(India Passes Sexual Harassment Bill)بھارتی خواتین کیلئے بل

ایک حالیہ برطانوی سروے میں بھارت کو خواتین کیلئے دنیا کا سب سے بدتر مقام قرار دیا گیا۔جبکہ چار برس قبل نیشنل کرائم بیورو کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں ہر گھنٹے میں دو خواتین کی آبروریزی ہوتی ہے۔خواتین کے تحفظ کیلئے بھارتی پارلیمنٹ نے گزشتہ دنوں ایک بل منظور کیا ہے، تاہم کچھ تجزیہ کار اس سے زیادہ خوش نہیں۔

Jaspreet Kitty نئی دہلی کی ایک ایڈورٹائزنگ کمپنی میں جونئیر منیجر ہیں۔

(female) Jaspreet Kitty “جب میں نے کام کرنے کا فیصلہ کیا، تو مجھے معلوم تھا کہ یہ مشکل ثابت ہوگا، اور میری سوچ صحیح ہی ثابت ہوئی ہے”۔

وہ مزید بتارہی ہیں۔

 (female) Jaspreet Kitty ” میں ایک ایسے ادارے میں جہاں میں دیگر خواتین کو ہراساں کئے جانے کے واقعات دیکھتی رہتی ہوں، ہمیں اس بارے میں بات کرنے کی اجازت بھی نہیں دی جاتی۔ مجھ سے پہلے ایک خاتون کو ہراساں کیا گیا جو تنگ آکر ملازمت چھوڑ گئی، پھر میرے ساتھ ایسا ہونے لگا، اس مسئلے پر عام طور پر تین ردعمل سامنے آتے ہیں، پہلا یہ کہ آپ اس معاملے کو نظرانداز کرنا شروع کریں، تاہم اس کے بعد اگر آپ یہ سمجھے کہ آئندہ ایسا نہیں ہوگا تو یہ بہت بڑی غلطی ہے۔ اس کے علاوہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ میں سب کچھ بھول کر گھر بیٹھ جاﺅں اور اپنے آپ کو ملامت کروں کہ میں نے اس کے خلاف آواز کیوں نہیں اٹھائی، جسکی وجہ سے میرے بعد دیگر خواتین کو بھی ہراساں کیا گیا، اس کے علاوہ سر اٹھا کر اس کے خلاف جدوجہد کرنے کا راستہ ہے”۔

Jaspreet Kitty نے اس کے خلاف آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا، جس کی قیمت انہیں ملازمت سے نکالے جانے کی صورت میں چکانی پڑی۔بھارتی حکومت کے تخمینے کے مطابق ساٹھ فیصد بھارتی خواتین کو دفاتر میں ہراساں کیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ گزشتہ دنوں اس کی روک تھام کے لئے Sexual Harassment Bill پارلیمنٹ میں منظور کیا گیا، جسکا مقصد مستقبل میں دفاتر میں کام کرنے والی خواتین کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔

یہ بل پارلیمنٹ میں دو برس سے زیرالتواءتھا، اسے بغیر کسی بحث کے منظور کرلیا گیا، کیونکہ اپوزیشن کی ساری توجہ حکومت کے

خلاف سامنے آنیوالے اسکینڈلز پر مرکوز ہے۔خاتون فلمساز Vandana Kohli نئے بل کو خوش آمدید کہتی ہیں۔

 (female) Vandana Kohli “یہ ایک مثبت پیشرفت ہے، اس بل کے مندرجات کا جائزہ لے، جس میں ہر چیز کو واضح طور پر درج کیا گیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس پرعملدرآمد ہو پاتا ہے یا نہیں”۔

اس بل کو سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق تیار کیا گیا ہے، بھارتی عدالت نے جنسی طور پر ہراساں کیا جانا خواتین کے خلاف امتیازی سلوک قرار دیا ہے۔ہراساں کئے جانے سے آئین میں ہر شہری کو مساوی حقوق دینے کے تصور کی بھی خلاف ورزی ہوتی ہے۔سپریم کورٹ کی وکیل پنکی آنند اس بل کی وضاحت کررہی ہیں۔

پنکی آنند(female) “درحقیقت اس میں بہت سے حساس معاملات کو شامل کیا گیا ہے۔اس بل میں قابل تعزیر جرائم میں جنسی خواہش کے اظہار، طنزیہ فقرے کسنا، بے ہودہ اشارے، بے ہودہ گانے، قابل اعتراض استقبال اور جسمانی طور پر ان سے چھیڑ چھاڑ کو بھی شامل کرلیا گیا ہے۔ یعنی اس بل میں ہر چیز کو شامل کرلیا گیا ہے”۔

اب تمام دفاتر پر شکایات درج کرنے کا نظام وضع کرنا اور ہراساں کئے جانے کے الزامات کی تحقیقات کرانا لازمی قرار دیدیا گیا ہے۔

پنکی آنند(female) “اس سلسلے میں کمیٹی قائم کرکے شکایات کا جائزہ لیا جائے گا اور اس حوالے سے رپورٹ تیار کی جائے گی۔ کمیٹی کی رپورٹ کے بعد مزید اقدامات کا فیصلہ کیا جائے گا، کہ اسے فوجداری جرم قرار دیکر پولیس سے رجوع کیا جائے ،دفتری سطح پر سزا دی جائے یا عدالت سے رجوع کرکے معاملہ اس پر چھوڑ دیا جائے”۔

اس قانون کی خلاف ورزی پر کمپنی مالکان پر ایک ہزار ڈالر جرمانے کی سزا عائد ہوگی، مسلسل خلاف ورزی ثابت ہونے پر کمپنی کی رجسٹریشن اور لائسنس بھی منسوخ کیا جاسکتا ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ اس بل میں خواتین کی جانب سے غلط شکایت پر بھی سزا رکھی گئی ہے۔ Centre of Social Research کی ڈائریکٹر رنجنا کماری اس چیز سے خوش نہیں۔

رنجنا کماری(female) “جب آپ کہتے ہیں کہ غلط شکایات پر خواتین کو بھی سزا ملے گی، یا شواہد پیش کرنے کا بوجھ مرد کی جگہ عورت پر ڈال رہے ہیں، تو اس کا مطلب ہے کہ آپ خواتین پر مزید دباﺅ بڑھا رہے ہیں۔ کیونکہ خواتین کے لئے شکایت درج کرانا ویسے ہی اتنا آسان نہیں ہوتا، اگر ایسا کر بھی لے تو پورا دفتر اسے غلط ثابت کرنے پر تل جاتا ہے۔ مرد حضرات کیلئے اکھٹا ہوکر خواتین کو غلط ثابت کرنا اتنا مشکل نہیں”۔

Jaspreet Kitty اپنے ساتھیوں پر جنسی ہراسگی کے الزامات ثابت کرنے کی راہ میں پیش آنیوالی مشکلات کے بارے میں بتارہی ہیں۔

 (female) Jaspreet Kitty ” سب سے پہلے تو کردار کشی کی جاتی ہے، خواتین کے ساتھ ایسا کرنا بہت آسان ہے، اس کے کپڑوں پر تبصرے کئے جاتے ہیں، اس کی ترقی اور دیگر مراعات روک لی جاتی ہے، اسے جھوٹا ثابت کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے، ایسا سب کچھ میرے ساتھ ہوچکا ہے”۔

Swarup Sarkar ایک این جی او Save Indian Family کے رکن ہیں،وہ اس بل کے خلاف ہیں۔

سرکار(male) “یہ بل دفاتر میں بلیک میلنگ اور استحصال کا سبب بنے گا، اس سے دفاتر کی ہم آہنگی تباہ ہوجائے گی، ہمارا مطالبہ ہے کہ اس قانون کو کسی ایک جنس تک محدود نہ رکھا جائے، مرد ہو یا خواتین ملزم ثابت ہونے پر انہیں یکساں سزا دی جائے”۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *