(Filipino Teachers Demand a Fair Deal in Thailand) تھائی لینڈ میں فلپائنی اساتذہ کو درپیش مشکلات

 

آسیان کی جانب سے 2015ءمیں خطے کیلئے نئی اقتصادی اصلاحات متعارف کرائی جانی ہیں، ان اصلاحات سے خطے کے ممالک کے درمیان ورکرز کی آمدورفت بھی آسان ہوجائے گی، توقع ہے کہ ان اصلاحات سے تھائی لینڈ میں فلپائنی اساتذہ کی مانگ بھی بڑھے گی، تاہم تھائی لینڈ میں موجود فلپائنی افراد کا کہنا ہے کہ انہیں متعصبانہ روئیے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

تھائی لینڈ میں فلپائنی ورکرز کیلئے قائم گروپ United Filipinos کے تحت ایک تقریب کا انعقاد ہورہا ہے، جس کا مقصد رواں سال کے منصوبوں کیلئے فنڈز اکھٹے کرنا ہے، جبکہ یہاں انگریزی پڑھانے والے فلپائنی اساتذہ کی حوصلہ افزائی کرنا بھی ایک مقصد ہے۔ Romney Sison اس گروپ کے سیکرٹری جنرل ہیں۔

 (male) Romney Sison “ہمارے گروپ کے اجلاسوں میں ہمیشہ فلپائنی افراد کو دیگر غیرملکی ورکرز کے مقابلے میں کم تنخواہیں دینے کا معاملہ ضرور اٹھایا جاتا ہے، ایسا لگتا ہے کہ یہاں کوئی معیار ہی موجود نہیں، متعدد اساتذہ کو کم تنخواہیں اس لئے ملتی ہیں کہ وہ فلپائنی ہیں۔ بیشترفلپائنی مجبوراً کم تنخواہیں قبول کرلیتے ہیں تاکہ اپنے گھروں کو رقم بھیج سکیں”۔

تھائی لینڈ میں بیشتر فلپائنی افراد پڑھانے کا ہی کام کرتے ہیں، تاہم تعلیمی شعبہ بغیر ضابطوں کے کام کررہا ہے۔ Romney ایک استاد ہیں۔ وہ خود کو خوش قسمت تسلیم کرتے ہیں، کیونکہ وہ ایک بین الاقوامی اسکول میں 14 سال سے پڑھا رہے ہیں، مگر دیگر فلپائنی اتنے خوش قسمت نہیں۔Mayet Brobo بینکاک کے ایک سرکاری اسکول میں انگریزی پڑھاتی ہیں۔

 (female) Mayet Brobo “فلپائنی اساتذہ کے ساتھ یورپی اساتذہ کے مقابلے میں زیادہ خراب رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔ تھائی باشندے یورپی افراد کا تو احترام کرتے ہیں، جبکہ وہ ہم سے نفرت کرتے ہیں”۔

تھائی لینڈ میں گزشتہ دس برسوں سے انگریزی پڑھانے کیلئے غیر ملکی اساتذہ کو بھرتی کیا جارہا ہے، یہ منصوبہ سابق وزیراعظم Thaksin Shinawatra نے شروع کیا تھا، جس کا مقصد انگریزی زبان سے نابلد مقامی اساتذہ کی کمی کو پورا کرنا تھا۔ فلپائن میں انگریزی کو کاروباری زبان کا درجہ حاصل ہے، یہی وجہ ہے کہ تھائی لینڈ میں سب سے زیادہ فلپائنی ہی آئے۔ اس وقت تھائی لینڈ میں موجود غیرملکی اساتذہ میں سے 25 فیصد فلپائنی باشندے ہیں، تاہم ان کی تنخواہیں یورپی نژاد اساتذہ کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔ Mayet Broboاس بارے میں بتارہی ہیں۔

 (female) Mayet Brobo “کچھ تھائی اسکولوں میں فلپائنی اساتذہ سے نفرت انگیز سلوک ہوتا ہے، جبکہ یورپی بھی اس معاملے میں تھائی افراد سے مختلف نہیں”

اس وقت یورپ یا مغربی دنیا سے آنے والے استاد کو تھائی لینڈ میں ساڑھے سات سو سے ایک ہزار ڈالر ماہانہ دیئے جارہے ہیں، جبکہ فلپائنی اساتذہ کی تنخواہیں اس سے پچاس فیصد کم ہے۔ تھائی اسکولوں کا موقف ہے کہ فلپائنی اساتذہ کی انگریزی کی استعداد یورپی باشندوں سے کم ہے، جبکہ فلپائنی معیار تعلیم بھی یورپ کے مقابلے میں زیادہ اچھا نہیں، تاہم فلپائنی اساتذہ اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ مسئلہ جلد کی رنگت کا ہے۔تھائی لینڈ میں فلپائن کے قونصل جنرل Edgar Badajos نے فلپائنی اساتذہ سے تعصبانہ روئیے کا اعتراف کیا ہے۔

 (male) Edgar Badajos “اب ہم لوگ اپنے جسموں کا رنگ تو تبدیل نہیں کرسکتے۔ اگر ہماری رنگت سانولی ہے تو وہ سانولی ہی رہے گی۔ اگر آپ سفید فام ہیں تو اس میں کوئی تبدیلی نہیں آسکتی۔ کچھ تھائی حلقے سفید فام اساتذہ پر فخر کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ انہیں تنخواہیں بھی زیادہ دی جاتی ہیں۔ مگر یہ حقیقت ہے کہ جلد کی رنگت اور ذہنی استعداد کا آپس میں کوئی مقابلہ نہیں، لوگوں کو نسلی تعصب کی بجائے صرف صلاحیت پر توجہ دینی چاہئے”۔

انکا کہنا ہے کہ کئی بار فلپائنی بھی اپنے ہم وطنوں کا حق مارلیتے ہیں۔

 (male) Edgar Badajos “ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ فلپائنی شہری بھی ایک دوسرے کی جڑیں کاٹ رہے ہیں، وہ ایک دوسرے سے خود مسابقت کررہے ہیں۔ یہ طلب و رسد کا سوال ہے، یہاں اب تک بہت سپلائی ہوچکی ہے، اور چونکہ اب تھائی لینڈ کو متعدد آپشنز دستیاب ہیں اس لئے تنخواہوں کی شرح میں کمی آرہی ہے۔ کچھ فلپائنی اساتذہ خود بھی کم تنخواہوں پر کام کرنے کیلئے تیار ہوگئے ہیں۔ مثال کے طور پر تھائی افراد تین یا چار سو ڈالرز کی پیشکش کرتے ہیں اور بیشتر فلپائنی اساتذہ اس پیشکش کو قبول کرلیتے ہیں”۔

متعدد فلپائنی اساتذہ جو تعصب کا محسوس کرتے ہیں، وہ اس بات کی شکایت نہیں کرتے، کیونکہ انہیں ملازمتیں ختم ہونے کا ڈر ہوتا ہے۔ Karina Lama بینکاک سے باہر واقع ایک اسکول میں انگریزی پڑھاتی ہیں، انکا کہنا ہے کہ ان کے کنٹریکٹ پر سالانہ بنیادوں پر نظرثانی ہوتی ہے، اسی وجہ سے وہ اپنی ملازمت کو زیادہ محفوظ نہیں سمجھتیں۔

 (female) Karina Lama “ہر سال ستمبر میں ہمیں ملازمت کیلئے دوبارہ درخواست دینا پڑتی ہے، کیونکہ ہمارا کنٹریکٹ ایک سال کیلئے ہوتا ہے۔ اگر اسکول انتظامیہ ہمیں پسند کرتی ہو تو ہمارے نام دوبارہ بھرتی کیلئے Chulalangkorn University project کو بھجوا دیتی ہے۔ یہ وہ ایجنسی ہے جس نے ہمیں بھرتی کیا تھا۔ ہمیں ملازمت کے دوران کسی قسم کی سیکیورٹی حاصل نہیں، نہ ہی ہماری تنخواہوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ 2006ءسے ایک ہی تنخواہ پر کام کررہے ہیں، جبکہ موسم گرما کی تعطیلات کے دوران ہمیں تنخواہ کا صرف ایک تہائی حصہ ملتا ہے، جبکہ اکتوبر میں تو تنخواہ ہی نہیں ملتی، کیونکہ اس وقت ہمیں دوبارہ بھرتی کیا جارہا ہوتا ہے”۔

تاہم ان تمام مشکلات کے باوجود وہ خود کو خوش قسمت تصور کرتی ہیں، کیونکہ ان کی تنخواہ پانچ سو ڈالر ہے اور انکے پاس سرکاری ورکنگ پرمٹ موجود ہے۔ یہاں متعدد فلپائنی اساتذہ کو ورک ویزا دستیاب نہیں،اور وہ یہاں سیاحتی ویزے پر کام کرنے پر مجبور ہیں، جس کی ہر دو یا چار ہفتے بعد تجدید کرانا پڑتی ہے۔ Edgar Badajos کا کہنا ہے کہ فلپائنی حکومت اس مسئلے پر قابو پانے کیلئے کوشش کررہی ہے۔

 (male) Edgar Badajos “ہم تھائی لینڈ سے دوطرفہ معاہدہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں، ہمیں توقع ہے کہ تھائی حکومت حکومتی سطح پر اساتذہ یا دیگر ورکرز کی بھرتیوں کیلئے تیار ہوجائے گی، جس سے ہمیں کم از کم تنخواہوں کا تعین کرنے کا موقع مل سکے گا۔ اس وقت فلپائنی افراد مختلف ایجنسیوں کے ذریعے بھرتی ہوکر یہاں آرہے ہیں، انکی بھرتیاں بغیر کسی ضابطے کے ہوجاتی ہیں جسکی وجہ سے انہیں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس طریقہ کار کو کسی ضابطے میں لایا جائے اور ہم اپنے ورکرز کی صورتحال پر نظر رکھ سکیں”۔

تاہم یہ حکومتی معاہدہ بہت جلد ہونے کا امکان نہیں۔ایک بار پھر فنڈز اکھٹے کرنے کیلئے ہونیوالی تقریب میں چلتے ہیں، Bing Arias، United Filipinos کی صدر ہیں۔

 (female) Bing Arias “ہم نے فلپائنی اساتذہ کی ایسوسی ایشن تشکیل دی ہے، تاکہ اس کے ذریعے تھائی لینڈ میں موجود فلپائنی اساتذہ کی مشکلات اور مسائل کو اٹھایا جاسکے۔ مجھے توقع ہے کہ فلپائنی صدر اور حکومت اس مسئلے کو سنے گی اور تھائی لینڈ میں مقیم فلپائنی برادری کی مشکلات کو حل کرے گی”۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *