(China Hollywood Deals) چین اور ہالی وڈ کے درمیان معاہدے
دنیا بھر کی فلموں کیلئے چین ایک بڑی مارکیٹ کی شکل اختیار کرگیا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہالی وڈ اس سونے کی کان سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے، مگر اس کے لئے بیجنگ حکومت کی طے کردہ شرائط پر عملدرآمد لازمی ہے۔
ایکشن سے بھرپور امریکی فلم آئرن مین ایک کامک بک سے متاثر ہوکر تیار کی گئی ہے، جس میں ایک ایسے ارب پتی صنعتکار کو دکھایا گیا جو برے افراد سے لڑنے کے لئے ایک اڑنے والا لباس پہن لیتا ہے،یہ کردار امریکی ثقافت کی علامت سمجھا جاتا ہے، مگر حال ہی میں امریکی فلم ساز ادارے والٹ ڈزنی نے آئرن مین سیریز کی تیسری فلم بیجنگ سے تعلق رکھنے والی ایک کمپنی DMG Entertainment کے اشتراک سے بنانے کا اعلان کیا ہے۔Peter Xiao ڈی ایم جی کے چیئرمین ہیں۔
” (male) Peter Xiao ڈی ایم جی اور والٹ ڈزنی کی شراکت سے بننے والی فلم میں ہم دنیا کے سامنے شاندار چینی ثقافت کو پیش کریں گے”۔
ڈزنی اور ڈی ایم جی کی شراکت داری ہالی وڈ کی جانب سے چین میں کو پروڈکشن کی حالیہ لہر میں ایک نیا اضافہ ہے، رواں برس مارچ کے مہینے میں امریکی فلم کمپنی ڈریم ورکس نے چینی کمپنیوں کے ساتھ ملکر شنگھائی میں ایک اسٹوڈیوقائم کرنے کا اعلان کیا تھا، امریکی فلم ساز مشرق میں صرف نئی تخلیقات پر ہی توجہ نہیں دے رہے، بلکہ وہ نئے شائقین تک رسائی بھی چاہتے ہیں، گزشتہ برس امریکہ میں ہالی وڈ فلمموں کو دیکھنے والوں کی تعداد گزشتہ سولہ برسوں میں سب سے کم رہی۔ Tracey Trench ہالی وڈ فلم Ever After: The Cinderella Story کے پروڈیوسرز میں سے ایک ہیں، وہ چین میں نئے کاروباری معاہدے کرنے کیلئے موجود ہیں۔
(female) Tracey Trench “میرے خیال میں چینی مارکیٹ دنیا بھر کی مارکیٹوں پر چھا رہی ہے، تو چین میں فلم ریلیز کرکے آپ بہت کما سکتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہر شخص اس مارکیٹ کیلئے فلمیں بناکر کمانا چاہتا ہے”۔
گزشتہ برس چین میں باکس آفس کے منافع کی شرح 35 فیصد اضافے کے ساتھ دو ارب ڈالرز سے بھی زائد رہی، جبکہ رواں برس کی پہلی سہ ماہی میں چین نے جاپان کو بھی پیچھے چھوڑ کر دنیا کی دوسری سب سے بڑی سینما مارکیٹ بننے کا اعزاز حاصل کرلیا۔ Tracey Trench کا کہنا ہے کہ چینی مارکیٹ مزید بڑھے گی۔
(female) Tracey Trench “چین میں اس وقت بہت زیادہ سرمایہ موجود ہے، اور یہاں مہنگی فلمیں بن رہی ہیں، یہی وجہ ہے کہ امریکی فلم ساز یہاں آکر اپنی فلمیں بنانے کا خطرہ مول لے رہے ہیں”۔
Michael Mou ایک چینی فلم ساز ادارے Jingdu Century Culture Development کے جنرل منیجر ہیں، اس ادارے کو عالمی اشتراک کا کافی پرانا تجربہ حاصل ہے۔انکا ماننا ہے کہ ہالی وڈ سرمایہ کاری کیلئے فنڈز کے حصول کیلئے ہی چین کا رخ کررہا ہے۔
(male) Michael Mou “ہالی وڈ برسوں سے ترقی کررہا ہے،اور اس کے پاس فنڈز کی کمی نہیں، تاہم انہیں آگے بڑھنے کیلئے مزید سرمائے کی ضرورت ہے، میرے خیال میں ان کی نظر میں سب سے اہم چیز چینی مارکیٹ تک رسائی حاصل کرنا ہے، اسی طرح وہ چینی مارکیٹ کا بڑا حصہ حاصل کرکے چینی ناظرین پر اثر انداز ہوسکیں گے۔ اس کے مقابلے میں چینی کمپنیاں بین الاقوامی اشتراک سے عالمی مارکیٹ تک رسائی حاصل کرنا چاہتی ہیں”۔
بیجنگ حکومت نے چین میں غیرملکی فلموں کی نمائش کیلئے ایک کوٹہ مختص کررکھا ہے، مگر کو پروڈکشن کے تحت بننے والی فلمیں جن کی شوٹنگ چین میں ہو، اور ان میں چینی اداکار، عملہ اور سرمایہ وغیرہ شامل ہو اس کوٹے کا حصہ نہیں، دوسری جانب حکومت نے رواں برس چین میں غیر ملکی فلموں کی ریلیز کی سالانہ تعداد 20 سے بڑھا کر 34 کردی ہے، مگر یہ اضافہ تھری ڈی فلموں کیلئے ہے۔
جیمز کیمرون کی فلم ٹائیٹنک 1990ءکی دہائی میں ریلیز ہوئی اور اس نے آسکر ایوارڈ اپنے نام کیا، مگر اب یہ تھری ڈی ٹیکنالوجی میں منتقل کرکے دوبارہ ریلیز کی گئی اور چین میں بھی اس کی نمائش ہوئی۔ چین میں اس فلم نے اپنے ابتدائی ہفتے میں 58 ملین ڈالرز کا بزنس کیا جو عالمی باکس آفس سے حاصل ہونیوالی آمدنی کا 65 فیصد حصہ ہے۔اسی طرح کوٹے کی پابندیوں کے باوجود ہالی وڈ فلموں نے گزشتہ برس چینی باکس آفس کی نصف آمدنی اپنے نام کی تھی۔2011ءکی دو بڑی فلمیں ہالی وڈ نے چینی شائقین کو مدنظر رکھ کر تیار کیں۔
کنگفو پانڈا ٹو ایک animation فلم تھی جو ایک پانڈا Po کے بارے میں تھی جو ایک مارشل آرٹ ہیرو بن جاتا ہے، یہ فلم چین میں گزشتہ برس دوسری سب سے بڑی فلم ثابت ہوئی، جبکہ پہلے نمبر پر Transformers 3: Dark of the Moon رہی، جس کی شوٹنگ چین میں ہوئی، جبکہ یہاں اس نے 170 ملین ڈالرز کا بزنس کیا۔
1984ءمیں بننے والی فلم Red Dawn ایک ایسے امریکی نوجوان کی کہانی تھی جو اپنے آبائی قصبے کو سوویت یونین کے حملے سے بچاتا ہے، 2009ءمیں اس فلم کے دوسرے حصے میں چین کو حملہ آور دکھایا جانا تھا، مگر چینی عوام کے شدید ردعمل کے پیش نظر2012ءمیں اس کی ریلیز کے موقع پر چین کی جگہ اب شمالی کوریا کو حملہ آور کا روپ دیدیا گیا ہے۔
Wang Changtian، چین کے سب سے بڑے پروڈکشن ہاﺅس Englight Media کے صدر ہیں۔
(male) Wang Changtian “چین میں جو فلمیں جائیں گی، قدرتی طور پر ان میں چینی نظریات اور ثقافت پیش کی جائے گی، تاہم کمرشل بنیادوں کے نقطہ نظر سے اس حوالے سے عالمی سطح پر کافی مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے”۔
بیجنگ کے نواح میں واقع ایک سینما گھر میں ہم نے ایک خاتون فلم بین سے پوچھا کہ کیا وہ ایسی غیر ملکی فلمیں دیکھنا چاہتی ہیں جس میں چینی ثقافت بھی شامل ہو؟
(female) Movie Goer “میں چینی ہو تو فطری طور پر اس طرح کی چیزوں سے میری دلچسپی بڑھے گی”۔
پھر ہم نے پوچھا کہ جو فلمیں چین کی مذمت کرتی ہوں کیا وہ ان کا بائیکاٹ کریں گی؟
(female) Movie Goer “جی ہاں یقیناً آخر میں ایک چینی شہری ہوں”۔
تاہم کچھ فلم بینوں کا ماننا ہے کہ فلموں کو زیادہ سنجیدہ نہیں لیا جانا چاہئے۔Feng Jia Long بھی ان میں سے ایک ہیں۔
(male) Feng Jia Long “میرے خیال میں فلم تفریح کا ذریعہ ہیں، ہمیں ان کو سنجیدہ لیکر ان کے بائیکاٹ کا نہیں سوچنا چاہئے، میرے خیال میں تو اس طرح کی صورتحال میں ہمیں اپنی ذات کا جائزہ لینا چاہئے۔ میری نظر میں تو کسی فلم کی کہانی اور اچھا اسکرپٹ ہی اہمیت رکھتا ہے”۔
آئرن مین تھری کا ایک حصہ چین میں بھی فلمایا جائیگا، اور کیا پتہ کچھ عرصے بعد ایک چینی ہیرو بھی آئرن مین کے ساتھ دنیا کو بچانے کیلئے لڑتا نظر آئے۔