Film Actor Nanna Death Anniversary رفیع خا ور المعروف ننھا کی بر سی

پاکستانی فلموں کے ہردلعزیزمزاحیہ فنکار رفیع خاور المعروف ننھا پاکستانی فلموں میں ایک بہترین مزاحیہ اداکار کی حیثیت سے جانے جاتے تھے۔ لیکن کئی مواقعوں پر انھوں نے اپنی سنجیدہ اداکاری سے ناظرین کو بہت متاثر کیا۔
انیس سو چونسٹھ میں ننھا نے ریڈیو پاکستان کے پروگرام کے زریعے اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کو اس بھرپور انداز میں پیش کیا کہ۔ فلمسازوں کی نظریں ان کی طرف اٹھ گئیں، اور 1966ءمیں فلم وطن کا سپاہی سے ان کے فلمی کیریئر کا ایسا آغاز ہوا،تاہم ان کو اصل شہرت 1970ءکی دہائی میں پاکستان ٹیلی ویژن سے ٹیلی کاسٹ ہونیوالے ڈرامے الف نون سے ملی۔
اسی طرح فلموں میں ان کا عروج فلم نوکر کے بعد شروع ہوا اور 1979ءمیں پہلی بار بطور ہیرو فلم تہکا پہلوان میں کام کیا، اسی سال کی ایک سپرہٹ فلم دبئی چلو نے انہیں صف اول کا اداکار بنادیا۔
ننھا نے ساڑھے تین سو کے قریب فلموں میں کام کیا، جن میں سے 42 میں انھوں نے بطور ہیرو کام کیا۔
انسانیت، دوبئی چلو، سسرال چلو، ابھی تو میں جوان ہوں، نمک حلال، سلاخیں اور دیگر لاتعداد معروف فلمیں شامل ہیں۔
انھوں نے فلم بھروسہ اور لواسٹوری کیلئے نگار ایوارڈز بھی حاصل کئے۔
ننھا کی اداکاری آج بھی پاکستانی فلموں کے عروج کا دور یاد دلاتی ہے۔ہردلعزیز ننھا کے گول مٹول چہرے پر معصومیت کھیلا کرتی تھی وہ اپنی فربہ جسمانی ہیت سے مزاح تخلیق کرتا ، وہ ا سٹیج پر چڑھتا تو دیکھنے والے ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہو جاتے ، ٹی وی اسکرین پر نمودار ہوتا تو’الف نون‘جیسے معیاری کھیل وجود پاتے اور فلم کے پردے پر اس کے انداز سب سے جداگانہ ہوتے۔
ننھے اور علی اعجاز نے اپنے فنی کیریئر کا آغاز ایک ساتھ کیا، تھیٹر اور ٹی وی کے ادوار گزار کر دونوں ایک ساتھ پردہ سکرین پر نمودار ہوئے ، ان دونوں کا ساتھ ننھے کی وفات تک قائم رہا۔
عین عروج میں وہ ایک اداکارہ نازلی کی زلف کا اسیر ہو کر دل ہار بیٹھا، محبت اسے راس نہ آ سکی ، وہ بے وفائی کی چوٹ کو نہ برداشت کر سکا اور 2 جون 1986ءکو جان وار بیٹھا۔
رفیع خاور المعروف ننھا نے تمام عمر لوگوں میں مسکراہٹیں بانٹیں لیکن اس کی زندگی کا ڈراپ سین بہت پردرد تھا جسے لوگ آج تک نہیں بھلا سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *