India Raises Cyber Shield – بھارتی سائبر سیکیورٹی

بھارت نے اپنے سائبر سیکیورٹی سسٹم کو مزید بہتر بنانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اہم انفراسٹرکچر کو مزید مضبوط بنایا جاسکے، اس سے سائبر حملوں سے بھی بچاﺅ ممکن ہوسکے گا۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

بھارت اپنی سائبر ایجنسی تشکیل دینے کیلئے تیار ہے، جس کا نام نیشنل سائیبر کو آرڈینیشن سینٹر رکھا جائے گا۔ اس ایجنسی کا بنیادی کام سائبر سیکیورٹی کو لاحق خطرات کا تجزیہ کرنا اور ان کے تدارک کیلئے رپورٹس تیار کرنا ہوگا۔ سائبر سیکیورٹی کے حوالے سے اہم وزارتوں جیسے دفاع، داخلہ اور آئی ٹی کو بھی اہم کردار دیا جائے گا۔یہ ضرورت اس وقت محسوس ہوئی جب قومی سیکیورٹی کے حوالے سے حساس مواد ذخیرہ کرنے والی ویب سائٹس پر ہیکرز کے حملے ہوئے، مارچ کے شروع میں مشتبہ ہیکرز نے بھارتی فوجی ادارے کے کمپیوٹرز کا ڈیٹا اڑا دیا، جسے بھارتی تاریخ میں سیکیورٹی میں سب سے بڑا شگاف قرار دیا جارہا ہے،سُبھو روئے بھارتی انٹرنیٹ و موبائل ایسوسی ایشن کے صدر ہیں۔

روئے”پہلی بات تو یہ ہے کہ میرے خیال میں یہ طویل عرصے سے کہا جارہا ہے کہ اس حوالے سے فریم ورک تیار کیا جائے تاکہ سائبر حملوں کی روک تھام کی جاسکے، یعنی ایسے اہم اداروں اور معلومات جنھیں ہم ملکی ترقی اور دفاع کیلئے اہم سمجھتے ہیں انکے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ تو میرے خیال میں یہ ایک اچھا اقدام ہے، اگرچہ اس میں کچھ تاخیر ضرور ہوئی ہے مگر کچھ نہ ہونے کے مقابلے میں تاخیر بھی بہتر ہی ہوتی ہے”۔

تحقیقی رپورٹس سے ثابت ہوا ہے کہ انٹرنیٹ کا استعمال حیرت انگیز رفتار سے بڑھ رہا ہے اور بھارت عالمی سطح پر اس حوالے سے سب سے آگے ہے۔ توقع ہے کہ دو ہزار سترہ تک انٹرنیٹ صارفین کی تعداد چالیس کروڑ ہوجائے گی، جو کہ 2012ءمیں صرف پندرہ کروڑ تھی۔ راجیش چہاریہ، ایک نجی آئی ایس پی کمپنی سی جے کے چیف ایگزیکٹو ہیں، وہ حالیہ حکومتی فیصلے کی اہمیت کے بارے میں بتارہے ہیں۔

راجیش چہاریہ”اس وقت انٹرنیٹ براڈبینڈ صارفین کی تعداد کافی کم ہے، تاہم اس حوالے سے حکومتی ہدف کافی بڑا ہے۔ اور جب بہت زیادہ لوگ انٹرنیٹ خاندان کا حصہ بنیں گے تو اس وقت انٹرنیٹ سیکیورٹی بہت اہمیت اختیار کرجائے گی، ہماری حکومت اس حوالے سے جارحانہ سوچ رکھتی ہے تاکہ انٹرنیٹ صارفین کو نقصانات سے بچایا جاسکے”۔

انکا کہنا ہے کہ نئی سائبر پالیسی بہت اہم ہے۔

راجیش “ہمیں اپنے تمام اہم انفراسٹرکچر کا تحفظ کرنا ہوگا، کیونکہ جب ہر چیز آن لائن ہوگی اور تو شخص انٹرنیٹ استعمال کرے گا تو اپنے نظام کو انتہائی مضبوط اور محفوظ بنانا بھی بنیادی ذمہ داری ہوگی”۔

اختیارات کے غلط استعمال کے خدشات کو دور کرنے کیلئے حکومت نے احتساب کیلئے بھی اقدامات کئے ہیں، محکمہ انفارمیشن ٹیکنالوجی اس حوالے سے غیرجانبدار ادارے کا کام کرے گا، بھارت میں امریکہ کی جانب سے دنیا بھر سے ڈیٹا چرائے جانے کی خبریں سامنے آنے کے بعد کافی تشویش پائی جاتی ہے۔اسکیٹو مہتایک معروف مصنف ہیں۔

مہتہ”اگر امریکی حکومت من موہن سنگھ کے ای میل اکاﺅنٹ میں تانک جھانک کرتا رہے گا، تو اسے روکنے کیلئے ہمارے پاس کوئی قانونی راستہ موجود نہیں۔ تو میں بہت فکرمند ہوں، ایک بھارتی ہونے کی حیثیت سے امریکی حکومت جان سکتی ہے کہ میں کس کو ای میلز کررہا ہوں، کون آپ کو فون کررہا ہے، آپ کے پیارے کون ہیں، آپ کی کتنی آمدنی ہے، اپنے ملک اور خاندان کے بارے میں آپ کیا سوچتے ہیں”۔

سبھا رائے کے خیال میں اس حد تک پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔

سبھا رائے”میں اس حوالے سے زیادہ تشویش زدہ نہیں، کیونکہ ایسا ریاستی سطح پر ہورہا ہے۔ میرے خیال میں انفرادی سطح پر کسی ایک شہری کے ڈیٹا تک رسائی کا واقعہ کبھی کبھار ہی ہوتا ہے، یعنی جب تک کوئی خاص ہدف مقرر نہ کرلیا جائے، ورنہ اس حوالے سے قوانین موجود ہیں”۔

مگر اہم سوال یہ ہے کہ کیا بھارت سائبر حملوں کی روک تھام کے حوالے سے مہارت رکھتا بھی ہے یا نہیں؟ سروے سے معلوم ہوا ہے کہ بھارت میں گزشتہ پانچ برس کے دوران پانچ لاکھ افراد نے آئی ٹی کے میدان میں قدم رکھا ہے، تاہم ان میں سے سائبرسیکیورٹی کے ماہرین کی تعداد صرف 37 ہزار ہے۔

رائے “اس سیکیورٹی انفراسٹرکچر کو تشکیل دینے کیلئے کافی تربیت یافتہ افرادی قوت کی ضرورت ہوگی، ہمارا ملک آئی ٹی ماہرین پیدا کرنے والا بڑا ملک ہے مگر ہمیں سائبر سیکیورٹی کے حوالے سے لوگوں کو تربیت دینے کا کام آسان نہیں، کیونکہ اس کے لئے مختلف طریقے کی تربیت دینا ہوتی ہے، اس وقت ہمارے ملک کو ایسے انجنیئرز کی قلت کا سامنا ہے”۔