انڈونیشیاءکے جزیرے بالی کی موسیقی اور رقص یورپ میں بہت تیزی سے مقبول ہورہا ہے۔
Made Agus Wardana انڈونیشیاءکی روایتی آلہ موسیقی gamelan کو بجانے میں مصروف ہیں۔یہ Made Agus کا شوق نہیں بلکہ جنون ہے۔ ان کا گروپ باقاعدگی سے یورپ بھر میں منعقد ہونے والے بین الاقوامی فیسٹیولز میں شرکت کرتا رہتا ہے۔
Gamelan” (male) Made میری ذات کا ایک حصہ ہے، یہ میری زندگی ہے۔ میں اس کو بجا کر بہت خوشی محسوس کرتا ہوں”۔
انھوں نے حال ہی میں بیلجئیم کے دارالحکومت میں ہونے والے ایک میلے میں شرکت کی، جو ایک چھوٹے قصبے Burgelette کے Pairi Daizi Park میں ہوا۔ Made Agus اس میلے میں بہت سرگرم نظر آئے، کبھی وہ ڈھول بجاتے نظر آتے تو کبھی میلے کی میزبانی کے فرائض یا تصاویر کھینچنے میں مصروف رہے۔
Made Agus Wardana، 1996ءمیں یورپ میں انڈونیشیاءکے ثقافتی مشن کی حیثیت سے آئے، انھوں نے برسلز میں لوگوں کو بالی کی روایتی موسیقی سے روشناس کرایا، یہاں تک کہ اپنی آمد کے بعد جنوری کے مہینے جو بیلجئیم کا سرد ترین مہینہ ہوتا ہے میں وہ انتہائی مصروف رہے۔انھوں نے یورپی باشندوں کو gamelan بجانے کی تربیت دینا شروع کی، جبکہ انڈونیشین سفارتخانے میں اپنا ایک گروپ تشکیل دیا۔آج وہ ہر ماہ مغربی یورپ کے ممالک کے کم از کم دو دورے کرتے ہیں۔
(male) Made 2003″ءاور 2004ءکی بات ہے جب میں معذور بچوں کو gamelan کی تربیت دیتے ہوئے اس وقت حیران رہ گیا، جب یہ بچے اس مشکل ساز کو انتہائی مہارت سے بجانے لگے۔ اس ساز کو بجانا بہت مشکل کام ہے مگر ان بچوں نے واقعی مجھے حیرت زدہ کردیا۔ میں اس موقع پر ان کی خوشی دیکھ کر بہت خوش ہوا۔ اس کے علاوہ جب ان بچوں نے بالی کے روایتی رقص کا کمال مہارت سے مظاہرہ کیا تو مجھے دلی مسرت ہوئی”۔
بیلجئیم آمد کے دو سال بعد اپنے دوستوں اور خاندان کی مدد سے Made Agus Wardana نے بالی کی روایتی موسیقی کو فروغ دینے والا گروپ تشکیل دیا۔ جسے بیلجئیم سمیت دیگر پڑوسی ممالک میں بھی مقبولیت ملی۔ Made کا کہنا ہے کہ اپنے ملک سے دور یہاں موسیقی سے لوگوں کو لطف اندوز کرنا کافی مختلف کام لگتا ہے۔
(male) Made “بالی میں ہمیں مذہب، روایات اور اپنے ارگرد کی صورتحال کے بارے میں معلوم ہوتا ہے۔ وہاں ہم جیسے لوگ ایک فنکار کی حیثیت سے بڑے ہوتے ہیں، مگر جب ہم کسی اور ملک میں ہوتے ہیں تو صورتحال بالکل مختلف ہوتی ہے۔ یہاں ہم اپنے فن کا مظاہرہ پیشہ ور انداز میں کرتے ہیں”۔
Made Agus Wardana یورپی موسیقاروں کے ساتھ ملکر بھی کام کرتے ہیں۔ انھوں نے ایک گیت Dwi Smara تخلیق کیا ہے، جس میں بالی کی روایتی موسیقی کو بیلجئیم کے موسیقار کے ساتھ ملکر ایک نئی شکل دی گئی ہے۔
یہ گیت بالی اور بیلجئیم سے محبت کے بارے میں ہے۔
(male) Made “میں بالی میں پچیس سال تک مقیم رہا، جبکہ گزشتہ سولہ سال سے میں بیلجئیم میں موجود ہوں۔ میں دونوں جگہوں سے محبت کرتا ہوں۔ مجھے بالی کی ثقافت اور وہاں کی سادگی سے محبت ہے۔ مگر مجھے یورپ کی زندگی سے بھی محبت ہے جو بالی سے بالکل مختلف ہے”۔
Made کی والدہ رقاصہ تھیں، جبکہ ان کے والد ڈھول بجاتے تھے۔ دودوہائیوں قبل Made کو بالی کا بہترین ڈھول بجانے والا سمجھا جاتا تھا۔
یورپ میں اپنے طویل قیام کے دوران Made نے موسیقی کے دیگر سازوں جیسے saxophone اور ڈرم وغیرہ بجانے میں بھی مہارت حاصل کرلی ہے۔ چار سال قبل انھوں نے ایک بینڈ Amritha تشکیل دیا، جس کا ایک گیت Taksu برسلز کے ایک کنسرٹ میں انتہائی مقبول ہوا۔بالی کی ثقافت میں پرورش پانے والے Madeاپنے آبائی وطن کی روایات سے اپنے بچوں کو بھی متعارف کرانے کی کوشش کررہے ہیں۔انھوں نے اپنے بچوں کو gamelan بجانے اور رقص کی تربیت دی ہے۔
(male) Made “وہ ایک خاص دن تھا جب بیلجئیم کے Musical Instrument Museum نے خاندان کا دن منانے کا فیصلہ کیا۔ میرا خاندان جو پانچ افراد پر مشتمل تھا، نے اس دن میوزیم میں gamelan بجایا۔ میں نے روایتی ڈھول بجایا جبکہ میری بیوی نے رقص کیا”۔
Made خوش ہیں کہ وہ بالی کی ثقافت کی خوبصورتی اپنے بچوں تک پہنچانے میں کامیاب رہے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ وطن سے ہزاروں میل دور ہونے کے باوجود اپنا کام جاری رکھیں گے۔