ایک اطالوی سیاح کو بھارتی ماﺅ باغیوں نے مارچ کے مہینے میں اغوا کردیا تھا، جسے گزشتہ دنوں اس وقت رہا کردیا گیا، جب بھارتی حکومت نے اپنی قید میں موجود چند عسکریت پسندوں کو چھوڑنے پر رضامندی ظاہر کی۔ یہ بھارت میں پہلی بار تھا کہ ماﺅ باغیوں نے غیرملکیوں کو ہدف بنایا تھا۔
Bhubaneswar نامی شہر میں 51 سالہ Paulo Bosusco پریس کانفرنس کے دوران بے انتہا خوش نظر آرہے تھے۔
male) Paulo Bosusco) “میرے پاس امن کے الفاظ کے سوا کہنے کو کچھ نہیں، میں بہت خوش ہوں اور بھارت میں حاصل ہونیوالے تجربات پر سب کا شکرگزار ہوں، میرے دل میں یہاں کے لوگوں کی یاد ہمیشہ موجود رہے گی”۔
Paulo Bosusco کو ان کے اطالوی ساتھی Claudio Colangelo کے ہمراہ ریاست اوڑیسہ کے ضلع Kandamal سے اغوا کیا گیا تھا۔ Colangelo کو تو دس روز بعد رہا کردیا گیا، تاہم Paulo Bosusco کا انتظار کافی طویل ثابت ہوا۔ انہیں اس وقت رہائی ملی جب ریاستی حکومت ایک سنیئر ماﺅ رہنماءکی بیوی سمیت 27 قیدیوں کو رہا کرنے کیلئے تیار ہوگئی۔حکومت کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہ اقدام انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کیا، مگر اس فیصلے پر حزب اختلاف کی مرکزی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے شدید تنقید کی۔ Chandan Mitra بی جے پی کے سنیئر رہنماءہیں۔
)male) Chandan Mitra “حکومت نے ان ماﺅ باغیوں کو جیل سے رہا کرکے بڑی غلطی کی ہے، یہ خطرناک مجرم ہیں، میں کہنا چاہتا ہوں کہ اس معاملے میں ماﺅ باغیوں کے مطالبات کو مسترد کردیا جانے چاہئے تھا، کیونکہ وہ اب مستقبل میں اس طریقہ کار کو اپنا معمول بنالیں گے۔ میرے خیال میں ہم نے ایک ایسی مثال قائم کردی ہے جس کی ہمیں مستقبل میں بھاری قیمت چکانا پڑے گی”۔
ماﺅ باغی اکثر مقامی سرکاری افسران کو اغوا کرتے رہتے ہیں، جنھیں چھڑانے کیلئے انتظامیہ جیل میں قید افراد کو رہا کرتی رہتی ہے، مگر یہ پہلی بار تھا کہ انھوں نے غیرملکیوں کو اٹھالیا۔ باغیوں کے مطابق یہ اطالوی سیاح دریا میں غسل کرنے والی خواتین کی تصاویر کھینچ رہے تھے، تاہم Bosusco Paulo اس بات کی تردید کرتے ہیں۔ ماﺅ باغیوں نے Paulo Bosusco کو رہا کرنے کے بعد اوڑیسہ کے قبائلی علاقوں میں غیرملکیوں کی آمد پر پابندی لگادی ہے۔ کچھ عرصہ قبل ہی اوڑیسہ کی حکومت نے پانچ ماﺅ باغیوں سمیت تیرہ قیدیوں کو حکومتی جماعت کے رکن اسمبلی Beju Janata Dal کو عسکریت پسندوں کی قید سے چھڑانے کیلئے رہا کیا تھا۔GD Bakshi ایک سیکیورٹی تھنک ٹینک United Services Institution of India کے رکن ہیں، انھوں نے قیدیوں کے تبادلے کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کیا ہے۔
male) GD Bakshi ) “ہم نے کبھی حکومت کو مغویوں کی رہائی کیلئے آپریشن کرتے ہوئے نہیں دیکھا، بلکہ حکومتی سوچ تو شکست خوردہ ہوچکی ہے۔ جب بھی کوئی شخص اغوا ہوتا ہے تو ہم قیدیوں کے تبادلے کیلئے تیار ہوجاتے ہیں۔ ہماری سیکیورٹی فورسز ان دہشتگردوں کو پکڑنے کیلئے قربانیاں دے رہی ہے، مگر ہم اس طرح کے روئیے کا مظاہرہ کررہے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ ہماری نظر میں فوجیوں کی زندگیوں کی کوئی اہمیت نہیں، اور ہم ان کی کوششوں کو بے کار سمجھتے ہیں”۔
اس وقت بھارت کے دوتہائی اضلاع میں مختلف ماﺅ گروپس اپنی گرفت مضبوط کئے ہوئے ہیں، خصوصاً مغربی، مشرقی اور وسطی بھارت کے قبائلی علاقوں میں تو وہ مکمل طور پر چھائے ہوئے ہیں۔ ماﺅ باغیوں کا دعویٰ ہے کہ وہ قبائلی عوام کے حقوق کی جنگ لڑرہے ہیں، تاکہ حکومت کو ان کی زمینوں پر قبضہ کرنے سے روکا جاسکے۔ یہ عسکریت پسند اکثر پولیس و فوجی اہلکاروں کو بارودی سرنگوں کی مدد سے نشانہ بناتے ہیں۔ Swapan Dasgupta ایک سنیئر صحافی ہیں۔وہ اسے بھارت کیلئے انتہائی بدترین تنازعہ قرار دیتے ہیں۔
male) Swapan Dasgupta) “اگر آپ 2005ءسے 2010ءکے اعدادوشمار جمع کریں تو معلوم ہوگا کہ کشمیر میں تشدد کے دوران اگر 1082 افراد ہلاک ہوئے، تو اس کے مقابلے میں اس عرصے کے دوران ماﺅ باغیوں کے حملوں میں 3041 افراد مارے گئے۔اس سے آپ کو وزیراعظم کی اس بات کی سچائی کا اندازہ ہوگا کہ ماﺅ باغی بھارت کو درپیش سب سے بڑا اندرانی خطرہ ہیں”۔
اوڑیسہ پر حکمران جماعت بی جے ڈی کے ترجمان Binaki Mishra حکومتی سوچ کا دفاع کررہے ہیں۔
male) Binaki Mishra) “اسرائیل جسے انتہائی سخت گیر ریاست سمجھا جاتا ہے، نے حماس کی قید میں پانچ برس سے موجود اپنے ایک فوجی کو رہا کرانے کیلئے 1093 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا، حالانکہ اسرائیلی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ وہ اس طرح کی صورتحال پر کسی قسم کے مذاکرات نہ کرنے کی پالیسی اپناتا ہے۔ تو اس سے آپ خود اندازہ لگاسکتے ہیں کہ کوئی حکومت، کوئی قوم، کوئی معاشرہ معصوم افراد کی زندگیوں کو بچانے کیلئے اپنے روئیے میں نرمی لائے بغیر رہ ہی نہیں سکتا”۔
متعدد حلقوں کا ماننا ہے کہ ماﺅ تحریک چھ عشروں تک بھارتی قبائلی عوام کے ساتھ برتی جانے والی غفلت اور ان کے استحصال کانتیجہ ہے۔ منی شنکر ایئر پارلیمنٹ کے رکن اور دیہی ترقی کے سابق وزیر ہیں۔
آئر(male) “بھارت میں ترقی کے موجودہ عمل سے معاشرے کا جو حصہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے وہ قبائلی عوام ہیں، جن کی زمینوں میں موجود معدنیات اور جنگلات پر قبضہ کیا گیا۔ان کا استحصال کیا گیا اور ان کی فلاح کا خیال رکھے بغیر ان کے پانی کے وسائل پر قبضہ کیا گیا۔جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ وہاں مایوسی کی لہر پھیل چکی ہے، جو اس وقت بھارتی قوم کیلئے سب س ے بڑا چیلنج بن چکی ہے”۔
1998ءمیں بھارتی حکومت نے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جسے ماﺅ عسکریت پسندی کی وجوہات جاننے کا کام سونپا گیا تھا۔ اس کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں غیرمنصفانہ ترقیاتی عمل کو بنیادی وجہ قرار دیا ، حکومت اور باغیوں کے درمیان مذاکرات کار کا کردار ادا کرنے والے پروفیسر G Hargopal کا کہنا ہے کہ تمام غریب علاقوں میںیہ تنازعہ موجود نہیں۔
male) G Hargopal) “ماﺅ نواز ہر جگہ موجود نہیں، یہاں بہت سے ایسے اضلاع بھی ہیں جہاں ایک بھی ماﺅ باغی موجود نہیں، مگر وہاں بھی غریب اور قبائلی عوام کو انتہائی مشکل زندگی کا سامناہے۔ آخر ان علاقوں میں ترقیاتی کام کیوں نہیں ہورہے “۔
بھارتی فوج نے ماﺅ باغیوں کیخلاف کئی بار فوجی آپریشن کئے، مگر کوئی خاص کامیابی نہیں مل سکی۔E N Rammohan حکومت کے قومی سلامتی بورڈ کے سابق رکن ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ اس مسئلے کے سماجی اور سیاسی پہلوﺅں کا تنقیدی جائزہ لیکر ہی اسے حل کیا جاسکتا ہے۔
male) E N Rammohan ) “جب بھی کسی علاقے میں عسکریت پسندی سر اٹھاتی ہے تو حکومت کو خود سے سوال پوچھنا چاہئے کہ آخر شہریوں نے ہتھیار کیوں اٹھا لئے ہیں؟ وہ ترقی کا مطالبہ نہیں کرتے، بلکہ وہ اپنی ان زمینوں اور جنگلات کے تحفظ کے بنیادی حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اس مسئلے کی بنیادی وجہ ہی لوگوں کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھنا ہے”۔