پشاور میں حال ہی میں پاکستان کی پہلی موبائل عدالت متعارف کرائی گئی، یہ عدالت چھوٹے مقدمات کے فیصلے کرنے کی اہل ہوگی، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
گلاب جان کے شوہر نے اپنی ہی بیٹی کو قتل کردیا تھا، جس کے خلاف گلاب جان نے چارسدہ شہر کی موبائل عدالت میں مقدمہ دائر کیا۔
گلاب جان”عدالت تک جانے کا سفر بہت مہنگا پڑتا تھا مگر اس موبائل عدالت کی بدولت انصاف خود ہمارے دروازے تک پہنچ گیا ہے، یہ پاکستان تحریک انصاف کی نومنتخب حکومت کا بہت اچھا اقدام ہے”۔
موبائل عدالت پشاور ہائیکورٹ نے پشاور اور مضافاتی علاقوں کیلئے قائم کی ہے، اس بس کے اندر ایک چھوٹا سا کمرہ عدالت ہے، جج کا چیمبر، ڈرائیور کیبن اور انتظار گاہ ہے۔
سردار احمد خان موبائل عدالت کے جج ہیں، وہ ایک میز کے پیچھے بیٹھے ہیں اور یہ بالکل حقیقی کمرہ عدالت جیسا لگ رہا ہے۔ اس وقت وہ زمینی تنازعے کا مقدمہ سن رہے ہیں۔
سردار احمد خان”یہ پہلی بار ہے کہ پاکستان میں موبائل عدالتیں کام کررہی ہیں، جس سے غریب طبقے کیلئے انصاف تک تیز تر رسائی ممکن ہوگئی ہے۔ یہ انکا بنیادی حق اور ضرورت ہے، اب ہم اس کو کامیاب بنانے کیلئے کوشاں ہے، ہم خدمت کرنے کے ساتھ ساتھ انصاف تک رسائی کو مزید آسان بنانا چاہتے ہیں”۔
اپنے پہلے ہی دن موبائل عدالت نے 28 ایسے مقدمات کے فیصلے سنائے جو کئی برسوں سے عام عدالتوں میں زیرسماعت تھے۔
زمینی تنازعے کا ایک مقدمہ ایک مزدور جہانگیر خان نے چار سال قبل عام عدالت میں دائر کیا تھا مگر کارروائی آگے ہی نہ بڑھ سکی، جبکہ موبائل عدالت میں ایک گھنٹے کے اندر ہی فیصلہ ہوگیا۔
جہانگیر خان”موبائل عدالت کا مقدمات سننے کا طریقہ کار عام عدالتوں جیسا ہی ہے، مگر بنیادی فرق یہ ہے کہ اب آپ کو انصاف کیلئے بہت زیادہ انتظار نہیں کرتا پڑتا، بلکہ وہ خود آپ کے پاس چل کر آتا ہے، یہ بہت بڑی تبدیلی ہے جس کا عوام مطالبہ کرتے رہے ہیں”۔
حکام کو توقع ہے کہ موبائل عدالتیں روایتی جرگوں اور طالبان کی عدالتوں کا بہترین متبادل ثابت ہوسکیں گی، یہ جرگے اور طالبان عدالتیں فیصلے تو فوری سناتی ہیں مگر یہ بہت ظالمانہ ہوتی ہیں۔ جج سردار احمد خان کا کہنا ہے کہ ہمیں سیکیورٹی تحفظات بھی لاحق ہیں۔
سردار احمد خان”درحقیقت ہمیں طالبان اور دیگر عسکریت پسند گروپس سے خطرات لاحق ہیں، مگر ہم اس کام نہیں روک سکتے جو ہم نے عوامی بھلائی کیلئے شروع کیا ہے، ہم ہر قیمت پر انصاف تک لوگوں کی رسائی یقینی بنائیں گے”۔
اب تک آٹھ ججز اور اٹھارہ وکلاءکو موبائل عدالتوں کے مقدمات کیلئے تربیت دی گئی ہے، حکومت اقوام متحدہ کے تعاون سے رواں برس ایسی مزید گیارہ عدالتیں متعارف کرانے کیلئے پرعزم ہے۔