(In need of new “hero” for young Chinese) چینی نوجوانوں کیلئے نئے ہیرو کی ضرورت

(China Lei Feng) چین لے فنگ

 چین کے ایک قومی ہیرو لے فنگ کو دنیا سے گزرے پچاس برس بیت گئے۔انہیں 1963ءسے چین میں قربانی کی علامت سمجھا جاتا ہے، اور ان کی سوچ آج کے جدید چین پر بھی اثرانداز ہورہی ہے۔

 یہ لے فنگ کے بارے میں 1964ءمیں بنائی گئی ایک فلم کا سین ہے، جس میں ایک ماں اور اس کا بچہ ایک خوفناک طوفان میں پھنسے ہوئے دکھائے گئے ہیں۔ بچہ بہت خوفزدہ اور رو رہا ہے۔ان دونوں کا طویل سفر سن کر لے فنگ انہیں اپنے ساتھ چلنے کی پیشکش کرتا ہے، وہ بچے کو گود میں اٹھا لیتا ہے اور اسے ایک گیت گا کر سناتا ہے۔

 یہ فلم لے فنگ کی موت کے دو برس بعد بنائی گئی تھی، جس کے ذریعے حکمران جماعت کمیونسٹ پارٹی چینی نوجوانوں کو لے فنگ کی زندگی سے متاثر کرکے حب الوطنی اور ہر قربانی کے جذبے سے سرشار کرنا چاہتی تھی۔

لے فنگ کی ذاتی ڈائری کو ایک کتاب کی حیثیت سے شائع کیا گیا ہے، جسے Study Lei Feng, the good modکا نام دیا گیا ہے۔ Chen Shaofeng بیجنگ یونیورسٹی کے پروفیسر ہیں۔

Chen Shaofeng(male)”لے فنگ کو ایسے مواقع دستیاب تھے جو دوسروں کو میسر نہیں ہوتے۔وہ ایک یتیم شخص ہونے کے باوجود متعدد افراد کا تعاون حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔اسے انتہائی خوفناک حالات کا سامنا رہا، مگر کمیونسٹ پارٹی نے اسکی مدد کی۔اس تعاون سے لے فنگ کے اندر سماجی بحالی کا شعور بیدار ہوا، وہ ایک فوجی تھا مگر اس کے باوجود وہ دیگر افراد کی مدد کرنے کو ترجیح دیتا تھا”۔

یہی وجہ ہے کہ 1960ءکی دہائی سے اب تک چینی انتظامیہلے فنگ کے جذبے کو فروغ دینا چاہتی ہے۔کمیونسٹ پارٹی کے حکام اکثر لی فینگ کے اچھے روئیے کو نمایاں کرتے نظر آتے ہیں، تاکہ اخلاقی بحران یا سماجی تناﺅ کے دوران لوگ متحد ہوسکیں۔لے فنگ کی موت کے پچاس برس مکمل ہونے کے بعد حکمران جماعت نے اپنے اس ہیرو کی زندگی پر شائع ہونیوالی مختلف تحاریر کو جمع کرکے ایک کتاب کی شکل میں شائع کیا۔

ایک دستاویزی فلم Lei Feng Man گزشتہ برس ایک فلمساز Ma Shi نے تیار کی، جسے آن لائن لاکھوں افراد نے دیکھا۔ اس فلم میں ایک Yingxiong کی کہانی بیان کی گئی ہے، چینی زبان کے اس لفظ کا مطلب ہیرو ہے۔

Yingxiong کولے فنگ کے کپڑے دیئے گئے تھے، جس کے بعد وہ ماضی کے اس لیجنڈ کا جدید ماڈل بن گیا تھا۔

سپر ہیرو جیسے کاسٹیوم پہنے اور موٹرسائیکل پر سوار Yingxiong گلیوں میں پورے شہر میں لگے اشتہاری بینرز کو اتارنے، گلیوں میں نابینا افراد کی مدد اور درخت میں پھنسی ایک بچے کی پتنگ اتارنے کا کام کرتا نظر آتا ہے۔اس فلم کے پروڈیوسر Zhang Liangliang کا کہنا ہے کہ یہ ماضی کے ہیرو کا مذاق اڑانے کی کوشش نہیں۔

Zhang Liangliang(male)”ہم نے لے فنگ کا مذاق اڑانے کا سوچا بھی نہیں، بلکہ یہ ماضی کے اس ہیرو کو خراج عقیدت پیش کرنے ایک تفریحی انداز میں تیار کی گئی فلم ہے”۔

Zhang Liangliang چین میں فلمسازی کی تعلیم دینے والے اسکول سے گریجویشن کی ڈگری لے چکے ہیں اور وہ لی فینگ کے افکار سے متاثر ہیں۔ انھوں نے تسلیم کیا کہ آج کے نوجوانوں کو اس بات پر یقین نہیں کہلے فنگ ایک حقیقی شخص ہیں۔

Zhang Liangliang(male)”نوجوانوں کے کیال میںلے فنگ حقیقت سے زیادہ ہی مثالی دکھائی دیتے ہیں، ان کے خیال میں یہ کردار تخلیق نہیں کیا گیا تو بھی یہ ایک انسان جیسے نظر نہیں آتے”۔

متعدد چینی نوجوان ملک میں بڑھتی ہوئی کرپشن اور غیر ضروری مراعات کو دیکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ حکام جس بات پر زور دیتے ہیں خود اس پر عمل نہیں کرتے۔پروفیسر Chen Shaofeng کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کو اب انٹرنیٹ کے ذریعے معلومات کے وسیع ذخیرے تک رسائی حاصل ہے، اس لئے انہیں پروپگینڈے سے متاثر کرنا اب مشکل کام ہے۔

Chen Shaofeng(male)”اس طرح کی معلومات جیسیلے فنگکے بارے میں موجود ہیں، نوجوانوں کیلئے ایک سمندر کے چھوٹے سے قطرے کے برابر ہیں۔ پروپگینڈہ لوگوں کو متحرک کرسکتا ہے، مگر یہ اسی وقت موثر ثابت ہوتا ہے جب سول سوسائٹی کو اس میں شامل کیا جاسکے۔ پروپگینڈے کو بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر بیان نہیں کیا جاسکتا، ورنہ لوگ آپ پر یقین کرنا چھوڑ دیں گے، اگر آپ کسی شخص کو بہت زیادہ مثالی بنا کر پیش کریں گے، تو لوگ آپ پر اعتماد نہیں کریں گے”۔

اس فلم میں Li Zhen نے اداکاری کی، انکا کہنا ہے کہ آج کے نوجوانوں کو کسی نئے ہیرو کی ضرورت نہیں۔

Li Zhen(male)”آج کا دورماضی کے مقابلے میں زیادہ سرمایہ دارانہ سوچ کا حامل ہے، یہاں لوگ پیدا ہوتے ہی بہت سی ایسی چیزیں سیکھ لیتے ہیں جو ماضی میں عجوبہ سمجھی جاتی تھیں، یہی وجہ ہے کہ کسی ہیرو کے بارے میں آج کے نوجوانوں کا تصور بھی بہت پیچیدہ ہے”۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *