بھارتی شہر ممبئی میں ایک بائیس سالہ فوٹو جرنلسٹ اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنی، پولیس نے اس جرم میں ملوث تمام افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم اس سے بھارت میں اس تاثر کو شدید دھچکہ لگا ہے کہ ممبئی خواتین کیلئے سب سے محفوظ شہر ہے، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
سینکڑوں مرد و خواتین ممبئی کے ایک پولیس تھانے کے باہر احتجاج کررہے ہیں، وہ عصمت دری کے واقعات روکنے کا مطالبہ کررہے ہیں، اور ان کے ہاتھوں میں پوسٹرز ہیں جن پر لکھا ہے کہ ہم خواتین کے خلاف اس طرح کے سنگین جرائم برداشت نہیں کریں گے۔تیس سالہ مدھو متامظاہرین میں شامل ہیں۔
مدھو”ہم بس یہ چاہتے ہیں کہ شہروں کو اتنا محفوط بنادیاج ائے کہ ہمیں باہر نکلتے ہوئے ڈر نہ لگے، ہم اپنا کام کرنا چاہتی ہیں اور ہم مشکل چیلنجز پر کام کرنا چاہتی ہیں، ہم صرف دفتر میں بیٹھنا پسند نہیں کرتیں، یا ہم گھروں پر نہیں رہنا چاہتیں، ہم یہ نہیں کہتے کہ شہر کو جنت جیسا محفوط بنایا جائے مگر ہم شہروں کو محفوظ بنانا ضرور چاہتے ہیں”۔
اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی بائیس سالہ صحافی ایک انگریزی جریدے کیلئے کام کرتی ہے، وہ دفتری کام کے سلسلے میں شہر کے ویران انفراسٹرکچر پر کام کررہی تھی کہ پانچ مردوں کے ایک گروپ نے اس پر حملہ کردیا، اس کے ساتھیوں پر تشدد کرکے باندھ دیا گیا۔ معروف کالم نگار شوبھا ڈی کا کہنا ہے کہ ممبئی اب خواتین کیلئے محفوظ نہیں رہا۔
شوبھا”ہمیں جو نظر آرہا ہے اور محسوس ہورہا ہے وہ یہ کہ صرف ممبئی یا دہلی نہیں بلکہ بھارت بھر میں خواتین کیلئے ایمرجنسی کی صورتحال پیدا ہوچکی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس سے پہلے ممبئی کو ملازمت پیشہ خواتین کیلئے محفوظ سمجھا جاتا تھا، مگر کیا یہاں تحفظ کے بغیر کامیابی ممکن ہے؟”
گزشتہ برس ممبئی میں زیادتی کے دو سو سے زائد کیسز درج کروائے تھے، مگر ممبئی پولیس کمشنر ستیا پال سنگھ کا اصرار ہے کہ یہ شہر دیگر شہروں کے مقابلے میں ابھی بھی کافی بہتر ہے۔
سنگھ”صرف ایک یا دو واقعات کا مطلب یہ نہیں کہ شہر غیرمحفوظ ہے، نیشنل کرائم ریکارڈزبیورونے 53 شہروں میں ایک تحقیق کرائی ہے، ان میں سے جرائم کے لحاظ سے ممبئی 48 ویں نمبر پر موجود تھا”۔
تاہم یہ پیغام بالکل واضح ہے کہ زیادتی کے واقعات کا خاتمہ کرنا ہوگا، این ڈی ٹی وی کی میلونی بھٹ نے ممبئی میں سینکڑوں صحافیوں کے خاموش احتجاج میں شرکت کی، تاکہ خواتین کے تحفط کو یقینی بنایا جاسکے۔
میلولین”ہم سب یہاں یہ واضح پیغام دینے کیلئے بیٹھے ہیں کہ آئندہ کوئی بھی خاتون اس طرح کے ظلم کا شکارن ہ ہوسکے، ہم اپنی آواز اٹھا رہے ہیں، ہم آج معاشرے کی بات کررہے ہیں اور ہم اس میں موجود مسائل کو ٹھیک کرناچاہتے ہیں”۔
ممبئی اجتماعی زیادتی کے بعد بھارت میں جنسی تشدد کے خلاف تحریک میں نئی تیزی آئی ہے، گزشتہ سال نئی دہلی میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی طالبہ کی ماں کی المناک یادیں پھر تازہ ہوگئی ہیں۔
ذیاتی کا شکار ہونے والی لڑکی کی ماں”جب میں نے ممبئی واقعے کے بارے میں سنا تو میری بیٹی کا چہرہ میرے سامنے زندہ ہوگیا، یہ بہت تکلیف دہ تھا، اس طرح کے واقعات کو روکنے کا واحد طریقہ ملزمان کو سخت سے سخت سزائیں دینا ہے”۔
حکومت نے جنسی جرائم کے حوالے سے سخت قوانین متعارف کرائے ہیں، جبکہ خواتین کے تحفظ کیلئے دیگر اقدامات بھی کئے گئے ہیں، مگر اب بھی زمینی سطح پر صورتحال میں زیادہ تبدیلی نہیں آئی۔ رنجنا کماری سینٹرل فار سوشل ریسرچ کی ڈائریکٹر ہیں۔
رنجنا کماری”اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ بھیانک اقدامات کرنے والوں کو کوئی خوف نہیں، انہیں قانون، پولیس اور نظام انصاف کا کوئی ڈر نہیں، انہیں یقین ہے کہ وہ ہر حال میں بری ہوجائیں گے، ہمارے معاشرے میں درندے آزادی سے گھوم رہے ہیں اور خواتین محفوط نہیں”۔
متعدد حلقوں کا کہنا ہے کہ قوانین پر عملدرآمد، سخت سزائیں اور پولیس و عدالتی اصلاحات کی ضرورت ہے، تاہم انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والی وکیل اندیر جے سینگھ کا کہنا ہے کہ بنیادی وجوہات کا جاننا زیادہ ضروری ہے۔
اندیر”مجھے احساس ہوتا ہے کہ معاشرتی طور پر ہم ناکام ہورہے ہیں اور ہم اس کی بہتری کی بجائے صرف پولیس پر سارا الزام دھر رہے ہیں، ہمیں دیگر وجوہات کو بھی دیکھنا ہوگا اور ایک بڑی وجہ بچوں کو ابتدائی عمر میں اس حوالے سے تعلیم دینا ہے تاکہ وہ اپنی شخصیت کو سنوار سکیں”۔