Target killing victims families ٹارگٹ کلنگ سے متا ثرہ خا ندا ن

ہر ذی روح کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے ،لیکن یہ موت المیہ تب بن جاتی ہے جب اپنے ہی جیسے ایک انسان کے ہاتھوں ایک انسان موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔ٹارگٹ کلنگ میں مرنے والے تو اس دنیا سے چلے جانتے ہیں،لیکن اپنے پیچھے ان گنت داستانیں اور ایک اجڑی ہوئی دنیا چھوڑ جاتے ہیں،سسکتی ہوئی فرےاد کرتی ماں،روتی تڑپتی بیوی اور بلکتے بچے ۔دوست احباب،رشتہ دار سب ہی تسلی دلاسے دینے آتے ہیں،لیکن ان کا درد تسلی کے الفاظ سے کم ہونے والا نہیں ہوتا۔پولیس کانسٹیبل محمد اعجاز بیوی،ماں اور چار بچوں کا واحد کفیل تھا،اعجاز کی بیوہ اور بچوںکی فرےاد آسمانوں کا سینہ بھی چیر دیتی ہے،
روح فرسا منظر تو تب ہوتا ہے جب بیوی کے سامنے اس کے زندگی کے ساتھی کو بے دردی سے قتل کر دیا جاتا ہے،اور وہ اپنے جیون ساتھی کو اپنی آنکھوں کے سامنے بچھڑتا دیکھتی ہے اور بے بسی کی تصویر بنی رہتی ہے،ایسا ہی واقعہ پیش آیا سعود کے گھر میں،جس کی بیوی اس منظر کو زندگی بھر بھلا نہ پائے گی،
یہ سچ ہے کہ ایک بیٹی کو اپنے باپ سے بہت محبت ہوتی ہے ،دن بھر کے انتظار کے بعد شام کو اپنے ابو کے لوٹ آنے پر بے پناہ خوشی کا اظہار کرتی ان کی خدمتیں کرتی ہے،ایک بیٹی کے سر سے باپ کاسایہ زبردستی چھین لیا جائے تو اس کا اندازہ کرنا نا ممکن ہے،رمضان جیسے مقدس مہینے میں بھی موت بانٹنے والوں کے دل میں رحم نہیں جاگتا ،اور روزہ کشائی کے لئے اپنے باپ کی گھر واپسی کی راہ تکنے والی بیٹی کی آنکھوں میں یہ انتظار زندگی بھر کے لئے ٹھہر جاتا ہے،
بچے کی جدائی کا غم ،اس کی موت کا درد ایک ماں ہی محسوس کر سکتی ہے،ٹارگیٹ کلنگ میں مرنے والوں کی مائیں اپنے جگر گوشوں کی آجج بھی راہ تکتی ہیں،اپنے بچے کی اچانک موت کا صدمہ زندگی بھر کا روگ بن جاتا ہے،
ٹارگٹ کلنگ کا شکار مرد ہی ہوا کرتے ہیں لیکن اب خواتین کو بھی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بناےا جانے لگا ہے جو کہ ایک انتہائی شرمناک فعل ہے،دنیا بھر میں کہیں بھی جنگ کی صورت میں بھی خواتین کو نشانہ نہیں بناےا جات لیکن عورت کی حرمت اور تقدس بھی اب ابن آدم کے ذہنوں سے اٹھتا جا رہا ہے،ٹارگٹ کلنگ میں مرنے والے تو اس دنیا سے چلے جاتے ہیں لیکن ان کے گھر کی خواتین کس طرح ان کے بعد زندگی کا بوجھ اور گھر کے خرچوں کے پہاڑ کو سر کرتی ہیں ،یہ وہ ہی جانتی ہیں جن کو یہ سب جھیلنا پڑتا ہے۔ٹارگٹ کلنگ میں تو کوئی خاطر خواہ کمی دیکھنے میں نہیں آ رہی لیکن حکومت کی طرف سے ٹارگٹ کلنگ کے شکار خاندانوں کی کفالت کا کوئی انتظام نہیں اور نہ ہی سیاسی اور سماجی تنظیمیں اس میں موثر کردار ادا کر رہی ہیں،جس طرف توجہ دینے کی بہت ضرورت ہے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *