پاکستان کے قبائلی علاقوں میں موسیقی سننے پر شدت پسندوں نے پابندیاں عائد کررکھی ہیں، مگر اب وہاں نوجوان موبائل فونز کے ذریعے اس پابندی کا توڑ نکال چکے ہیں۔
23 سالہ رفیع اللہ لنڈی کوتل بازار جانے کیلئے ایک ٹیکسی کا انتظار کررہا ہے، اس نے آج رات ایک تقریب کے انعقاد کی منصوبہ بندی کی ہے، تاہم اس سلسلے میں وہ پہلے اپنے ایک دوست ملنا چاہتا ہے، کیونکہ اس دوست کے موبائل فون کے بغیر وہ اس تقریب کیلئے موسیقی کا اہتمام نہیں کرسکے گا۔
رفیع اللہ(male)“میں ایک ایسے علاقے میں استاد ہوں جہاں عسکریت پسندوں کی گرفت مضبوط ہے۔ ہماری ثقافت میں ویسے بھی ایک استاد کیلئے موسیقی سننا مناسب نہیں سمجھا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ میں اپنے دوست کی مدد چاہتا ہوں تاکہ اس کے موبائل سے اپنے موبائل میں گانے بھروا سکوں، وہ اس وقت لنڈی کوتل بازار میں میرا انتظار کررہا ہے۔ میں اپنے موبائل میں آج رات کی تقریب کیلئے چند پشتو گیت ڈلوانا چاہتا ہوں”۔
رفیع کو احسن گل نامی شخص نے اپنی ٹٰیکسی میں بٹھالیا، احسن طویل عرصے سے قبائلی علاقوں میں ٹیکسی چلا رہا ہے، وہ بھی رفیع کی طرح اپنے موبائل فون کے ذریعے موسیقی سننا پسند کرتا ہے۔
احسن(male) “میں اپنے موبائل فون کے ذریعے گانے سنتا ہوں، کیونکہ یہاں شدت پسندوں نے ٹیپ ریکارڈ کے ذریعے گانے سننے پر پابندی عائد کررکھی ہے۔ اگر کوئی ڈرائیور موسیقی سنتا پکڑا جائے تو اسے سزا بھی ملتی ہے”۔
لنڈی کوتل بازار میں رفیع انتہائی گرم جوشی سے اپنے دوست سے ملا اور اس کا میموری کارڈ لے لیا۔ قبائلی علاقوں کے نوجوان آج کل اپنے موبائل فونز کو پشتو اور بھارتی گانے ذخیرہ کرنے کیلئے استعمال کررہے ہیں، جبکہ کئی بار وہ فحش فلمیں بھی اس پر دیکھتے ہیں۔ لنڈی کوتل بازار میں کئی دکاندار موبائل فون کارڈز میں اس طرح کا مواد بھرنے کا کام کرتے ہیں، تاہم یہ کافی خطرناک کام ہے۔ گزشتہ ماہ عسکریت پسندوں نے بارہ دکانوں کو تباہ کردیا تھا اور اب بھی دکانداروں کو حملے کا ڈر ہے۔
اکیس سالہ عرفان خان تین سال سے موبائل فونز میں گانے وغیرہ بھرنے کا کام کررہا ہے، ایک غریب خاندان سے تعلق رکھنے والے عرفان نے بیس ہزار روپے سے اپنا کام شروع کیا اور اب وہ روزانہ ایک ہزارروپے تک کما لیتا ہے، تاہم عرفان کا کہنا ہے کہ اگر وہ عریاں فلمیں فروخت کرے تو یہ آمدنی دوگنا ہوسکتی ہے۔
عرفان خان(male) “عسکریت پسندوں نے گزشتہ ماہ میری ایک دکان کو تباہ کردیا تھا، اس کے بعد سے میری ماں بہت خوفزدہ ہے۔ ہمیں دھمکیاں بھی مل رہی ہیں تاہم اس پر توجہ نہیں دے رہا۔ یہ ایک خطرناک کام ہے، مگر میں کوئی اور کاروبار شروع نہیں کرسکتا، کیونکہ میرے پاس زیادہ سرمایہ نہیں”۔
مذہبی رہنماءبھی نوجوانوں کی جانب سے موبائل فونز کے اس استعمال پر ناخوش ہیں۔
مگر تمام نوجوان اپنے بزرگوں کی ہدایتوں پر عمل نہیں کرتے، نصب شب کے وقت رفیع اور اس کے دوست موبائل فون پر نئے پشتو گانے سننے میں مصروف ہیں، جبکہ چند دوست ایک دائرے میں رقص کررہے ہیں۔ ایک شخص سیکیورٹی کیلئے گھر کے مرکزی دروازے پر موجود ہے، کیونکہ گزشتہ ماہ اس طرح کی تقریب پر عسکریت پسند حملہ کرچکے ہیں۔رفیع اس خطرے کے باوجود بہت خوش نظر آرہا ہے۔
رفیع(male)“میں موسیقی کے پروگرامز سے بہت لطف اندوز ہوتا ہوں، اگرچہ میں ان تقاریب میں رقص نہیں کرسکتا کیونکہ سیکیورٹی صورتحال زیادہ اچھی نہیں، اور ہمیں عسکریت پسندوں کا ڈر بھی رہتا ہے۔ اگر عسکریت پسند کسی کو موبائل پر گانا سنتے ہوئے پکڑ لیں تو سزا بھی دیتے ہیں۔ اگر ان کو ہماری تقریب کا پتا چل گیا تو پھر ہمارے لئے سزا سے بچنا مشکل ہوجائے گا”
ریحان خان رفیع کا کزن ہے، وہ بھی عسکریت پسندوں سے خوفزدہ ہے۔
ریحان خان(male) “بظاہر اس وقت عسکریت پسندوںکی گرفت مضبوط نظر نہیں آرہی، مگر درحقیقت وہ اب بھی بہت طاقتور ہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ اس تقریب میں بھی ان کے حامی موجود نہ ہو۔ یہاں تو لوگ اب بھائیوں پر بھی اعتماد نہیں کرتے،تاہم اس کے باوجود میں موسیقی سے لطف اندوز ہوتا ہوں اور اس طرح کی تقاریب میں کافی عرصے سے اپنے بھائیوں، دوستوں