برما میں صدر تھین سین کے اقتدار میں آنے کے بعد سے نو سو سے زائد سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جاچکا ہے، مگر ان میں سے بیشتر رہائی ملنے کے بعد معاشرے میں اپنی جگہ بنانے میں مشکل کا سامنا کررہے ہیں۔ دوست اور رشتے دار ان سیاسی قیدیوں سے تعلق رکھنے میں خوف محسوس کرتے ہیں، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
ون زا نینگ جو ابھی تک جیل میں گزاری گئی پہلی رات یاد ہے۔
ون زانینگ”اس وقت شام ہورہی تھی جب میں جیل میں داخل ہوا، میرے پاس کھانے کے لئے کچھ نہیں تھا اور جب چاول کی پلیٹ سامنے رکھی گئی تو میں نے سوچا کہ یہ ابلے ہوئے چاول ہیں، مگر ایسا نہیں تھا، وہ سرخ ہورہے تھے کیونکہ وہ ٹھنڈے اور منجمد تھے”۔
دوہزار سات میں بدھ بھکشوﺅں کی حکومت مخالف تحریک میں شرکت کے بعد انہیں چھپنا پڑا تھا، تاہم دو سال بعد حکومتی اہلکاروں نے انہیں پکڑ کر پندرہ سال کی سزا پر جیل بھیج دیا۔ وہ گزشتہ برس صدارتی معافی کے بعد رہا ہوئے۔
زا نینگ”میں نے رہائی کے بعد فیصلہ کیا کہ اب کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں رکھوں گا، میں نے صحافتی میدان میں قدم رکھنے کا فیصلہ کیا، میں نے جیل میں قیام کے دوران سنیئر صحافیوں سے اس شعبے کی تعلیم بھی حاصل کی تھی”۔
مگر رہائی کے بعد انکے لئے ملازمت کی تلاش ایک مشکل کام ثابت ہوا۔
نینگ”ملازمت کی تلاش واقعی بہت مشکل ثابت ہوا، مجھے اس کے لئے ایک سال تک انتظار کرنا پڑا، کچھ جریدے مجھے ملازم نہیں رکھنا چاہتے تھے کیونکہ میں ایک سیاسی قیدی رہ چکا تھا، جبکہ میں نے گریجویشن بھی نہیں کی ہوئی”۔
اکثر کمپنیاں سابق سیاسی قیدیوں سے تعلق نہیں رکھنا چاہتیں، کیونکہ انہیں حکومت کی جانب سے انتقامی کارروائیوں کا ڈر ہے۔ ھلانگ ون سوے کو اسی تجربے کا سامنا ہوا۔انہیں انیس سو اٹھانوے میں حکومت مخالف طلبہ تحریک میں حصہ لینے پر جیل بھیجا گیا اور گزشتہ برس رہائی سے قبل انھوں نے چودہ سال جیل میں گزارے۔
ون”جب میں رہاءہوا، تو میری عمر چالیس سال کے قریب تھی، اس عمر میں ملازمت کی تلاش کوئی آسان کام نہیں ہوتا”۔
جیل جانے والے اکثر سیاسی قیدی طالبعلم تھے، اور جیلوں میں انہیں اکثر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا جبکہ انہیں قید تنہائی میں بھی رکھا جاتا، جس سے ان کی ذہنی صحت بری طرح متاثر ہوتی۔
ون”ہمارا مسئلہ یہ تھا کہ ہمارے پاس زیادہ گنجائش نہیں تھی اور ہمارے دماغ نئی صلاحیتیں سیکھنے کے حوالے سے زیادہ بہتر نہیں تھے”۔
متعدد قیدی اس صورتحال میں مختلف ذہنی امراض کا شکار ہوگئے، جبکہ رہائی کے بعد کوئی بحالی نو کا پروگرام نہ ہونے کے بعد بیشتر قیدی بے گھر اور بیروزگار گلیوں میں پھر رہے ہیں۔تاہم ون زاو نیبگ اورہلینگ ون سوے بسبتاً ضوش قسنت ثابت ہوئے اور کچھ وقت گزرنے کے بعد وہ کام تلاش کرنے میں کامیاب رہے۔ ون زانینگ ابوینس نیوز میں بطور صحافی کام کررہے ہیں۔
ون”اس وقت میں ایونٹس کی رپورٹنگ کررہا ہوں، مجھے اپنے خیالات پر مبنی کالم وغیرہ لکھنے کے لئے ابھی مزید تجربے کی ضرورت ہے”
ون سوے ایک ٹیکسی ڈرائیور بننا چاہتے ہیں۔
ون سوے”اگلے قدم کے طور پر میں ڈرائیونگ کورس کرنے کا سوچ رہا ہوں، اگر میں ڈرائیونگ کروں تو میری آمدنی میں کافی بہتری آسکتی ہے”۔
ایک گروپ اسسٹینس ایسوسیشی ایشن فار پولیٹیکل پرسنرز ایسے سیاسی قیدیوں کو اپنے قدموں پر کھڑا کرنے میں مدد فراہم کررہا ہے۔ بو کیی اس گروپ کے جنرل سیکرٹری ہیں۔
کیی”ان کے خیالات اور ذہانت قتل کردیئے گئے ہیں، جب وہ رہا ہوئے تو انہیں کسی چیز کا علم یا مہارت حاصل نہیں تھی۔ وہ اپنے حقوق سے محروم ہوچکے تھے اور ابھی بھی وہ حکومتی اہلکاروں کی نظر میں رہتے ہیں۔ لوگ اس دباﺅ کے باعث انہیں ملازم رکھنے سے گریز کرتے ہیں”۔
یہ گروپ اس سابق سیاسی قیدیوں کو تیکنیکی تربیت فراہم کرتی ہے۔
کیی”بیشتر قیدی نئی صلاحیت جیسے موبائل فون کی مرمت سیکھ رہے ہیں، جبکہ کچھ نےٹری شاو چلانے کا فیصلہ کیا ہے، کچھ چھوٹے کاروبار شروع کررہے ہیں اور چند ایک نے زراعت اور جانوروں کو پالنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ ہم ان افراد کی جس حد تک ہوسکتا ہے، مدد کررہے ہیں”۔
اقتدار میں آنے کے بعد سے صدر تھین سین نے سینکڑوں سیاسی قیدیوں کو رہا کیا ہے، تاہم اب بھی دو سو کے لگ بھگ افراد سلاخوں کے پیچھے موجود ہیں۔ کچھ حلقوں کے خیال میں ان قیدیوں کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے، انہیں اس وقت رہا کی جاتا ہے، جب کوئی اہم رہنماءبرما کا دورہ کرتا ہے، جبکہ رہائی کے بعد حکومت کی جانب سے انہیں کوئی مدد بھی فراہم نہیں کی جاتی۔
بو کیی”حکومت کو اس سنجیدہ مسئلے کا احساس کرنا چاہئے، دوسری ضرورت اس بات کی ہے کہ پارلیمنٹ بھی اس بات کو سمجھے۔ اس کے بعد پارلیمنٹ کو اس حوالے سے بجٹ مختص کرنا چاہئے، جس سے یہ کوششیں زیادہ موثر ثابت ہوجائیں گی”۔