تحت آپریشنل منافع میں سے دس فیصد مقامی آبادی کو دیا جائے گا، تاہم انکا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت اس پر پھر سے غور کررہی ہے۔
مونٹیرو”حکومت اس سپلائی بیس سے حاصل ہونے والے منافع کی ممکنہ تقسیم کے حوالے پرعزم ہے، یعنی دس فیصد منافع لوگوں کو دیا جائے گا، یہ ایک اصولی معاہدہ ہے اور حکومت اس پر کام کررہی ہے، تاہم ابھی اس حوالے سے تفصیلات سامنے آنا باقی ہے”۔
گزشتہ دنوں حکومت نے اس حوالے سے ایک سرکلر بھی جاری کیا۔
مونٹیرو”تمام تر فوائد کے ساتھ مقامی آبادی کیلئے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے، یعنی تعمیراتی اور آپریشنل مراحل کے دوران مقامی افراد کو ہی زیادہ ترجیح دی جائے گی، جبکہ زمینوں کے مالکان کو اس منصوبے سے دس فیصد منافع بھی ملے گا۔ یہ آسٹریلیا سمیت کسی بھی دیگر ملک کے مقابلے میں زمینوں کو مالکان کو دیا جانے والا سب سے زیادہ منافع ہے”۔
تاہم آسٹریلین قوانین کے تحت زمین مالکان کو تحفط فراہم کیا جاتا ہے، جبکہ مشرقی تمور میں ایسا نہیں۔ چارلس شینراس حوالے سے اظہار خیال کررہے ہیں۔
چارلس”وزارت انصاف نے درحقیقت دو روز قبل زمینوں کے حوالے سے مجوزہ قانون کا حتمی مسودہ جاری کیا ہے، جس کے تحت زمینوں کی منتقلی اور زمینوں کو قومی منصوبوں کیلئے مقامی برادری سے قبضے میں لینے کے حوالے سے طریقہ کار درج کای گیا ہے، چونکہ زمینوں کی منتقلی سے انتہائی جلدبازی میں قانون منظور کیا جارہا ہے جس پر ہمیں تحفظات ہیں”۔