World Consumer Day عا لمی یو م صا رفین

پاکستان سمیت پوری دنیا میں آج عالمی یوم صارفین منایا جارہاہے۔
عالمی مالیاتی بحران نے دنیا بھرکے مالیاتی صارفین کے اعتماد کو شدید دھچکہ دیا لیکن اس بحران ہی کی بدولت دنیا کے مالیاتی نظام کی خرابیوں سے بھی پردہ اٹھا۔
مالیاتی صارف کے اعتماد کو بحال کرنے اور بہتر مالیاتی خدمات فراہم کرنے کے عزم کے ساتھ آج یوم حقوق صارف منایا جارہا ہے۔ صارف کے حقوق دراصل چار چیزوں کا مجموعہ ہے۔ جس میں حفاظت، انتخاب، معلومات اور شکایت کی صورت میں شنوائی کا حق حاصل ہے۔
پاکستانی صارف اپنے حقوق سے عمومی طور پر ناآشنا ہے۔ چاہے وہ ملک کا مالیاتی شعبہ ہی کیوں نہ ہو۔ بینک کے ساتھ کھاتہ کھولتے ہوئے صارف جانے انجانے میں کتنی ہی چیزوں کے لئے حامی بھر لیتا ہے۔
یوم حقوق صارف منانے کا مقصد صارف کو اپنے بنیادی حقوق کے بارے میں معلومات فراہم کرنا ہے لیکن محض حقوق کے بارے میں معلومات ہونا ہی کافی نہیں ہے۔
صارفین کے حقوق کی حفاظت پر مامور سرکاری اداروں میں بڑھتی ہوئی بد عنوانی اور صارف انجمنوں کی عدم فعالیت کے سبب کراچی سمیت ملک بھر کے 12 کروڑ سے زائد صارفین تاحال اپنے حقوق سے محروم ہیں۔
مقامی مارکیٹوں میں ناپ تول میں کمی ، غیر معیار ی مصنوعات کی کھلے عام فروخت ،گھی ، تیل، گندم ، آٹے سمیت سیمنٹ سرئے اور ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں کی ناجائز منافع خوری عروج پر پہنچ چکی ہے ، شہری حکومت کا محکمہ ای اینڈ آئی پی،وزارت پرائس بیورو، سپلائی بیورو۔وغیرہ۔
مارکیٹ سروے کے مطابق مارکیٹ میں جان بچانے والی ادویات ، گھی ، تیل، سرف ، اور صابن کے علاوہ اکثر غیر معیاری مصنوعات کی فروخت میں اضافہ ہوا ہے ،دالوں ، چاول، چینی ، گندم ، اور آٹے سمیت سیمنٹ و سریا کی ذخیرہ اندوزی و ناجائز منافع خوری میں مستقل اضافہ ہو رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *