زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ہیں جیسے لازوال گیتوں اور اردو شاعری کو موسیقیت سے مالامال کرنے والے قتیل شفائی 24 دسمبر 1919کوخیبرپختونخواہ کے علاقے ہری پور میں پیدا ہوئے۔
انکا اصل نام اورنگ زیب خاں تھا ، بچپن میں ہی ان کے والد کا انتقال ہو گیا۔ اس لئے انہوں نے زیادہ تعلیم حاصل نہیں کی۔ لیکن ان حالات میں کائنات کا خوب مطالعہ کیا۔ کبھی کسی ورکشاپ میں کام کیا اور کبھی مزدوری کی۔ لیکن ان حالات میں بھی شاعری کرتے رہے۔
ان کی صلاحیتوں کے پیش نظر انہیں 1946 میں ادب لطیف نامی جریدے کا نائب مدیر بنا دیاگیا اور پھر اس کے بعد قتیل شفائی کے ادبی جذبات کو جِلا حاصل ہوئی اور وہ آگے ہی بڑھتے چلے گئے۔
1947ءکے آغاز ہی میں قتیل شفائی نے اپنا قلم فلموں کے لئے وقف کردیا اور پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد کے گیت لکھنے کا اعزاز ان کے ہی نام ہے، انھوں نے اڑھائی ہزار سے نغمے لکھے، جن میں سے جب بھی چاہے ایک نئی صورت بنا لیتے ہیں لوگ، اے دل کسی کی یاد میں ہوتا ہے بے قرار کیوں، حسن کو چاند جوانی کو غزل کہتے ہیں، جان بہاراں رشک چمن ، ستاروں تم تو سو جاﺅ پریشاں رات ساری ہے، پائل میں گیت ہیں چھم چھم کے اور دیگر شامل ہیں۔
انھوں نے پہلی بار فلم انارکلی کیلئے نگار ایوارڈ حاصل کیا، جس کے بعد فلم نائلہ کے گیت غم دل کو ان آنکھوں سے چھلک جانا آتا ہے پر دوسرا، فلم آگ کے گیت یوں زندگی کی راہ سے ٹکرا گیا کوئی پر تیسراایوارڈ حاصل کیا۔ اس کے علاوہ وہ نیشنل فلم ایوارڈ کے علاوہ دیگر بیس ایوارڈز حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔قتیل کے نغمے اس قدر مقبول تھے کہ بھارتی فلموں میں بھی ان کے گیت شامل ہوئے ، جیسے تیرے در پر صنم چلے آئے، سنبھالا ہے میں نے بہت اپنے دل کو یا وہ تیرا نام تھا وغیرہ۔
عوامی سطح پر تو قتیل شفائی کو فلموں کے ذریعے مقبولیت حاصل ہی ہو ئی مگر اس کے ساتھ ساتھ ادبی حلقوں میں بھی ان کے کلام کو سراہا گیا۔
کئی رسائل نے ان پر گوشے اور یاد گار نمبر شائع کئے۔ ا ن کے کلام کے مجموعے ہاتھوں ہاتھ لئے گئے۔ کئی اشعار تو زبان زد خاص و عام ہیں۔
ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انہیں 1994ءمیں تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا۔بھر پور ادبی زندگی گزارنے کے 81 سال کی عمر میں قتیل شفائی کا11 جولائی 2001 کو لاہور میں انتقال ہوا۔