Written by prs.adminJuly 31, 2012
(India Corruption Protests Reboot) بھارت میں کرپشن کے خلاف احتجاج پھر شروع
Asia Calling | ایشیا کالنگ . Politics Article
(India Corruption Protests Reboot) بھارت میں کرپشن کے خلاف احتجاج پھر شروع
بھارت میں ایک بار پھر سے کرپشن کے خلاف انا ہزارے کا احتجاج شروع ہوگیا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت انسداد بدعنوانی قانون کو فوری طور پر پاس کرے۔
پارلیمنٹ کی عمارت کے قریب جنتر منتر گلی میں درجنوں مظاہرین ملی نغمے گارہے ہیں۔ یہ لوگ اپنے تین ساتھیوں کو غیرمعینہ مدت تک کیلئے بھوک ہڑتال کیلئے اخلاقی سہارا دینے کیلئے یہاں موجود ہیں۔یہ لوگ انا ہزارے کے گرد کھڑے گا رہے ہیں اور تالیاں بجارہے ہیں۔
لگ بھگ سات ہزار افراد یہاں انا ہزارے کی حمایت کیلئے موجود ہیں، گزشتہ برس جب انا ہزارے نے پہلی بار انسداد بدعنوانی مہم کے دوران بھوک ہڑتال کی تو یہ تعداد لاکھوں میں تھی۔یہ لوگ پارلیمنٹ میں انسداد بدعنوانی قانون کی منظوری کیلئے احتجاج کرنے کیلئے جمع ہوئے تھے، یہ بل جسے لوک پال کا نام دیا گیا، ایوان زیریں میں پیش ہوا اور منظور بھی ہوگیا، تاہم ایوان بالا میں اس کی منظوری کافی عرصے سے تعطل کا شکار ہے، جبکہ انا ہزارے کی تحریک کے حامیوں کا کہنا ہے کہ حکومتی بل بہت کمزور ہے۔ پندرہ سالہ کومل دہلی کے مضافات سے 20 کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کرکے اس احتجاج میں شریک ہوئی ہے۔
کومل(female) “میں اتنی دور پیدل چل کر بہت تھک گئی تھی، تاہم جب میں نے انا ہزارے کو دیکھا تو میری ساری تھکن دھل گئی۔ میں بہت خوش اور خود کو تازہ دم محسوس کررہی ہوں”۔
احتجاج کرنے کے مقام پر ایک چبوترہ اور خیمہ لگا ہوا ہے، جبکہ یہاں ایسے پندرہ وزراءکی تصاویر بھی لگائی گئی ہیں جن پر کرپشن کے الزامات ہیں، ان میں وزیراعظم من موہن سنگھ اور نومنتخب صدر پرناب مکھرجی کی تصاویر بھی شامل ہیں۔پرناب مکھرجی سابق وزیر خزانہ ہیں اور ان پر متعدد مالی گھپلوں کے الزامات ہیں۔ Arvind Kejriwal انا ہزارے کی تحریک کے رکن ہیں۔
(male) Arvind Kejriwal “اگر لوک پال بل موجود ہوتا تو مکھرجی کبھی بھی صدر نہیں بن پاتے، کیونکہ انہیں تحقیقات کا سامنا جو ہوتا”۔
اس تحریک میں شامل افراد حکومت سے چاہتے ہیں کہ وہ ان پندرہ وزراءکے خلاف الزامات کی تحقیقات کروائے، تاہم حکومت یہ مطالبہ تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں۔ انا ہزارے کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ حکومت لوک پال بل پر نظرثانی کرتے ہوئے اسے مزید سخت بنائیں اور اسے جلد از جلد منظور کرائے۔ Arvind Kejriwal کا کہنا ہے کہ وہ اپنی بھوک ہڑتال اس وقت تک ختم نہیں کریں گے جب تک مطالبات تسلیم نہیں کرلئے جاتے۔
(male) Arvind Kejriwal “ہم اس بار آنکھیں بند کرکے حکومتی دھوکے بازی میں نہیں آئیں گے۔ اس بار کوئی وعدہ یا یقین دہانی کام نہیں کرے گی، ہم عملی اقدام چاہتے ہیں اور ہم مطالبات تسلیم ہونے تک پیچھے نہیں ہٹیں گے”۔
گزشتہ سال احتجاج اس وقت ختم ہوا جب حکومت نے وعدہ کیا کہ بدعنوانی کیخلاف موثر قانون سازی کی جائے گی، تاہم احتجاجی مظاہرین کا ایک سال بعد کہنا ہے کہ حکومتی وعدہ تاحال پورا نہیں ہوسکا۔Renuka Chowdhary حکمران جماعت کانگریس کی ترجمان ہیں۔
(female) Renuka Chowdhary “ہم بات چیت، مذاکرات اور مباحثے سے تو کام کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں، مگر زبردستی کسی سے اپنی بات نہیں منواسکتے۔ ہم کسی پر دباﺅ یا دھمکیاں نہیں دے سکتے، اس طرح کوئی کام نہیں کیا جاسکتا۔ ہمیں انا ہزارے اور ان کے دس ہزار حامیوں کو جواب نہیں دینا بلکہ ہم ایک ارب افراد کے سامنے جوابدہ ہیں،ہمیں معلوم ہے کہ ہمارا تیار کردہ لوک پال بل قوم کی ترقی کیلئے اچھا ہے”۔
گزشتہ برس انا ہزارے نے کہا تھا کہ اگر بل منظور نہ ہوا تو اپنی بھوک ہڑتال دوبارہ شروع کریں گے، اب ان کا کہنا ہے کہ یہ وعدہ پورا کرنے کا وقت آگیا ہے۔
ہزارے ” (male) میں 75 سال کا ہوچکا ہوں، مگر یہاں نوجوانوں کو دیکھ کر میں خود کو75 سال نوجوان سمجھنے لگا ہوں، جس میں اپنی جدوجہد کیلئے بہت زیادہ توانائی موجود ہے”۔
حکومت اور حزب اختلاف کے دوران سنگین اختلافات مجوزہ قانون سازی میں تاخیر کا سبب بنے ہیں،یہی وجہ ہے کہ یہ بل کافی عرصے سے ایوان بالا میں زیرالتوا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں اور انا ہزارے گروپ کا کہنا ہے کہ موجودہ لوک پال بل انتہائی کمزور اور بے کار ہے۔ اب تک متعدد سیاسی جماعتیں اس بل کیلئے ایک سو سے زائد ترامیم دے چکی ہیں، پارلیمانی کمیٹی ان ترامیم پر غور کرے گی جس کے بعد وہ اپنی سفارشات تیار کرے گی، اور پھر بل پر دوبارہ ووٹنگ ہوگی۔ متعدد حلقوں کا کہنا ہے کہ انا ہزارے اور ان کے گروپ کو اس عمل کے مکمل ہونے تک انتظار کرنا چاہئے۔ Chandan Mitra بی جے پی کے سنیئر رہنماءہیں۔
(male) Chandan Mitra “ابھی یہ سب کچھ ہورہا ہے اور حکومت لوک پال بل کا نیا مسودہ تیار کررہی ہے، تو پھر احتجاج کی کیا ضرورت ہے؟ احتجاج سے تصادم کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور اس سے قومی ہم آہنگی پیدا کرنے میں بھی مدد نہیں ملتی۔ میرے خیال میں پارلیمنٹ مکمل طور پر مناسب قانون کو تیار کرنے کی اہلیت رکھتی ہے، اور ہم اس قانون کیلئے انا ہزارے کی جدوجہد کو سراہتے بھی ہیں، تاہم میرے خیال میں اس وقت انہیں یہ معاملہ اراکین پارلیمنٹ پر چھوڑ دینا چاہئے”۔
تاہم سات ہزار مظاہرین اس بات سے اتفاق نہیں کرتے، ان میں سے ایک سیاسی کارٹونسٹ Asseb Trivedi بھی ہیں۔
(male) Asseb Trivedi “میں اپنے کارٹونز کے ذریعے یہ تصویر کھینچنے کی کوشش کررہا ہوں کہ مہاتما گاندھی آج واپس آجائیں تو کیا ہوگا۔ انھوں نے برطانیہ کیخلاف ہماری تحریک آزادی کی قیادت کی اور انہیں بھارت سے نکال باہر کیا۔ مجھے یقین ہے کہ اگر وہ آج واپس آجائیں تو وہ کرپٹ سیاستدانوں کیخلاف زیادہ مضبوط مہم چلائیں گے اور انہیں بھی بھارت سے نکل جانے پر مجبور کردیں گے”۔
You may also like
- Solangi Inaugurates Media Training Program at Reactivated Pakistan Broadcasting Academy
- NACTA delegation, DG Information KP discuss media role in peace
- PEMRA to hold bidding for FM Radio licenses on Thursday
- Radio Pakistan achieves significant milestones in ‘digital migration’: Solangi
- Khyber Pakhtunkhwa minister opens podcast studio in UoP Journalism Dept
| M | T | W | T | F | S | S |
|---|---|---|---|---|---|---|
| 1 | 2 | 3 | 4 | |||
| 5 | 6 | 7 | 8 | 9 | 10 | 11 |
| 12 | 13 | 14 | 15 | 16 | 17 | 18 |
| 19 | 20 | 21 | 22 | 23 | 24 | 25 |
| 26 | 27 | 28 | 29 | 30 | 31 | |

Leave a Reply