Haq Mahar حق مہر

اسلام میں نہ صرف خواتین کے حقوق کا خیال رکھا گیا ہے بلکہ خواتین کوہر سطح پر بھر پور تحفظ بھی فراہم کیا گیا ہے۔شادی کے موقع پر خواتین کیلئے حق مہر مقرر کر دیا گیا ہے جسکا اولین مقصد شادی شدہ زندگی میں خواتین کوتحفظ فراہم کرنا ہے۔ حق مہر کے حوالے سے ہمارے ہاں خاصی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں،حق مہر کتنا رکھا جائے ، شرعی حق مہر کیا ہے اور حق مہر کی ادائیگی کا کیا طریقہ کار ہے ،عام آدمی ان تمام اُمور سے کسی قدر ناواقف ہے، یہی وجہ ہے کہ نکاح نامے سے لے کر طلاق اور حق مہر سے شروع ہونے والے جھگڑے خاندانی جھگڑوں کی شکل اختیار کر جاتے ہیں بات کورٹ کچہری تک پہنچتی ہے اور معاملہ سالوں پر محیط ہو جاتا ہے ،اسی حوالے سے ہم نے معروف قانون دان صالحہ نعیم سے بات کی تو انھوں نے ہمیں بتایا کہ ہمارے ہاں حق مہر خاندانی رسوم و رواج کے مطابق طے کیا جاتا ہے جبکہ حق مہر طے کرتے ہوئے لڑکے کی مالی حیثیت کو مد نظر ضرور رکھنا چاہئیے:
شرعی حق مہر کیا ہے اور اِسے سکہ رائج الوقت کے مطابق کس طرح مقرر کیا جا سکتا ہے، اس بارے میں صالحہ نعیم کہتی ہیں:
یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ عموماً تحفے تحائف کو بھی مہر میں شامل کر لیا جاتا ہے ،اسکے علاوہ زیادہ تر کیسز میں خواتین سے حق مہر معاف کروا لیا جاتا ہے اور خاندانی دباﺅ میں آکر خواتین حق مہر معاف کر بھی دیتی ہیں ،صالحہ نعیم کا کہنا ہے کہ اُنکے پاس اب تک ایسا کوئی کیس نہیں آیا جس میں خواتین کو احسن طور پرحق مہر ادا کر دیا گیا ہو:
بیشتر گھرانوں میں زیادہ سے زیادہ مہر محض دکھاوے کے طور پر طے کیا جاتا ہے دوسری جانب کئی گھرانوں میں خواتین پر یہ دباﺅ ہوتا ہے کہ وہ شادی کے پہلے روز ہی حق مہر معاف کر دیں اور اگر وہ مہر معاف نہ کریں تو بھی ادائیگی میں تاخیر کی جاتی ہے یا ادا ہی نہیں کیا جاتا،اس بارے میںمعروف قانون دان دھنی بخش اوٹھو کا کہنا ہے:
روز مرہ زندگی کے بیشتر معاملات کی طرح حق مہر کے بارے میں بھی کئی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں ،دیکھا گیا ہے کہ اس نوعیت کے انتہائی حساس معاملات میں نہ صرف لوگوں کی آگہی نہ ہونے کے برابر ہے بلکہ شادی بیاہ کے موقع پر اس نوعیت کے معاملات محض کاغذی کارروائی کے طور پر نپٹادیے جاتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *