پنجاب میں صارف عدالتوں یا کنزیومر کونسل کے حوالے سے دیگر صوبوں کے مقابلے میں کافی آگے ہے، گزشتہ چند برسوں کے دوران متعدد مقدمات میں ان عدالتوں نے عوامی شکایات پر کارروائی کی ہے، اور اب اس کونسل نے ون اسٹاپ سروس شروع کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
پچیس سالہ تصور نعیم ایک مزدور ہیں، وہ ایک ہسپتال میں اس وقت مشکل کا شکار ہوگئے، جب انہیں ایک نرس نے غلط دوا دیدی۔ وہ اپنی یہ شکایت دو سال قبل پنجاب کنزیومر کونسل کے سامنے لے گئے تھے۔
تصور نعیم”چند سماعتوں کے بعد جج نے چار ہزار ڈالرز کا جرمانہ ڈاکٹروں اور نرس پر عائد کیا، غریبوں کیلئے لڑنے والا ایسا ادارہ پاکستان جیسے ملک میں بہت بڑی راحت ہے”۔
وہ تنہا نہیں، 36 سالہ گھریلو خاتون مسرت یونس کو ایک معروف برانڈ کے میک اپ سے جلدی مرض لاحق ہوگیا تھا۔
مسرت یونس”وہ بہت خوفناک تھا، یعنی ایک انٹرنیشنل کا زائد المعیاد میک اپ استعمال کرنا، اس کے بعد میں نے کنزیومر کونسل سے رجوع کرکے جلد کو ہونے والے نقصان اور ڈاکٹر کے اخراجات کا دعویٰ دائر کیا۔ دکاندار کو زائد المعیاد اشیاءرکھنے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے اس پر ایک ہزار ڈالرز جرمانہ عائد کیا گیا”۔
پنجاب حکومت نے کنزیومر رائٹس قانون 2005ءمیں منظور کیا تھا، اس کے بعد سے ضلعی سطح پر پنجاب کنزیومر پروٹیکشن کونسل قائم کی گئی،یہ ادارہ حکومتی عہدیداران اور کنزیومر ماہرین پر مشتمل ہے۔ چالیس سالہ عدنان کریم ایک ماہر ہیں، جو راولپنڈی میں اس کونسل کے سربراہ ہیں۔
عدنان”دنیا بھر میں صارف سب سے بڑی برادری ہے۔ اس ادارے کا آغاز سابق وزیراعلیٰ پنجاب نے کیا جوکہ انتہائی شاندار اقدام تھا۔ ہم میڈیا ، ورکشاپس اور گھر گھر جاکر صارفین تک ہر ممکن آگاہی پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں، اس ادارے کے آغاز کے وقت اس حوالے سے کسی قسم کی آگاہی موجود نہیں تھی اور ہم سے کوئی رجوع نہیں کرتا تھا، مگر اب ہمیں روزانہ سینکڑوں شکایات موصول ہوتی ہیں”۔
اب تک یہ ادارہ 45 ہزار کیسز پر کام کرچکا ہے اور اسے کورئیر سروسز سے دودھ فروخت کرنے والی کمپنیوں کے خلاف شکایات ملیں۔ اکثر شکایات میں غیر صحت مند یا زائد المعیاد اشیاءلوگوں کی تکلیف کا باعث بنیں۔ عدنان کریم اپنے کام کے طریقہ کار کے بارے میں بتارہے ہیں۔
عدنان”شکایت درج کرنا بہت آسان ہے، آپ کسی بھی معاملے پر ایک سادہ کاغذ پر اپنے دستخطوں کے ساتھ شکایت لکھ کر دے سکتے ہیں، جس کے بعد ہم فوری طور پر مذکورہ کمپنی یا شخص کو قانونی نوٹس دیتے ہیں تاکہ ان کا موقف سامنے آسکے۔ پندرہ روز کے اندر اس کمپنی یا شخص کو اپنا موقف درست ثابت کرنا پڑتا ہے اور صارف کو مطمئن کرنا پڑتا ہے، ورنہ ہم اس مقدمے کو ضلعی کنزیومر عدالت میں لے جاتے ہیں، جہاں جج اس مقدمے کی سماعت کرتا ہے”۔
سماجی کارکن اعجاز احمد کا کہنا ہے کہ کنزیومر کونسل معاشرے کو آگے بڑھانے میں مددگار ثابت ہورہی ہے۔
اعجاز احمد”کنزیومر کونسل بنیادی طور پر صارف کو مضبوط اور بااختیار بنانے کا کام کررہی ہے، اس سے صارف کو اپنے حقوق سے آگاہی میں مدد ملتی ہے، خصوصاً پاکستان کے متوسط اور نچلے طبقے کیلئے تو یہ بہت فائدہ مند ہے”۔
عوامی شعور اجاگر کرنے کیلئے اس ادارے کی جانب سے اکثر مہم چلائی جاتی رہتی ہیں، ساجد محمد بھی اس ادارے کی مہم چلانے والی ٹیم کا حصہ ہیں۔
ساجد محمود”صارفین کو اپنے قانونی حقوق سے آگاہ ہونا چاہئے، جب آپ کسی چیز یا خدمات کیلئے ادائیگی کرتے ہیں، تو وہ معیاری اشیاءیا سروسز کے حقدار ہوتے ہیں۔ اگر وہ اپنے حقوق سے محروم رہتے ہیں تو یہ چیز ان کی شخصیت کیلئے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے”۔
ہسپتال سے زرتلافی کی وصولی کے بعد تصور نعیم نے اپنا اخبارات فروخت کرنے کا کیبن کھول لیا۔
تصور نعیم”عدالتی فیصلے سے میں اچھا روزگار حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا، ورنہ اپنی معذوری کے باعث میرے لئے اپنے خاندان کا پیٹ بھرنا بہت مشکل ہوجاتا”۔